• Fri, 27 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی ٹیرف سے متعلق عدالتی فیصلے نے رقوم کی واپسی کی کشمکش کو جنم دے دیا

Updated: February 27, 2026, 5:06 PM IST | New York

ماہرین کے مطابق کاروباری اداروں کو اس اہم غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے کہ رقوم کی واپسی کا حساب کیسے لگایا جائے گا، کون اس کا اہل ہوگا، اور ادائیگی میں کتنا وقت لگ سکتا ہے۔ اس پیمانے پر ٹیرف کی واپسی کی مثالیں نہ ہونے کے برابر ہیں، تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ دعوؤں کی جانچ پڑتال، قانونی تنازعات اور تصدیقی طریقہ کار طویل عرصے تک جاری رہ سکتے ہیں۔

Tariff War.Photo:INN
ٹیرف جنگ۔ تصویر:آئی این این

امریکہ کی سپریم کورٹ کے ایک تاریخی فیصلے، جس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ٹیرف عائد کرنے کے اختیارات کو محدود کیا گیا، نے عالمی تجارت میں بے یقینی کی لہر دوڑا دی ہے۔ تاہم امریکی کاروباروں کے لیے سب سے فوری اور عملی سوال یہ ہے کہ پہلے ہی وصول کیے گئے اربوں ڈالر کے محصولات کون واپس کرے گا؟
درآمد کنندگان، ریٹیلرز اور مینوفیکچررز کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے بڑے پیمانے پر رقوم کی واپسی کے دعوؤں کا دروازہ کھول دیا ہے، جس سے مختلف صنعتوں میں نقدی کے بہاؤ کی صورت حال بدل سکتی ہے اور وفاقی حکومت کو ایک پیچیدہ اور بے مثال واپسی کے عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف مسوری میں معاشی تاریخ کے پروفیسر میکس گل مین نے کہا کہ یہ ایک بڑی غیر یقینی صورتحال پیدا کرتا ہے جو امریکی درآمد کنندگان اور چھوٹے کاروباروں کو متاثر کرتی ہے۔‘‘
چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے زور دیا کہ ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے۔ اس آئینی تشریح نے انتظامی اختیارات کے تحت عائد کردہ ٹیرف پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے اور یہ امکان پیدا کیا ہے کہ ان اقدامات کے تحت وصول کیے گئے محصولات واپس کرنا پڑ سکتے ہیں۔
کاروباروں کو اب ایک اہم سوال درپیش ہے: رقوم کی واپسی کا حساب کیسے ہوگا، کون اس کا مستحق ہوگا اور ادائیگی میں کتنا وقت لگے گا؟ چونکہ اس سطح پر ٹیرف کی واپسی کی مثالیں بہت کم ہیں، اس لیے دعوؤں کی کارروائی، قانونی تنازعات اور تصدیقی مراحل طویل عرصے تک جاری رہ سکتے ہیں۔ کمپنیوں کو ممکن ہے کہ ماضی کی درآمدات، ادا کیے گئے ٹیرف اور معاہداتی ذمہ داریوں کی مکمل دستاویزات فراہم کرنا پڑیں جو ایک بیوروکریٹک بوجھ بن سکتا ہے، خاص طور پر چھوٹی کمپنیوں کے لیے۔

یہ بھی پڑھئے:جارجیا وال کی سنچری، آسٹریلیائی خواتین ٹیم نے ہندوستان کو پانچ وکٹوں سے شکست دی

گل مین نے خبردار کیا کہ کسی بھی واپسی کے طریقہ کار کو مکمل ہونے میں ممکنہ طور پر برسوں لگ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ واپسی سے کاروباروں پر مالی دباؤ کم ہو سکتا ہے، مگر یہ وسیع تر تجارتی پالیسی کی غیر یقینی صورتحال کو ختم نہیں کرے گی۔

یہ بھی پڑھئے:دپیکا پڈوکون ’’وہائٹ لوٹس‘‘ سیزن ۴؍ سے علاحدہ

 قلیل مدتی بہتری
کولمبیا بزنس اسکول کے ماہر معاشیات چارلس کالومیرس نے کہا کہ رقوم کی واپسی عارضی طور پر معیشت کو سہارا دے سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ’’۵ء۰؍ فیصد کی واپسی قلیل مدت میں جی ڈی پی کی شرح نمو میں اضافہ کر سکتی ہے، شاید اس سے بھی زیادہ۔‘‘وہ کمپنیاں جنہوں نے ٹیرف کے اخراجات صارفین پر منتقل کرنے کے بجائے خود برداشت کیے، ان کے لیے واپسی سے نقدی کی روانی بہتر ہو سکتی ہے، سرمایہ کاری کو تقویت مل سکتی ہے اور بیلنس شیٹ پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ ریٹیلرز اور درآمدات پر زیادہ انحصار کرنے والے شعبے جیسے الیکٹرانکس، مشینری اور اشیائے صرف کو سب سے زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔تاہم کالومیرس نے خبردار کیا کہ سیاسی ردعمل نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’عدالتی فیصلہ بظاہر وضاحت فراہم کرتا اور غیر یقینی صورتحال کو کم کرتا، جس کے مثبت اثرات ہو سکتے تھے، لیکن ٹرمپ کے ردعمل نے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK