واشم ضلع سیشن عدالت کا تاریخی فیصلہ،پاردھی خاندان کو ۱۵؍سال کےبعد انصاف ملا،ماں نے کہا’’ بیٹے کو جھوٹے کیس میں گرفتار کیا تھا‘‘
واشم ضلعی سیشن عدالت نے انتہائی سنگین اور حساس کیس کا تاریخی فیصلہ بدھ کو سنایا ہے۔پولیس تحویل میں ہونے والی مشتبہ موت کا یہ معاملہ ۲۰۱۱ ءمیں پیش آیا تھا۔ جب چوری کے الزام میں گرفتار ایک مشتبہ نوجوان کی پولیس حراست میں موت ہوگئی تھی۔ نوجوان کے اہل خانہ کا الزام تھا کہ اسے بری طرح پیٹا گیا اور شدید زخموں کی تاب نہ لاکر وہ چل بسا تھا۔ اس حراستی موت کیس کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے اس وقت کے تھانیدار سمیت ۹؍پولیس اہلکاروں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
حاصل کردہ تفصیلات کے مطابق بدھ کو معاملے کی حتمی سماعت میں یہ فیصلہ ڈسٹرکٹ سیشن جج جے سنگھ جھپاٹے نے سنایا، اور اس فیصلے سے مہاراشٹر پولیس فورس میں زبردست ہلچل مچ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ ۹؍مئی ۲۰۱۱ءکو پیش آیا۔ جب ریسوڈ پولیس اسٹیشن کے اس وقت کے افسر انچارج (تھانیدار) مہادیو مانک دھانڈے اور ان کے ۸؍دیگر اہلکاروں نے ہنگولی ضلع کے سینگاؤں تعلقہ میں واقع واڈھونا میں واقع پاردھی بستی پر چھاپہ مارا اور بیگیا پوار نامی ایک نوجوان کو چوری کے ایک معاملے میں ملزم کے طور پر گرفتار کیا تھا۔ پولیس نے بیگیا کو پولیس حراست میں بے دردی سے پیٹا تاکہ وہ چوری کا اعتراف کر سکے۔ اس غیر انسانی مار پیٹ کی وجہ سے اگلے دن یعنی ۱۰؍مئی ۲۰۱۱ءکو بیگیا پوار کی حراست میں ہی موت ہوگئی تھی۔سی آئی ڈی انویسٹی گیشن اور ایٹروسٹی کا معاملہ درج کیا گیا۔حراستی موت کی وجہ سے پیدا ہونے والے تناؤ کو دیکھتے ہوئے حکومت نے کیس کی تحقیقات کریمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کو سونپ دی تھی۔ سی آئی ڈی کی ٹیم نے ۳۴ ؍دن تک مکمل تفتیش کے بعد قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کے جرم کے ساتھ اسپیشل ایٹروسٹی ایکٹ کے تحت فرد جرم داخل کی تھی۔ جس کے بعد مقدمے کی شنوائی کا عمل جاری رہا اور بالآخر ۱۵؍ سال، ایک ماہ اور ۲۳؍ دن کی طویل قانونی جنگ کے بعد متاثرہ خاندان کو صحیح معنوں میں انصاف ملا ہے۔
عدالت نے مضبوط شواہد کی بنیاد پر درج ذیل پولیس افسر سمیت، ۸؍اہلکاروں کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی:جن میں مہادیو مانک دھانڈے (اس وقت کے تھانیدار)اور اہلکار مدن کیشو پوار ، شیواجی نام دیو کھِلّاری، پنجاب مانیکراؤ پاٹکر ، رمیش سیتارام پوار، پرکاش ہیرالال تارم ، ناگوراؤ بھگوان کھانڈکے، اشوک نیوروتی ویدیا اوروسنت کنی رام جادھو شامل ہیں۔
’پاردھی‘ ہونے کی وجہ سے پھنسائے جانے کا الزام
مقتول بیگیا پوار کی والدہ نے فیصلے کے بعد جذباتی ردعمل کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ، ’’میرے بیٹے کا پہلے کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا اور نہ ہی اس نے کوئی جرم کیا تھا۔ پولیس نے اسے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا اور اس کی جان صرف اسلئے لے لی کہ وہ پاردھی برادری سے تعلق رکھتا تھا۔‘‘ بیگیا کے بوڑھے والدین نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا اور سی آئی ڈی اور سرکاری استغاثہ کا شکریہ ادا کیا۔
عام آدمی کا عدلیہ پر اعتماد مضبوط ہوا ہے۔
اس کیس میں متاثرہ خاندان کی نمائندگی کرنے والے سرکاری وکیل شری رام کالو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’یہ فیصلہ بہت تاریخی ہے اور قانون کی حکمرانی کو ثابت کرتا ہے۔ مجرم چاہے کتنا ہی بااثر یا وہ پولیس فورس میں ہی کیوں نہ ہو، قانون سب کے لیے یکساں ہے۔ اس فیصلے سے معاشرے میں یہ احساس مضبوط ہوا ہے کہ عدالت میں بھی عام آدمی کو انصاف ملتا ہے۔‘‘