Updated: April 24, 2026, 3:40 PM IST
| Mumbai
کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا’ ’ مرلی منوہر جوشی نے ٹھیک ہی کہاکہ اب ہمیں ’وشوگرو‘ کی بات نہیں کرنی چاہیے، آبنائے ہرمز میں ہمارے بحری جہاز محفوظ راستہ نہیں بناسکے اور ہندوستانی جھنڈے والے ۱۴؍جہاز ۵۴؍ دنوں سے وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔‘‘
کانگریس صدر اورراجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے۔ تصویر: آئی این این
وزیر اعظم کو دہشت گردکہنے کے الزام کا توڑ نکالتے ہوئے آج کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے بی جے پی اور وزیر اعظم کے خلاف وہی مسائل اٹھائے جن پر پوری دنیا میں ہنگامہ برپاہے۔ کھڑگے نے حدبندی، ایپسٹین فائل، کھاد، ایل پی جی اور خام تیل کی کمی کے علاوہ بی جے پی کے’ وشوگرو‘ ایجنڈہ پر گھیرتے ہوئے بی جے پی پر نکتہ چینی کی ہے۔ کھڑگے نے صاف طور پر کہاکہ حد بندی کا یہ ڈرامہ صرف ’ایپسٹین‘ فائل کے سنگین الزام سے دھیان ہٹانے کے لیے کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ انھوںنے بی جے پی کے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی کے اس بیان کی بھی تائید کی جس میں انھوںنے کہا تھا کہ اب ہمیں وشو گرو کی بات نہیں کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: بنگال: کئی اضلاع میں مارپیٹ، ہمایوں کبیر پر حملہ، بی جے پی ایجنٹ قرار دیا گیا
کانگریس کے قومی صدرملکارجن کھرگے نے وزیراعظم کو دہشت گرد کہنے کے الزام پر سیاسی کارڈ کھیلتے ہوئے وزیر اعظم پر لگے الزامات کا پھر ذکر کرتے ہوئے کہاکہ مودی حکومت نے حد بندی کے بہانے اپنی ناکامیوں اور ’ایپسٹین‘ فائل کے سنگین الزامات سے دھیان ہٹانے کی کوشش کی لیکن ہندوستان نے اس دکھاوے کو سمجھ لیا۔ کھرگے نے وزیر اعظم پر ایک شدید حملہ کیا۔ ان کے ذریعہ بار بار وشو گرو بننے کے بیان پر طنز کرتے ہوئے انہی کی پارٹی کے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی کے حالیہ بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ پی ایم مودی کو اپنی ہی پارٹی کےسینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی کی بات ماننی چاہیے جنہوں نے حال ہی میں کہا تھا کہ ہمیں اب ’وشو گرو ‘ کی بات نہیں کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: مرزا پور میں بے قابو ٹرک نے کئی گاڑیوں کو ٹکر ماری، ۱۱؍ افراد ہلاک
انھوںنے تیل کے معاملہ پر کہاکہ پیداوار میں کمی، درآمدی ناکام، آبنائے ہرمز میں ہمارے بحری جہاز محفوظ گزرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ۱۴؍ ہندوستانی جھنڈے والے جہاز ۵۴؍ دنوں سے وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ کھاد کی کمی پر حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے انھوںنے کہاکہ چین نے پہلے ہی جولائی ۲۰۲۵ء میں خصوصی کھادوں پر پابندی لگا دی ہے۔ روس نے اب کھاد کی برآمدات بھی روک دی ہیں۔ اسی طرح خام تیل کی پیداوار میں لگاتار ۱۱؍ویں سال کمی آئی ہے اور اس کی پوری ذمہ داری مودی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ۲۰۱۴ء سے کل خام تیل کی پیداوار میں قریب ۲۲؍ فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ وہیں گیس کی پیداوار میں تقریباً۴۰؍فیصد کی مزید چونکا دینے والی کمی ہوئی ہے۔ کھرگے نے کہاکہ اب مودی سرکار نے کوئی بھی نیا ایل پی جی کنکشن دینا بندکر دیا ہے۔ لمبی قطاروں کے بعد دیہی ہندوستان میں سلنڈر بک کروانے کے لیے ۴۵؍ دنوں کا انتظار، بلیک مارکیٹنگ کے بعد لوگوں کو ’سب ٹھیک ہے‘ منع کرنے کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انھوںنے کہاکہ کئی موسموں میں کھاد کی قلت کی اطلاع پہلے ہی دی جا رہی تھی اور اب ملک کے کسانوں کو بی جے پی کی بے حسی کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ فرٹیلائزر کی پیداوار اب مارچ ۲۰۲۶ء میںپانچ سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے جس میں سال در سال۲۴؍ اعشاریہ ۶؍فیصد کی بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔