Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدھیہ پردیش خاندان کا دعویٰ: برطانیہ پر ۱۹۱۷ء کا ۳۵؍ ہزار قرض واجب الادا

Updated: February 28, 2026, 3:04 PM IST | Bhopal

مدھیہ پردیش کے ایک خاندان نے دعویٰ کیا ہے کہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران ۱۹۱۷ء میں برطانوی حکومت کو دیا گیا ۳۵؍ ہزار روپے کا قرض آج تک واپس نہیں کیا گیا۔ اہل خانہ اب سود سمیت رقم کی وصولی کے لیے قانونی مشاورت کر رہے ہیں، تاہم ماہرین اس دعوے کو قانونی پیچیدگیوں سے بھرپور قرار دے رہے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مدھیہ پردیش کے بھوپال سے تعلق رکھنے والے روتھیا خاندان کا دعویٰ ہے کہ ان کے بڑے بزرگ سیٹھ جمعہ لال روتھیا نے ۱۹۱۷ء میں پہلی جنگِ عظیم کے دوران برطانوی انتظامیہ کو ۳۵؍ ہزار روپے بطور ’’انڈین وار لون‘‘ فراہم کیے تھے۔ ۶۳؍ سالہ وویک روتھیا کے مطابق، اس وقت بھوپال میں تعینات برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ ڈبلیو ایس ڈیوس کو یہ رقم انتظامی اخراجات کے لیے دی گئی تھی۔ خاندان کے پاس موجود ۴؍ جون ۱۹۱۷ء کے سرٹیفکیٹ میں درج ہے کہ ’’سیٹھ جمعہ لال نے انڈین وار لون کو ۳۵؍ ہزار روپے دیئے اور اس طرح حکومت اور سلطنت کے ساتھ اپنی وفاداری ظاہر کی۔‘‘ دستاویز پر اس وقت کے پولیٹیکل ایجنٹ کے دستخط موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جرمنی میں ٹرانسپورٹ ملازمین کی دو روزہ ملک گیر ہڑتال کا آغاز، عوامی نقل و حمل کا نظام درہم برہم

۱۹۳۷ء میں سیٹھ جمعہ لال انتقال کر گئے جبکہ ہندوستان ۱۹۴۷ء میں آزاد ہوا۔ خاندان کا مؤقف ہے کہ آزادی سے پہلے یا بعد میں کبھی اس قرض کی ادائیگی یا تصفیہ نہیں کیا گیا۔ روتھیا خاندان کا کہنا ہے کہ اصل ۳۵؍ ہزار روپے آج افراطِ زر، مرکب سود یا سونے کی قیمتوں کے حساب سے ۱۰؍ کروڑ روپے سے زائد ہو سکتے ہیں۔ وویک روتھیا کا کہنا ہے کہ ’’یہ صرف پیسے کا مسئلہ نہیں، یہ انصاف اور تاریخ کا سوال ہے۔‘‘
قانونی ماہرین کے مطابق، ایسے تاریخی دعوے کو آگے بڑھانا آسان نہیں ہوگا۔ ممکنہ رکاوٹوں میں شامل ہیں:حدِ میعاد (Limitation Laws)، خودمختار استثنیٰ (Sovereign Immunity)، بین الاقوامی دائرہ اختیار کے مسائل، اور نوآبادیاتی دور کے قرضوں کی قانونی حیثیت۔ فی الحال خاندان وکلاء سے مشاورت کر رہا ہے، تاہم برطانیہ کے خلاف کوئی باضابطہ قانونی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی ٹیرف سے متعلق عدالتی فیصلے نے رقوم کی واپسی کی کشمکش کو جنم دے دیا

یہ معاملہ محض ایک مالی دعویٰ نہیں بلکہ نوآبادیاتی دور کے مالی اور اخلاقی ورثے سے جڑا سوال بھی ہے۔ برطانوی دور میں ’’وار لون‘‘ اسکیم کے تحت ہندوستانی تاجروں اور ریاستوں سے مالی مدد حاصل کی جاتی تھی، جسے سلطنت کے مفاد اور وفاداری کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ روتھیا خاندان کا ۱۹۱۷ء کا سرٹیفکیٹ فی الحال ایک تاریخی دستاویز کے طور پر محفوظ ہے، مگر یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ قانونی بنیاد بھی بن سکے گا یا محض نوآبادیاتی تاریخ کا ایک باب بن کر رہ جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK