Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدھیہ پردیش: مہاکمبھ وائرل لڑکی نابالغ، شادی پر تنازع، مقدمات درج

Updated: April 11, 2026, 5:01 PM IST | Bhopal

قومی کمیشن برائے ایس ٹی نے تصدیق کی ہے کہ مدھیہ پردیش کی وہ نوجوان لڑکی، جو مہاکمبھ ۲۰۲۵ء کے دوران وائرل ویڈیوز سے مشہور ہوئی تھی، تفتیش میں نابالغ ثابت ہوئی ہے۔ کمیشن کے چیئرمین انتر سنگھ آریہ کے مطابق اس کی عمر شادی کے وقت تقریباً ۱۶؍ سال تھی۔ پولیس نے شوہر کے خلاف پوکسو ایکٹ سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ سیاسی سطح پر اس معاملے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

مدھیہ پردیش کے ضلع کھرگون سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان لڑکی، جو ۲۰۲۵ء کے مہاکمبھ کے دوران سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے باعث قومی سطح پر شہرت حاصل کر چکی تھی، اب ایک بڑے قانونی اور سیاسی تنازع کے مرکز میں آ گئی ہے۔ قومی کمیشن برائے ایس ٹی کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی پینل نے اپنی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ مذکورہ لڑکی نابالغ ہے۔ کمیشن کے چیئرمین انتر سنگھ آریہ نے جمعہ کو پی ٹی آئی سے گفتگو کرتے ہوئے ان نتائج کی تصدیق کی۔

یہ بھی پڑھئے: روپالی چاکن کر کی بہن کو اشوک کھرات معاملے میں شرڈی پولیس کا نوٹس

کمیشن کے مطابق، لڑکی کی تاریخ پیدائش ۳۰؍ دسمبر ۲۰۰۹ء سرکاری اسپتال کے ریکارڈ میں درج ہے، جس کے مطابق شادی کے وقت اس کی عمر تقریباً ۱۶؍ سال ۲؍ ماہ تھی۔ یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا جب اتر پردیش کے رہائشی پرتھم دوبے کی شکایت پر ۱۷؍ مارچ کو کمیشن نے انکوائری کا آغاز کیا تھا۔ پولیس حکام کے مطابق، انکوائری کے نتائج کی بنیاد پر لڑکی کے شوہر کے خلاف مہیشور پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔ اس مقدمے میں پوکسو ایکٹ کے تحت الزامات کے ساتھ ساتھ مبینہ اغوا اور دیگر متعلقہ دفعات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ ۱۳۷ (۲) کے تحت بھی ایک علیحدہ مقدمہ درج کیا گیا ہے، جو کسی نابالغ کو سرپرست کی اجازت کے بغیر لے جانے سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ اس وقت مزید حساس ہو گیا جب مقامی سیاسی لیڈران نے اس شادی کو ’’لو جہاد‘‘ کا کیس قرار دیا۔ مہیشور سے بی جے پی کے رکن اسمبلی راج کمار میو اور پارٹی کے مقامی صدر وکرم پٹیل نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لڑکی کو واپس اس کے گھر لایا جانا چاہیے اور اس معاملے میں سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ’’لو جہاد‘‘ ایک متنازع اصطلاح ہے جو بعض دائیں بازو کے حلقوں کی جانب سے استعمال کی جاتی ہے، جس میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مسلمان مرد ہندو خواتین کو شادی کے ذریعے مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئےـ: ناسک میں تبدیلیٔ مذہب کے الزام میں گرفتاریاں

پولیس کے مطابق، واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور مزید شواہد کی بنیاد پر کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔ لڑکی کا تعلق خانہ بدوش پاردھی برادری سے بتایا جاتا ہے۔ اس نے اس وقت توجہ حاصل کی تھی جب مہاکمبھ کے دوران اس کے ہار اور رودرکش بیچنے کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے۔ بعد ازاں ہدایتکار سنوج مشرا نے اسے فلم میں کام کرنے کی پیشکش بھی کی تھی۔ اس کے خاندان کے افراد اور فلم ڈائریکٹر نے بھی اس شادی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے ’’لو جہاد‘‘ قرار دیا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی مختلف پہلوؤں سے جانچ جاری ہے اور تمام قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK