• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ ایران کے خلاف مختلف متبادلات پرغور کر رہے ہیں، پزشکیان مذاکرات کے خواہاں

Updated: September 22, 2026, 4:23 PM IST | Agency | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے حوالے سے مختلف متبادلات پر غور کر رہے ہیں جن میں ایران کے خلاف بڑا حملہ کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔

Iranian President Masoud Pezeshkian advocates for peace but will not bow to pressure. Photo: INN
ایرانی صدر مسعودپزشکیان امن کے حامی ہیںلیکن دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے حوالے سے مختلف متبادلات پر غور کر رہے ہیں جن میں ایران کے خلاف بڑا حملہ کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔ انہوں نے متنبہ کیاکہ وہ پورے ایران کو اڑا سکتے ہیں۔اس دوران ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے وہ مذاکرات کے خواہاںہیںاور جنگ نہیں چاہتے۔ پزشکیان نے اتوار کو پارلیمنٹ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’ہم ایسے کسی بھی مذاکرات کا خیرمقدم کریں گے ،جو سلامتی اور پائیدار امن کا باعث بنیں۔ اس راستے پر ہمیں اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔‘‘انہوں نے ملک کو درپیش حساس اور خطرناک حالات کی جانب بھی اشارہ کیا جودشمنوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور ایران کو نقصان پہنچانے کی ان کی کوششوں کے باعث پیدا ہوئے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کا ملک جنگ یا تنازع نہیں چاہتا اور اسے نہ صرف ایرانی عوام بلکہ پوری دنیا کے لیے نقصان دہ سمجھتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایران طاقت یا دھمکی کی پالیسی کے سامنے کبھی جھکے گا نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ فوجی دباؤ کم کرے تو ایک ہفتے میں ایران آبنائے ہرمز کھولنےکو تیار: رپورٹ

ادھر ٹرمپ نے تہران کو ایک نئی آخری تنبیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے فیصلہ کرنے کے مرحلےمیں ہیں اور خبردار کیا کہ مستقبل قریب میں بہت بڑی چیزیں ہونے والی ہیں۔ان کا یہ بیان ایران کے اس اعلان کے بعد آیا کہ اس نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچا دی ہیں، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی تہران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وہ فیصلہ کرنے کے مرحلے میں ہیں اوربہت بڑی چیزیں مستقبل قریب میں ہونے والی ہیں۔صدر نے  بتایا کہ وہ ایران کا صفایا کرسکتے ہیں، اسے اقتصادی طور پر تباہ کرسکتے ہیںیا اس کے ساتھ کوئی سفارتی معاہدہ کرسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ اگر اور کب میں پوری قوم کو تباہ کر دوں؟ انہیں بہتر ہے کہ وہ اپنا رویہ درست رکھیں۔

ٹرمپ نے جمعرات کو بھی کہا تھا کہ وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اندر جا کر انہیں (ایرانی حکومت کو) مکمل طور پر تباہ کر دوں یا ایسا نہ کروںاور مزید کہا تھا کہ ان کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔تازہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آنے کی توقع ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ ایرانی حکام بھی ان کے ہمراہ ہوں گے ۔ ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ ایرانی حکام کے ایک بنیادی وفد کو جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جائے گی۔ ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر پزشکیان سے ملاقاتکیلئے تیار ہو سکتے ہیں۔ایران کے خلاف ٹرمپ کی  یہدھمکی ان کی جانب سے دی جانے والی متعدد دھمکیوں میں تازہ ترین ہے۔ اپریل میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی  جب تک کہ شاید کوئی انقلابی طور پر شاندار چیز نہ ہو جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK