• Wed, 16 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہند-نیوزی لینڈ آزادانہ تجارتی معاہدہ کا آئندہ ماہ سے نفاذ

Updated: September 16, 2026, 12:34 PM IST | Agency | New Delhi

ہندوستان کی ۱۰۰؍ فیصد مصنوعات کو درآمدی ٹیکس سےاستثنیٰ حاصل ہوگا، ۱۵؍سال میں۲۰؍ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع، روزگار کے مواقع بھی ملیں گے۔

Negotiations on a trade agreement between India and New Zealand had been ongoing since 2010; the process concluded in 2025, and the agreement was signed in 2026. Photo: INN
ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان تجارتی معاہدہ پر ۲۰۱۰ء سے بات چیت چل رہی تھی جو ۲۰۲۵ء میں تکمیل کو پہنچی اور ۲۶ء میں معاہدہ ہوا۔ تصویر: آئی این این

ہند-نیوزی لینڈ آزادانہ تجارتی معاہدہ(ایف ٹی اے) آئندہ ماہ (۱۹؍ اکتوبر) سے نافذ العمل ہوجائےگا۔اس کی اطلاع وزارت تجارت میں موجود ایک افسر نے منگل کو دی۔ دونوں ممالک نے۲۷؍ اپریل کو اس معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اس کا مقصد دونوں  معیشتوں  کے درمیان اشیا اور خدمات کی تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔اس معاہدے کے تحت نیوزی لینڈ نے ہندوستان کی۱۰۰؍فیصد برآمدات کو ٹیکس سے استثنیٰ  دینےکی بات کہی ہے۔ یعنی  ہندوستان سے نیوزی لینڈ پہنچنے والے سامان پر نیوزی لینڈ کوئی درآمدی ڈیوٹی نہیں لے گا۔

یہ بھی پڑھئے:نوئیڈا میں کسانوں کے احتجاج کا دوسرا دن، مطالبات منوانے تک ڈٹے رہنے کااعلان

۱۵؍ سال میں ۲۰؍ کروڑ کی سرمایہ کاری

دونوں ممالک نے سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ معاہدے کے تحت نیوزی لینڈ سے اگلے ۱۵؍  سال میں  ہندوستان  میں۲۰؍ ارب ڈالر یعنی تقریباً ۱ء۹؍ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی امید ہے۔ نیوزی لینڈ فی الحال  ہندوستان کی اہم مصنوعات پر ۱۰؍فیصد تک کی درآمدی ڈیوٹی لگاتا ہے۔ ان میں سیرامک، قالین، گاڑیاں اور آٹو کمپوننٹس شامل ہیں۔ ایف ٹی اے نافذ ہونے کے بعد ان تمام مصنوعات کی برآمدات کو نیوزی لینڈ میں ٹیکس سے چھوٹ مل  جائے گی۔

۵؍ ہزار ہندوستانیوں کو روزگار

  ہندوستان  نے آئی ٹی، تعلیم، مالیاتی خدمات، تعمیرات اور سیاحت جیسے خدمات کے اہم شعبوں میں عالمی بازار میں اپنی الگ شناخت بنائی ہے۔ معاہدے کے تحت آیوش، یوگا انسٹرکٹرس، ہندوستانی خانساماؤں اور موسیقی سکھانے والوں کیلئے بھی مواقع پیدا ہوں گے۔

 ہر سال ۵؍ ہزار ملازمتیں

ایف ٹی اے  کے تحت نیوزی لینڈ میں عارضی ملازمت کیلئے  داخلے کا ایک نیا ویزا  بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے تحت ہر سال۵؍ہزار ہنرمند ہندوستانیوں  کو نیوزی لینڈ میں۳؍سال تک کام کرنے کیلئے ویزا جاری کیا جائےگا۔  انجینئرنگ، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خاص طور پر مواقع ہوں گے۔ اس کے علاوہ ہندوستانی  شراب اور اسپرٹ کو بھی نیوزی لینڈ کی مارکیٹ میں ڈیوٹی فری رسائی ملے گی۔

یہ بھی پڑھئے:سنبھل کےمسلم ٹیچر کو بڑی راحت،ہائی کورٹ نےمعطلی کے حکم پر روک لگائی

 نیوزی لینڈ کو کیا رعایتیں ملیں گی

  سیب، کیوی فروٹ اور شہد جیسی اشیاء پر ٹیرف میں رعایت دی گئی ہے  لیکن یہ رعایت کوٹہ کی حد اور کم از کم درآمدی قیمت کی شرط کے ساتھ ہوگی۔اس کے علاوہ نیوزی لینڈ کو ہندوستان  میں اپنی۵۴؍ فیصد سے زیادہ برآمدات پر فوری طور پر صفر ڈیوٹی کی سہولت  ملے گی۔ اس میں بھیڑ کا گوشت، اون، کوئلہ اور جنگلاتی مصنوعات شامل ہیں۔  

 ڈیری مصنوعات میں رعایت نہیں دی گئی

ہندوستان نے اپنے گھریلو مفادات کے تحفظ کیلئے ڈیری مصنوعات (دودھ، کریم، پنیر وغیرہ) نیز  پیاز، دالیں، چینی، اسلحہ و گولہ بارود اور کچھ دھاتوں جیسے حساس شعبوں کو رعایت کی فہرست سے باہر رکھا ہے۔

ہندوستان کیلئے فوائد ایک نظر میں
ٹیکسٹائل،  چمڑا، جوتے، قالین، زیورات، انجینئرنگ  اور غذائی اشیا کی برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔
چھوٹی اور درمیانی صنعتوں، کاریگروں اور نوجوانوں کو نئے کاروباری مواقع ملیں گے۔
نیوزی لینڈ اگلے۱۵؍برسوں میں ہندوستان میں۲۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریگا۔
ہندوستانی آئی ٹی، انجینئرنگ، تعلیم، صحت، تعمیرات، سیاحت اور مالیاتی خدمات کے شعبوں کو نیوزی لینڈ میں بہتر مواقع ملیں گے
نیوزی لینڈ میں  ہر سال۵؍ ہزار روزگار کی امید
ہندوستانی ڈیری صنعت محفوظ رہےگی

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK