۳؍ شہری بھی جاں بحق، تین ماہ کے نسبتاً پُرسکون دورانیے کے بعد دونوں پڑوسی ممالک میں پھر کشیدگی، افغان حکومت نے جوابی کارروائی کا انتباہ دیا۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 4:19 PM IST | Agency | Kabul/Islamabad
۳؍ شہری بھی جاں بحق، تین ماہ کے نسبتاً پُرسکون دورانیے کے بعد دونوں پڑوسی ممالک میں پھر کشیدگی، افغان حکومت نے جوابی کارروائی کا انتباہ دیا۔
مشرق وسطیٰ نیز روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازعات اور کشیدگی تھمنے کانام نہیں لے رہی ہے، ایسے میںاب پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ جیسے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔پیر کو پاک افغان سرحد پر شمال مشرقی افغانستان پرپاکستان کی جانب سے کئے گئے فضائی حملے میں۲۸؍ جنگجو ہلاک ہوئے جبکہ افغان حکام نے بتایا کہ ان حملوں میں ۳؍ شہری بھی مارے گئے ہیں۔ اس واقعے سے ہمسایہ ممالک کے درمیان تقریباً تین ماہ کے نسبتاً پُرسکون دورانیے کے بعد کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔شمال مغربی پاکستان میں پولیس کی ایک تنصیب پر حملے میں کم از کم۱۶؍ افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے چند دن بعد یہ فضائی حملے ہوئے ہیں۔طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ صوبہ کنر میں کم از کم ایک گھر پاکستانی حملوں کی زد میں آیا جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے۔
پاکستانی فوج نے فوری طور پر ان حملوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے ۔یہ حملے اس واقعے کے ایک روز بعد کئے گئے جب افغانستان کے ساتھ سرحد کے قریب شمال مغربی پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں جنگجوؤں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ۶؍ پاکستانی سیکوریٹی اہلکار جن میں فوج کے۲؍ افسر بھی شامل تھے، ہلاک ہوگئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا CNN، MS NOW اور پولیٹیکو کو وہائٹ ہاؤس سے باہر رکھنے کا اعلان
اس سے قبل جمعہ کو پاکستانی شہر کوہاٹ میں بھی ایک مہلک حملہ ہوا تھا جب ایک خودکش بمبار نے پولیس لائنز کے احاطے میں واقع مسجد کو نشانہ بنایا تھا اور۸؍ مسلح حملہ آور دفاتر میں داخل ہوگئے اور تقریباً۲۰؍گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ پاکستانی حکام کے مطابق اس حملے میں کم از کم۲۱؍ افراد جن میں سے زیادہ تر پولیس اہلکار تھے، ہلاک اور۱۰۰؍سے زیادہ زخمی ہوئے۔
افغان حکومت کا ردعمل
افغان طالبان کی حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر ایک بیان میں ان فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا جواب دیا جائے گا۔انہوں نے لکھا، ’’ہم اس جارحیت اور ظلم کی مذمت کرتے ہیں اور اسے ایسے جرائم کے دوبارہ ارتکاب کے طور پر دیکھتے ہیں۔ پاکستانی فوجی حلقوں نے ایک بار پھر اپنے ملک کی سیکوریٹی کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے یہ جرم کیا ہے۔‘‘افغان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے بتایا کہ حملے رات تقریباً تین بجے صوبے کُنر کے ضلع نرگل اور صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں کئے گئے۔فطرت کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ نرگل کے گاؤں پٹھان میں نور احمد نامی ایک دیہاتی کا گھر تباہ ہوگیا، جس میں احمد اور ان کے خاندان کے دو افراد ہلاک جبکہ چار دیگر رشتہ دار زخمی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھئے: مصر، سوڈان اور امریکی حکام کے درمیان سوڈان جنگ کے خاتمے پرگفتگو
پاکستان نے خبر دار کیا تھا
پاکستان کی وزارت اطلاعات نے سنیچر کوخبردار کیا تھا کہ ملک میں ہونے والے حملوں کے جواب میں افغانستان کی سرزمین پر عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس وزارت نے کوہاٹ حملے کا الزام ان جنگجوؤں پر عائد کیا جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان میں موجود ہیں۔ وزارت نے افغان طالبان کی حکومت پر پاکستان میں حملے کرنے والے گروہوں کو پناہ دینے اور ان کی حمایت کرنے کا الزام بھی لگایا۔وزارت اطلاعات نے کابل سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ افغانستان میں جنگجوؤںکی مبینہ پناہ گاہوں، بھرتی اور تربیتی نیٹ ورکس کو ختم کرنے کیلئے’قابل اعتماد، قابل تصدیق اور مستقل اقدامات‘ کرے۔
سرحد پر اب تک سیکڑوں ہلاکتیں
پیر کے فضائی حملوں تک کوہاٹ یا ہنگو حملوں کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی تھی۔ شبہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر ظاہر کیا گیا ہے جس نے حالیہ برسوں میں پاکستان میں پولیس اور دیگر سیکوریٹی فورسیزپر حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان میں پولیس اورسیکوریٹی فورسیز کو نشانہ بنانے والے عسکریت پسندانہ حملوں میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتحال کئی ماہ سے جاری فوجی کارروائیوں کے بعد مزید سنگین ہوئی ہے۔ فروری میں افغانستان کی جانب سے پاکستان کے فضائی حملوں کے جواب میں کارروائی کئے جانے کے بعد سے سرحد پار جھڑپوں میں سیکڑوں افراد مارے گئے ہیں۔