Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدھیہ پردیش: معذور دلت دولہے کو گھوڑے سے گھسیٹ کر اتارا گیا

Updated: April 24, 2026, 3:36 PM IST | Mumbai

گزشتہ روزمدھیہ پردیش کے ضلع دموہ میں ایک۲۳؍ سالہ جسمانی طور پر معذور دلت دولہا کو مبینہ طور پر گھوڑے سے گھسیٹ کر پہلےاتارااور پھراس پر حملہ کیا گیا۔

The victim groom who was treated inhumanely. Photo: INN
متاثرہ دلہا جس کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا۔ تصویر: آئی این این

گزشتہ روزمدھیہ پردیش کے ضلع دموہ میں ایک۲۳؍ سالہ جسمانی طور پر معذور دلت دولہا کو مبینہ طور پر گھوڑے سے گھسیٹ کر پہلےاتارااور پھراس پر حملہ کیا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے ایک گروہ نے اس کے گاؤں سے جلوس نکالنے پر اعتراض کیا، مبینہ طور پر ذات پر مبنی توہین آمیز جملے کہے اور اس کے خاندان پر بھی حملہ کیا، حتیٰ کہ مداخلت کرنے پر زیورات بھی چھین لیے گئے۔دولہا، جس کا نام گولو اہیر وار بتایا گیا ہےروایتی’رچوائی‘ رسم میں حصہ لے رہا تھا کہ اس کا جلوس ایک تنگ گلی میں روک دیا گیا، جہاں اس کے خاندان کا دعویٰ ہے کہ راستہ بند کرنے کے لیے جان بوجھ کر ایک گاڑی کھڑی کی گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال اور تمل ناڈو دونوں ریاستوں میں پُرجوش پولنگ

جب رشتہ داروں نے راستہ دینے کی درخواست کی تو اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے ایک گروہ نے ان کا سامنا کیا، جس کے نتیجے میں پرتشدد جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ خاندان کے مطابق جسمانی طور پر معذور دولہا کو گھوڑے سے نیچے کھینچ کر لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے زدوکوب کیا گیا جبکہ جلوس میں شامل دیگر افراد پر بھی حملہ کیا گیا۔ اس کی والدہ ودیہ اہیر وار نے ’انڈین ایکسپریس‘ کو بتایا کہ حملہ آوروں نے پہلے ہی جلوس نکالنے سے منع کیا تھا اور انکار کرنے پر تشدد پر اترآئے اور کافی مار پیٹ کی ۔

یہ بھی پڑھئے: بنگال: کئی اضلاع میں مارپیٹ، ہمایوں کبیر پر حملہ، بی جے پی ایجنٹ قرار دیا گیا

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی بیٹی پر بھی حملہ کیا گیا اور اس واقعہ میں اس کے سونے کے زیورات چھین لیے گئے۔ اس کی بہن منیشا اہیر وار نے الزام لگایا کہ حملہ آوروں نے ذات پر مبنی توہین آمیز جملے کہے اور گالیاں دیں اور کہاکہ ’’ایسے پروگرام ہم جیسے لوگوں کے لیے نہیں ہوتے‘‘ اور جب اس نے مداخلت کی تو اس پر حملہ کر کے اس کے زیورات چھین لیے گئے۔ واقعے کے بعد خاندان نے پولیس اسٹیشن جا کر شکایت درج کرائی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK