• Sat, 24 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رائےگڑھ سے تعلق رکھنےوالی لبنیٰ قاضی امریکہ میں جج مقرر

Updated: January 24, 2026, 12:34 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

قرآن مجید پرہاتھ رکھ کرایڈمنسٹریٹیو لاء جج کے طور پرحلف لیا،نیو جرسی کی پہلی مسلم خاتون جج ہونے کا بھی اعزاز۔

Associate Justice Rachel Weiner Apter, Lubna Qazi, her husband Ehsan Chaudhry, son Yasin and daughter Jinnah Chaudhry can be seen at the swearing-in ceremony. Picture: INN
اسوسی ایٹ جسٹس ریچل وینر اپٹر، لبنیٰ قاضی، ان کے خاوند احسان چودھری، بیٹا یاسین اور بیٹی جناح چودھری کو حلف برداری کے موقع پر دیکھاجاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این
رائےگڑھ سے تعلق رکھنےوالی ۴۵؍ سالہ لبنیٰ قاضی چودھری   نے جمعرات کو  امریکی ریاست نیوجرسی میں  ایڈمنسٹریٹیو لاء جج کے طورپر حلف لے کر  نیوجرسی کی پہلی خاتون مسلم جج ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔جمعرات کونیو جرسی کی سپریم کورٹ کے اسوسی ایٹ جسٹس ریچل وینر اپٹرکی موجودگی میں انہوںنے قرآن مجید پرہاتھ رکھ کر حلف لیا۔  امریکہ میں تعلیم وتربیت حاصل کرنے والی لبنیٰ کی پرورش دینی ماحول میں ہوئی۔ انہوں  نے انگریزی کے ساتھ عربی کی بھی تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ اپنے ۲؍ بچوں کوبھی گھرمیں عربی اور اُردو پڑھارہی ہیں۔
لبنیٰ کےوالد عنایت اللہ قاضی کا تعلق رائے گڑھ ضلع کےتلا تعلقہ سے ہے جبکہ لبنیٰ کی پیدائش کویت میں ہوئی ۔وہ والدین کےساتھ کویت میں ہی رہائش پزیر رہیں۔ ۱۹۹۰ءمیں اسکول کی چھٹی کےدوران تفریح کیلئے امریکہ گئی تھیں،اس دوران کویت میں جنگ ہونے کی وجہ سے  امریکہ میں ہی مستقل سکونت اختیار کر لی۔ کیلی فورنیا کے ایک معروف اسکول سے ہائی اسکول، یونیورسٹی آف کیلیفورنیاسےگریجویشن اور ویسٹرن اسٹیٹ یونیورسٹی کالج آف لاءسے وکالت کی ڈگری حاصل کی۔ 
۲۰۰۵ء میں احسان چودھری سے شادی  کےبعد وہ نیوجرسی منتقل ہو گئیں۔ وہاں۲۰؍ سال مختلف سرکاری محکموںمیں بحیثیت وکیل خدمات پیش کیں۔ ۲۰۲۵ء میں نیوجرسی کے گورنرکی ایماء پر انہیں ایڈمنسٹریٹیو لاء جج نامزد کیا گیا۔ جج مقرر ہونے پر لبنیٰ قاضی نے خوشی کا اظہار کرتےہوئے کہاہےکہ ’’سب سے پہلے میں  اللہ تعالیٰ کی شکرگزارہوں، جس نےمجھ اس غیر معمولی کامیابی سے نوازا۔یہ کامیابی صرف  میری نہیں ہے ۔ یہ کامیابی یہاں کے ہر فرد کی حمایت اور محبت سےملی ہے۔میری کامیابی میرے والدین ،بھائی بہن، خاوند اور ان کے اہل خانہ کی دعائوں کا نتیجہ ہے۔بحیثیت جج ، مجھ پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے ،اسے بخوبی نبھانے کی بھرپورکوشش کروںگی۔میری ترجیح ہوگی کہ کسی کےساتھ ناانصافی نہ ہو۔ اپنے قوم کے لوگوںکو امریکہ کے شہری حقوق سے آگاہ کرانےکی کوشش کرتی رہوں گی۔‘‘   
لبنیٰ قاضی انگریزی کےساتھ ہندی، کوکنی اور اردوروانی سے بول لیتی ہیںعلاوہ ازیںعربی بھی پڑ ھ لیتی ہیں۔اپنے۲؍بچوںیاسین چودھری (۱۷) اور جناح چودھری (۱۳)کوبھی وہ اُردو اور عربی کی تعلیم دے رہی ہیں۔لبنیٰ کے والد عنایت اللہ قاضی  نےخوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’لبنیٰ کی غیر معمولی کامیابی سے ہمارا پورا خانوادہ خوشی سے سرشار ہے۔ ہندوستانی حکومت نے ہمارے آباءواجداد کو کسی دورمیں’ قاضی‘ مقرر کیا تھا۔  وہ لوگ فریقین کےتنازعات کا فیصلہ کرتےتھے۔ آج میری بیٹی وہ بھی امریکہ میں اسی منصب پر فائز ہوئی ہے ،اس پر بڑا فخر محسوس ہورہاہے۔اللہ تعالیٰ اسے مزید کامیابیو ں سے نوازے یہی دعاہے۔‘‘
لبنیٰ ،انجمن اسلام گرلز بورڈ کی ایگزیکٹیو چیئرپرسن ڈاکٹر ریحانہ احمد کی نواسی ہیں۔انہوںنے بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھےلبنیٰ کی کامیابی پر ناز ہے۔ میری نواسی امریکہ میں جج منتخب ہوئی ہے،جو باعث  فخرہے۔ میری خواہش ہےکہ قوم کے سارے بچے بالخصوص لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے ملک اور ملت کانام روشن کریں ۔لبنیٰ توخیر میری نواسی ہے لیکن میں چاہتی ہوںکہ قوم کی سبھی لڑکیاں اس طرح کاکامیابیوں سے ہمکنار ہوں۔‘‘ایشین پیسفک امریکن لائرز اسوسی ایشن آف نیو جرسی نے لبنیٰ کی جج کی تقرری پر انہیں مبارکبادپیش کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK