حکومت نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے خطے سے ایل پی جی کی سپلائی کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے، لیکن گھریلو پیداوار۴۰؍ فیصد تک پہنچ گئی ہے اور گھریلو کھپت کے لیے ملک میں اس وقت کافی ذخائر دستیاب ہیں۔
EPAPER
Updated: March 20, 2026, 7:47 PM IST | New Delhi
حکومت نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے خطے سے ایل پی جی کی سپلائی کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے، لیکن گھریلو پیداوار۴۰؍ فیصد تک پہنچ گئی ہے اور گھریلو کھپت کے لیے ملک میں اس وقت کافی ذخائر دستیاب ہیں۔
حکومت نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے خطے سے ایل پی جی کی سپلائی کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے، لیکن گھریلو پیداوار۴۰؍ فیصد تک پہنچ گئی ہے اور گھریلو کھپت کے لیے ملک میں اس وقت کافی ذخائر دستیاب ہیں۔ رسوئی گیس کے لیے ایل پی جی چھوڑ کر پی این جی اپنانے کی حکومتی اپیل کے بعد، ملک کے ۱۵؍ بڑے علاقوں میں۱۳۷۰۰؍ سے زائد پی این جی کنکشن دیے گئے ہیں اور ۷۵۰۰؍ صارفین نے ایل پی جی چھوڑ کر پی این جی کنکشن لیا ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ریاستوں کو ان کی ضرورت کی بنیاد پر تقریباً۱۱۳۰۰؍ ٹن تجارتی ایل پی جی بھی فراہم کی گئی ہے۔ ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کے خلاف مہم کے تحت ملک بھر میں مختلف مقامات پر ۴۵۰۰؍ سے زائد چھاپے مارے گئے ہیں۔ مغربی ایشیا میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے اب تک تقریباً تین لاکھ ہندوستانی وہاں سے وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔
وزارت پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے جمعہ کو مغربی ایشیا کی صورتحال پر منعقدہ بین وزارتی بریفنگ میں کہا کہ’’ملک میں تمام ریفائنریاں اپنی بلند ترین صلاحیت پر کام کر رہی ہیں۔ گھریلو ایل پی جی کی پیداوار ۴۰؍ فیصد تک پہنچ گئی ہے اور وافر اسٹاک دستیاب ہے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ۱۳۷۰۰؍ سے زائد پی این جی کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں اور تقریباً ۷۵۰۰؍ صارفین ایل پی جی سے پی این جی پر منتقل ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’جنگ کی وجہ سے ایل پی جی کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔ تاہم ایل پی جی سلنڈر کی ترسیل معمول کے مطابق ہے۔ ہمارے ڈسٹری بیوٹرز کے یہاں کسی قسم کی کمی کی اطلاع نہیں ملی۔ تقریباً ۹۳؍ فیصد بکنگ آن لائن ہو رہی ہیں۔ سلنڈر کی ترسیل آتھنٹیکیشن کوڈ کے ذریعے کی جا رہی ہے اور گھبراہٹ میں کی جانے والی بکنگ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ کل ہمیں تقریباً ۵۵؍ لاکھ ری فل بکنگ کی درخواستیں موصول ہوئیں۔‘‘ جوائنٹ سکریٹری نے بتایا کہ تجارتی ایل پی جی کے سلسلے میں تقریباً ۱۸؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے الاٹمنٹ آرڈر جاری کیے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ریاستوں کو ان کی مانگ کے مطابق تقریباً ۱۱۳۰۰۰؍ ٹن تجارتی ایل پی جی فراہم کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:آسٹریلیا کی خواتین ٹیم نے ویسٹ انڈیز کو ۴۳؍رنز سے شکست دی
تمام ریاستوں کو سپلائی دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ، تعلیمی اداروں اور اسپتالوں کو اس الاٹمنٹ کا تقریباً ۵۰؍ فیصد حصہ ملا ہے۔ مٹی کے تیل (کیروسین) کی اضافی الاٹمنٹ کے لیے تقریباً ۱۵؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے آرڈر جاری کیے ہیں۔ عہدیدار نے بتایا کہ ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کے خلاف مہم جاری ہے اور جمعرات کو ملک بھر میں۴۵۰۰؍ سے زائد چھاپے مارے گئے۔ انہوں نے کہاکہ ’’ان میں سے تقریباً ۱۱۰۰؍ چھاپے اتر پردیش میں مارے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تمل ناڈو، کیرالہ، جموں و کشمیر، پنجاب، مدھیہ پردیش، ہماچل پردیش، راجستھان اور دہلی میں بھی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی ٹیموں نے تقریباً ۱۸۰۰؍مقامات پر اچانک معائنہ بھی کیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:’’دھرندھر ۲‘‘ کا پائریٹڈ ورژن پاکستان پہنچ گیا
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں ایل پی جی کی پیداوار بڑھی ہے لیکن ہمیں اب بھی اس کی درآمد کی ضرورت ہے۔ مغربی ایشیائی ممالک میں بحران کے پیش نظر دیگر ممالک سے بھی ایل پی جی کی درآمد کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔