مظاہرین آسٹریلوی حکومت کے غزہ میں اسرائیلی حملوں پر موقف کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ البانیز نے بعد میں اس خلل کو اہمیت نہ دیتے ہوئے مجموعی طور پر تقریب کو ”انتہائی مثبت“ قرار دیا۔
EPAPER
Updated: March 20, 2026, 8:31 PM IST | Sydney
مظاہرین آسٹریلوی حکومت کے غزہ میں اسرائیلی حملوں پر موقف کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ البانیز نے بعد میں اس خلل کو اہمیت نہ دیتے ہوئے مجموعی طور پر تقریب کو ”انتہائی مثبت“ قرار دیا۔
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز کو عید الفطر کی نماز کے دوران ایک مسجد کا دورہ کیا جہاں انہیں احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ مظاہرین نے ان کے خطاب میں خلل ڈالا اور غزہ میں اسرائیل کے جنگی اقدامات پر ان کی حکومت کے موقف پر تنقید کی۔
یہ واقعہ مغربی سڈنی کی ’لکمبا مسجد‘ (Lakemba Mosque) میں پیش آیا، جہاں البانیز اور وزیرِ داخلہ ٹونی برک رمضان کے اختتام پر ہزاروں نمازیوں کے ساتھ عید کے جشن میں شریک ہوئے۔ اس دوران، مظاہرین وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے ”باہر نکلو!“ کے نعرے لگائے۔ مظاہرین نے غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے آسٹریلوی لیڈران پر محصور فلسطینی علاقے میں ہو رہی فلسطینیوں کی ”نسل کشی کے حامی“ ہونے کا الزام عائد کیا۔
PM AT LAKEMBA MOSQUE TODAY
— Dr David Adler (@DrDavidAdler1) March 19, 2026
Australian Prime Minister Anthony Albanese today visits the large radical mosque in Lakemba, Sydney.
There he is told that Muslim political influence is insufficient.
This year the 2026 census will record over 1 million Muslims in Australia for the… pic.twitter.com/MtmyYwOdMp
اس واقعہ کی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب منتظمین نے ہجوم کو پرسکون کرنے کی کوشش کی تو بدنظمی پھیل گئی۔ منتظمین نے شرکاء سے امن کی اپیل کرتے ہوئے کہا، ”پیارے بھائیو اور بہنو، پرسکون رہیں۔۔۔ یہ عید ہے، یہ خوشی کا دن ہے۔“ مظاہرین کو ہٹانے کیلئے سیکوریٹی اہلکاروں نے مداخلت کی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ایک گارڈ کو نعرے لگانے والے ایک شخص کو پکڑ کر باہر لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ جب البانیز اور برک مسجد سے باہر نکلے تو مظاہرین ”شیم آن یو“ (شرم کرو) کے نعرے لگاتے رہے۔
یہ بھی پڑھئے: مسجد اقصیٰ میں عید کی نماز پر پابندی، کشیدگی عروج پر، عالمی مذمت تیز
حکومت کے موقف پر تنقید
مظاہرین آسٹریلوی حکومت کے غزہ میں اسرائیلی حملوں پر موقف کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ البانیز نے بعد میں اس خلل کو اہمیت نہ دیتے ہوئے مجموعی تقریب کو ”انتہائی مثبت“ قرار دیا۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر ۳۰ ہزار افراد کے مجمع میں چند لوگ نعرے بازی کر رہے ہیں، تو اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔“ انہوں نے اشارہ کیا کہ اس غصے کا کچھ تعلق حکومت کے حالیہ فیصلے سے بھی ہو سکتا ہے جس کے تحت ۱۴ دسمبر کو سڈنی میں ہوئے ’بونڈی بیچ‘ حملے کے بعد متعارف کرائے گئے نئے سلامتی قوانین کے تحت ’حزب التحریر‘ کو ممنوعہ تنظیم قرار دیا گیا ہے۔