اداکار پرکاش راج نے کنگنا رناوت کی جانب سے موسیقار اے آر رحمان پر کیے گئے تبصرے کو نامناسب قرار دیا ہے۔ پرکاش راج نے کہا کہ رحمان جیسے عالمی سطح کے فنکار پر اس نوعیت کی تنقید غیر ذمہ دارانہ ہے۔
EPAPER
Updated: February 07, 2026, 8:03 PM IST | Mumbai
اداکار پرکاش راج نے کنگنا رناوت کی جانب سے موسیقار اے آر رحمان پر کیے گئے تبصرے کو نامناسب قرار دیا ہے۔ پرکاش راج نے کہا کہ رحمان جیسے عالمی سطح کے فنکار پر اس نوعیت کی تنقید غیر ذمہ دارانہ ہے۔
اداکار پرکاش راج نے بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت کی جانب سے موسیقار اے آر رحمان پر کیے گئے تبصرے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پرکاش راج کا کہنا ہے کہ رحمان ایک ایسے فنکار ہیں جنہوں نے دہائیوں تک ہندوستانی موسیقی کو عالمی شناخت دی، اور ان کے فن پر اس انداز میں سوال اٹھانا غیر مناسب ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کنگنا رناوت نے ایک حالیہ بیان میں اے آر رحمان کے کام اور طرزِ موسیقی پر تنقیدی رائے دی، جسے سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر کیا گیا۔ اس بیان کے بعد تفریحی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی، جس پر پرکاش راج نے کھل کر اپنی رائے پیش کی۔ پرکاش راج نے واضح طور پر کہا کہ اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن کسی فنکار کی دہائیوں پر محیط خدمات کو نظر انداز کرتے ہوئے عمومی نوعیت کے تبصرے کرنا درست نہیں۔ ان کے مطابق اے آر رحمان صرف ایک موسیقار نہیں بلکہ ایک ادارہ ہیں، جنہوں نے بھارتی فلمی موسیقی کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا۔
یہ بھی پڑھئے: فلمی شائقین کو پی وی آر کا تحفہ ، سلمان خان کی ’’تیرے نام‘‘ دوبارہ ریلیز کی جائے گی
انہوں نے یہ بھی کہا کہ رحمان کے کام کا اثر صرف فلموں تک محدود نہیں بلکہ عالمی اسٹیج، کنسرٹس اور بین الاقوامی پروجیکٹس تک پھیلا ہوا ہے۔ ایسے فنکار پر تنقید کرتے وقت پس منظر اور سیاق کو نظر میں رکھنا ضروری ہے۔ پرکاش راج کا کہنا تھا کہ فن اور فنکار پر تنقید ہونی چاہیے، مگر وہ تنقید معروضی اور ذمہ دارانہ ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق ذاتی پسند یا ناپسند کو اس انداز میں پیش کرنا جس سے فنکار کی مجموعی ساکھ پر سوال کھڑے ہوں، مناسب نہیں۔ اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر دو واضح آراء سامنے آئیں۔ ایک طبقے نے پرکاش راج کے موقف کی حمایت کی اور کہا کہ اے آر رحمان جیسے فنکار پر غیر محتاط تبصرہ قابلِ قبول نہیں۔ جبکہ دوسرے طبقے نے اس بات پر زور دیا کہ اظہارِ رائے ہر شخص کا حق ہے، بشرطیکہ وہ ذاتی حملے کی شکل اختیار نہ کرے۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: سمئے رائنا کی حسن منہاج سے ملاقات، تصویر جاری کی
اداکار نے یاد کیا کہ کس طرح اے آر رحمان کے ’’ماں تجھے سلام‘‘ اور ’’جے ہو‘‘ کے لیے دو آسکر جیتنے کے کارنامے پر سب نے ’’خوشی‘‘ کا اظہار کیا تھا لیکن اب کنگنا انہیں ’’ملک دشمن‘‘ کہہ رہی ہیں، صرف اس لئے کہ اے آر رحمان ان کی فلم ’’ایمرجنسی‘‘ کی موسیقی ترتیب نہیں دی؟ پرکاش راج نے کہا کہ اداکارہ نے موسیقار کے خلاف ’’بھونکنا‘‘ شروع کر دیا ہے جبکہ اے آر رحمان نے سچ کے سوا کچھ نہیں کہا۔
یہ بھی پڑھئے: برطانوی ریپر سینٹرل سی کا لائیو اسٹریم میں کلمہ شہادت پڑھ کر قبولِ اسلام
تفریحی صنعت سے وابستہ افراد کے مطابق یہ تنازع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معروف شخصیات کے بیانات کس طرح وسیع ردعمل پیدا کرتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب سوشل میڈیا کسی بھی بیان کو فوری طور پر عوامی بحث میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اے آر رحمان کی بات کی جائے تو وہ ہندوستان کے چند ایسے موسیقاروں میں شامل ہیں جنہیں آسکر، گریمی اور دیگر بین الاقوامی اعزازات حاصل ہو چکے ہیں۔ ان کا کام مختلف زبانوں، ثقافتوں اور ممالک تک پھیلا ہوا ہے، جس کی وجہ سے ان پر ہونے والی ہر تنقید فطری طور پر زیادہ توجہ حاصل کرتی ہے۔ فی الحال کنگنا رناوت کی جانب سے پرکاش راج کے ردعمل پر کوئی نیا بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم یہ معاملہ ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر گیا ہے کہ فنکاروں کے درمیان اختلافِ رائے کہاں ختم ہوتا ہے اور عوامی بیانات کہاں سے تنازع کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔