Updated: June 27, 2026, 4:02 PM IST
| Chennai
مدراس ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا کہ جو افراد اسلام قبول کرتے ہیں وہ پسماندہ طبقات کے مسلمانوں کا درجہ حاصل نہیں کر سکتے، اس سے قبل ریاستی حکومت نے پسماندہ طبقات، انتہائی پسماندہ طبقات، غیر درج فہرست برادریوں اور درج فہرست ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اسلام قبول کرنے کے بعد پسماندہ طبقات کے مسلمانوں میں شمار کرنے کی اجازت دی تھی۔
مدراس ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این
مدراس ہائی کورٹ نے تامل ناڈو حکومت کے۲۰۲۴ء کے ایک حکم نامے کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس کے تحت پسماندہ طبقات، انتہائی پسماندہ طبقات، غیر درج فہرست برادریوں اور درج فہرست ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اسلام قبول کرنے کے بعد پسماندہ طبقات کے مسلمانوں میں شمار کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔جسٹس جی آر سوامی ناتھن اور جسٹس پی بی بالاجی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مارچ۲۰۲۴ء کے اس حکم نامے کو غیر آئینی قرار دیا۔عدالت نے کہا کہ جو شخص اسلام قبول کر لے وہ پسماندہ طبقات کے مسلمان کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ بینچ نے کہا کہ ’’وہ صرف ایک مسلمان ہے، بس اتنا ہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رام مندر کے ٹرسٹی چمپت رائے مستعفی، ڈرائیور گرفتار
واضح رہے کہ یہ فیصلہ ایک۳۳؍ سالہ شخص کی درخواست پر سنایا گیا جو ضلع تھوتھوکوڈی میں ہندو پیدا ہوا تھا۔ اس شخص نے۲۰۱۵ء میں اسلام قبول کیا، اپنا نام تبدیل کیا اور اسلامی روایات کے مطابق شادی کی۔ بعد ازاں اس نے ایک کمیونٹی سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دی جس میں اسے مسلم لبّائی کے طور پر شناخت کیا گیا،یاد رہے کہ لبّائی ان سات فرقوں میں شامل ہے جنہیں تامل ناڈو کے۲۰۲۴ء حکم نامے کے تحت پسماندہ طبقات کے مسلمان تسلیم کیا گیا تھا۔ تاہم تحصیلدار نے اس کی درخواست مسترد کر دی جس پر اس نے ہائی کورٹ کا رخ کیا۔ کارروائی کے دوران اس نے۲۰۲۴ء کے حکم نامے کا حوالہ دیا۔جبکہ ریاستی حکومت نے بھی اپنے حکم نامے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن کی سفارش پر مبنی ہے اور صرف وہی افراد جو تبدیلی مذہب سے پہلے ریزرویشن کے اہل تھے، وہی فوائد حاصل کرتے رہیں گے۔تاہم بینچ نے ریاست کے دفاع کو مسترد کر دیا۔ اس نے کہا کہ ۷۵؍سال سے زائد عرصہ قبل ہائی کورٹ کے ایک فیصلے میں یہ طے ہو چکا ہے کہ جب کوئی شخص اسلام قبول کرتا ہے تو وہ محض ایک مسلمان بن جاتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس قانونی حیثیت کو کسی حکم نامے کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کو’’ بچوں کا قاتل‘‘ قرار دینے والے جج مرلی دھر پھرعالمی سطح پر نمایاں
مزید برآں ہائی کورٹ نے کہا کہ حکم نامے نے پسماندہ طبقات، انتہائی پسماندہ طبقات، غیر درج فہرست برادریوں اور درج فہرست ذاتوں سے مذہب تبدیل کرنے والوں کو محض اس لیے پسماندہ طبقات کے مسلمانوں میں شامل کیا گیا تاکہ وہ ریزرویشن حاصل کرتے رہیں۔