Updated: April 11, 2026, 6:07 PM IST
| London
ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جنگلی چمپینزی پہلی بار اپنے ہی گروہ کے خلاف منظم تشدد میں ملوث پائے گئے، جسے ماہرین ’’خانہ جنگی‘‘ سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ پرائمیٹولوجی کے ماہرین کے مطابق یہ واقعہ یوگنڈا کے کبالے نیشنل پارک میں پیش آیا، جہاں ایک متحد گروہ اندرونی اختلافات کے باعث دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ تحقیق کے مطابق اس تنازع میں کئی سال تک جاری رہنے والے پرتشدد حملے شامل رہے۔
جنگلی چمپینزی کے رویوں پر کی جانے والی ایک نئی تحقیق نے ایک غیر معمولی اور تشویشناک انکشاف کیا ہے، جس کے مطابق پہلی بار ان جانوروں میں اپنے ہی گروہ کے خلاف منظم اور طویل المدتی تشدد دیکھنے میں آیا ہے، جسے ماہرین ’’خانہ جنگی‘‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے سائنس میں شائع ہوئی، جس میں ماہر ایرون سینڈل نے اپنے مشاہدات بیان کیے۔ انہوں نے بتایا کہ ۲۰۱۵ء میں انہوں نے یوگنڈا کے کبالے نیشنل پارک میں ایک ایسے واقعے کا مشاہدہ کیا جہاں ایک ہی گروہ کے چمپینزی ایک دوسرے سے خوفزدہ اور دور رہنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے پہلی بار دیکھا کہ چمپینزی اپنے ہی گروہ کے افراد سے اس طرح برتاؤ کر رہے تھے جیسے وہ اجنبی ہوں، جو ایک غیر معمولی اور تشویشناک تبدیلی تھی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: یوٹیوب نے ٹرمپ کو ٹرول کرنے والا ’’ایران حامی‘‘ چینل بلاک کردیا
تحقیق کے مطابق یہ تبدیلی ایک ایسے گروہ میں دیکھی گئی جو ۱۹۹۵ء سے ایک مضبوط اور متحد برادری کے طور پر موجود تھا۔ تاہم ۲۰۱۵ء کے بعد اس کے سماجی ڈھانچے میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئیں، اور بالآخر ۲۰۱۸ء تک یہ گروہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، جنہیں مغربی اور وسطی دھڑوں کے نام دیے گئے۔ اس تقسیم کے بعد آنے والے برسوں میں مغربی گروہ نے مرکزی گروہ کے خلاف کم از کم ۲۴؍ منظم حملے کیے، جن میں سات بالغ نر چمپینزی اور ۱۷؍ بچوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی۔ ماہرین کے مطابق چمپینزی عام طور پر بیرونی گروہوں کے خلاف جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں، تاہم اپنے ہی گروہ کے خلاف اس نوعیت کا رویہ انتہائی غیر معمولی ہے۔
ایرون سینڈل نے کہا کہ ’’ایسے واقعات جہاں ایک ہی برادری کے افراد ایک دوسرے کے خلاف ہو جائیں، نہایت تشویشناک ہیں اور کسی حد تک انسانی معاشرتی رویوں سے مماثلت رکھتے ہیں، جہاں تعاون اور تصادم دونوں بیک وقت موجود ہوتے ہیں۔‘‘ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس تنازع کی ایک بڑی وجہ سماجی ڈھانچے میں تبدیلی اور قیادت کے بحران کو قرار دیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر گروہ کے چند اہم اور بااثر بزرگ چمپینزیوں کی موت کے بعد طاقت کا توازن بگڑ گیا، جس نے گروہ کے استحکام کو متاثر کیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: شہریوں نے ایندھن کی قیمتوں کا ذمہ دار ٹرمپ کو قرار دیا: سروے
ایرون سینڈل نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ان بااثر افراد کی اچانک موت نے گروہ کے مختلف حصوں کے درمیان تعلقات کو کمزور کر دیا، جس کے نتیجے میں اندرونی تقسیم نے شدت اختیار کی۔‘‘ مزید برآں ۲۰۱۷ء میں ایک بیماری کے پھیلاؤ کو بھی اس تقسیم کو تیز کرنے والا عنصر قرار دیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی اس نوعیت کے واقعات کے شواہد ملے ہیں، جیسے ۱۹۷۰ء کی دہائی میں تنزانیہ میں ایک مشاہدہ، تاہم اس وقت اس پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی تھی۔ تحقیق کے مطابق جینیاتی شواہد سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ اس طرح کے اندرونی تنازعات چمپینزیوں میں طویل وقفوں کے بعد ظاہر ہو سکتے ہیں، تاہم انسانی سرگرمیاں جیسے جنگلات کی کٹائی، موسمیاتی تبدیلی اور بیماریوں کا پھیلاؤ ان واقعات کی شدت اور تعداد میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ یہ تحقیق نہ صرف جانوروں کے رویوں کو سمجھنے میں ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ اس سے سماجی ڈھانچے اور تنازعات کے حوالے سے وسیع تر سائنسی مباحث کو بھی تقویت مل رہی ہے۔