• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

میکلمور تنازع: گریٹا تھنبرگ کا رد عمل، بااثر افراد پر دباؤ برقرار رکھنے پر زور

Updated: September 22, 2026, 9:03 PM IST | London

گریٹا تھنبرگ نے میکلمور کے ایڈ شیرن کے امریکی ٹور سے الگ ہونے کے تنازع پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ توجہ دونوں فنکاروں کے بجائے غزہ میں متاثر ہونے والے لوگوں اور بااثر افراد کو جواب دہ بنانے پر مرکوز ہونی چاہیے۔

Greta Thunberg. Photo: X
گریٹا تھنبرگ۔ تصویر: ایکس

سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے ریپر میکلمور کے ایڈ شیرن کے امریکی دورۂ موسیقی سے الگ ہونے کے حوالے سے جاری تنازع پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ مزید شدت اختیار کرنے کے دوران بااثر افراد پر دباؤ برقرار رکھا جانا چاہیے۔ تھنبرگ ان کئی فنکاروں اور معروف شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے میکلمور کی حمایت میں کھل کر آواز اٹھائی۔ میکلمور نے رواں ماہ کے اوائل میں نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں پرفارمنس کے دوران فلسطینیوں کی حمایت میں بیانات دیے تھے، جس کے بعد اسے شیرن کے ’لوپ ٹور‘ کی باقی امریکی تاریخوں سے الگ کردیا گیا تھا۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Greta Thunberg (@gretathunberg)

سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے اپنے بیان میں تھنبرگ نے کہا کہ بحث کو صرف دونوں موسیقاروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان لوگوں پر توجہ مرکوز رہنی چاہیے جو اس تنازع سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مسلسل دباؤ ڈالنے کی بھی اپیل کی اور کہا کہ بڑے پلیٹ فارم رکھنے والے لوگوں کو وسائل اور اثر و رسوخ تک زیادہ رسائی حاصل ہوتی ہے، اس لیے ان کی ذمہ داری بھی زیادہ ہے کہ وہ اپنے آرام دہ دائرے سے باہر نکلیں۔ انہوں نے ویڈیو کے ساتھ لکھا، ’’یہ ایڈ شیرن کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ زمین پر مرنے والے لوگوں، اس میں ملوث افراد کو جواب دہ ٹھہرانے اور ہر ذمہ دار شخص پر دباؤ ڈالنے کے بارے میں ہے۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تنازع میکلمور اور شیرن سے آگے بڑھ گیا ہے۔ شیرن کے ٹور میں پرفارم کرنے والے کئی فنکاروں، جن میں فنِیاس، لوکاس گراہم اور ایرن رو بھی شامل ہیں، نے میکلمور سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے آئندہ پروگراموں سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔ شیرن کے بیکنگ بینڈ کے بعض ارکان بھی الگ ہوگئے ہیں۔

میکلمور اور ایڈ شیرن کے درمیان کیا ہوا؟

میکلمور شیرن کے امریکی دورے میں افتتاحی فنکار کے طور پر پرفارم کر رہے تھے۔ انہوں نے ۴؍ ستمبر کو میٹ لائف اسٹیڈیم میں پرفارمنس کے دوران فلسطینیوں کے بارے میں بات کی۔ ریپر نے حاضرین سے کہا کہ وہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کے لوگوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انہیں فراموش نہیں کیا گیا۔ اس بیان کے بعد انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں ٹور سے ہٹانے کا مطالبہ کرنے والی ایک پٹیشن بھی شروع کی گئی۔ بعد ازاں میکلمور نے اعلان کیا کہ وہ امریکی دورے کی باقی تاریخوں میں مزید پرفارم نہیں کریں گے۔

شیرن نے بعد میں اس تنازع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ٹور کے پروموٹر نے کیا تھا، کیونکہ مقامات نے اشارہ دیا تھا کہ اگر میکلمور پروگرام میں شامل رہے تو وہ وہاں شوز کی میزبانی نہیں کریں گے۔ گلوکار نے کہا کہ انہوں نے حل تلاش کرنے کی کوشش میں مقامات کے منتظمین سے بات کی تھی، تاہم اس بات پر قائم رہے کہ میکلمور کو ٹور سے ہٹانے کا فیصلہ ذاتی طور پر انہوں نے نہیں کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ ایران کے خلاف مختلف متبادلات پرغور کر رہے ہیں، پزشکیان مذاکرات کے خواہاں

تھنبرگ کا وسیع تر مؤقف

تھنبرگ کی مداخلت نے توجہ دونوں فنکاروں کے درمیان تنازع سے ہٹا کر اس وسیع تر سوال کی طرف مبذول کردی ہے کہ تنازعات کے دوران فنکار اور معروف شخصیات اپنے پلیٹ فارم کا استعمال کس طرح کرتے ہیں۔ ان کے بیان میں لوگوں سے مسلسل دباؤ برقرار رکھنے اور بڑے پلیٹ فارم رکھنے والے افراد سے یہ غور کرنے کی اپیل کی گئی کہ ان کے اثر و رسوخ اور وسائل کو کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ مؤقف تفریحی صنعت میں بھی تیزی سے نمایاں ہوا ہے، جہاں فنکار غزہ کی جاری صورتِ حال کے ردِعمل میں ٹورز، پرفارمنسز اور عوامی بیانات کے حوالے سے مختلف فیصلے کر رہے ہیں۔ میکلمور کو ٹور سے ہٹائے جانے کے بعد بڑے کنسرٹس میں سیاسی اظہار کی حدود اور اس بات پر بھی بحث شروع ہوگئی ہے کہ فنکاروں، ٹور پروموٹرز اور پروگرام کے مقامات کے مالکان کو اس بات کا تعین کرنے کا اختیار کس حد تک ہونا چاہیے کہ اسٹیج سے کیا کہا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: افغانستان پرپاکستان کے فضائی حملوں میں ۲۸؍ جنگجو ہلاک

شیرن نے غزہ کے بارے میں بات کی

شیرن نے اس کے بعد غزہ کی صورتِ حال پر بھی عوامی طور پر بات کی ہے۔ ۱۹؍ ستمبر کو فلاڈیلفیا میں ایک کنسرٹ کے دوران انہوں نے غزہ کی صورتِ حال کو ’’تباہ کن اور ناقابلِ جواز‘‘ قرار دیا، تاہم ساتھ ہی کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے کنسرٹس ایسے مقامات رہیں جہاں اتحاد اور انسانیت کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک ایسے موسیقار نہیں بننا چاہتے تھے جو سرگرم سیاسی کردار اختیار کرے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اس تنازع نے انہیں آزادیٔ اظہار اور غزہ کی جنگ سے متعلق وسیع تر بحث کے درمیان لا کھڑا کیا ہے۔ گلوکار نے یہ مؤقف بھی برقرار رکھا ہے کہ میکلمور کو ٹور سے ہٹانے کی ذمہ داری ان پر نہیں ہے۔ دوسری جانب میکلمور نے کہا ہے کہ وہ اپنے ٹور سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سے ۱۰؍ لاکھ ڈالر فلسطینی امدادی کوششوں کے لیے عطیہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK