ہندی سنیما میں ایسے نغمہ نگار بہت کم ہوئے ہیں جنہوں نے فلمی گیت کو محض موسیقی کے ساتھ چلنے والے الفاظ کے بجائے کہانی، کردار اور جذبات کاحصہ بنا دیا۔پرسون جوشی انہی چند فن کاروں میں شامل ہیں۔
EPAPER
Updated: September 16, 2026, 12:44 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
ہندی سنیما میں ایسے نغمہ نگار بہت کم ہوئے ہیں جنہوں نے فلمی گیت کو محض موسیقی کے ساتھ چلنے والے الفاظ کے بجائے کہانی، کردار اور جذبات کاحصہ بنا دیا۔پرسون جوشی انہی چند فن کاروں میں شامل ہیں۔
ہندی سنیما میں ایسے نغمہ نگار بہت کم ہوئے ہیں جنہوں نے فلمی گیت کو محض موسیقی کے ساتھ چلنے والے الفاظ کے بجائے کہانی، کردار اور جذبات کاحصہ بنا دیا۔پرسون جوشی انہی چند فن کاروں میں شامل ہیں۔ وہ شاعر بھی ہیں، نغمہ نگار بھی، مکالمہ نگار بھی، اسکرین رائٹر بھی اوراشتہارات کی دنیا کے معروف تخلیقی ماہر بھی۔’رنگ دے بسنتی‘، ’تارے زمین پر‘، ’فنا‘، ’دہلی۶‘ اور ’بھاگ ملکھا بھاگ‘جیسی فلموں میں ان کے الفاظ نے کہانی کو ایک الگ احساس دیا۔ ۲۰۱۵ء میں انہیں پدم شری سے بھی نوازا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: رشمیکا مندانا معروف گلوکارہ ایم ایس سُبولکشمی کا کردار ادا کریں گی
پرسون جوشی کی پیدائش ۱۶؍ستمبر ۱۹۷۱ءکواتراکھنڈ کے الموڑا میںہوئی۔ان کا بچپن ایسے ماحول میں گزرا جہاں تعلیم، ادب اور موسیقی کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ ان کے والد ڈی کے جوشی سرکاری افسر تھے جبکہ والدہ سشما جوشی سیاسیات کی لیکچرر ہونے کے ساتھ آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستہ تھیں اور کلاسیکی موسیقی کی تربیت حاصل کرچکی تھیں۔ گھر کے اسی ماحول نے پرسون کے اندر زبان، موسیقی اور ادب کے لیے دلچسپی پیدا کی۔حیرت کی بات یہ ہے کہ فلمی دنیا میں آنے والے پرسون کا تعلیمی پس منظر فلم یا ادب نہیں بلکہ سائنس تھا۔ انہوںنے فزکس میں تعلیم حاصل کی اور بعد میں ایم بی اے کیا۔ ان کےمطابق بچپن سے ہی لکھنے کا شوق تھا اور صرف ۱۷؍برس کی عمر میں ان کی پہلی کتاب ’میں اور وہ‘ شائع ہوگئی تھی۔ بعد میں انہوں نے مزید کتابیں بھی لکھیں۔ایم بی اے کے بعد پرسون جوشی نے اشتہارات کی دنیا کو پیشہ بنایا۔ ۱۹۹۲ءمیںانہوں نے اوگلوی اینڈ میتھر سے اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ ابتدا میں انہیں اس شعبے کا ماحول بالکل نیا محسوس ہوا، لیکن رفتہ رفتہ ان کی تخلیقی صلاحیت نے انہیں اشتہاری دنیا میں نمایاں مقام دلادیا۔ بعد میں وہ میک کین ورلڈ گروپ سے وابستہ ہوئے اور کمپنی میں اعلیٰ تخلیقی عہدوں تک پہنچے۔
اشتہارات کے میدان میں ان کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے لکھے ہوئے کئی جملے عام بول چال کا حصہ بن گئے۔ ’ٹھنڈا مطلب کوکا کولا‘ ان کی تخلیقی شناخت سے جڑا مشہور اشتہاری جملہ ہے۔ اشتہارات نے انہیں یہ سکھایا کہ چند الفاظ میں ایک پورا خیال، احساس یا کہانی کیسے بیان کی جاسکتی ہے۔ یہی ہنر بعد میں ان کے فلمی گیتوں میں بھی دکھائی دیا۔
یہ بھی پڑھئے:بگ باس۲۰؍ ویک اینڈ کا وار: سلمان خان نے قاضی توقیر کی جدوجہد کو سراہا
پرسون جوشی نے فلمی نغمہ نگار کی حیثیت سے ابتدا ’لجا‘ سے کی۔ تاہم انہیں حقیقی شناخت ’فنا‘، ’رنگ دے بسنتی‘، ’تارے زمین پر‘ اور ’دہلی۶‘ جیسی فلموں سے ملی۔ ان کے گیتوں میں ایک خاص بات یہ رہی کہ زبان نہ تو بہت مشکل ہوتی ہے اور نہ ہی جذبات کو غیر ضروری طور پر بھاری الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ وہ روزمرہ زندگی سے الفاظ اٹھاتے ہیں اور انہیں شاعرانہ کیفیت عطا کردیتے ہیں۔
پرسون جوشی کو ’تارے زمین پر‘ کے لیے۲۰۰۷ءمیںبہترین نغمہ نگاری کانیشنل فلم ایوارڈ ملا۔۲۰۱۳ءمیں ’چٹاگانگ‘ کیلئےانہیں دوبارہ نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ وہ متعدد مرتبہ فلم فیئر کے بہترین نغمہ نگار کا ایوارڈ بھی حاصل کرچکے ہیں۔ ۲۰۱۵ءمیں حکومت ہند نے ادب، فن اور اشتہارات کے شعبے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں پدم شری عطا کیا۔