Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناسک میں مہاوکاس اگھاڑی کا ’کسان کرانتی مورچہ‘

Updated: May 27, 2026, 12:09 AM IST | Nashik

پیاز کے دام ۳؍ ہزار روپے فی کوئنٹل ادا کرنے کا مطالبہ، ہرش وردھن سپکال، روہت پوار، امباس دانوے اور ششی کانت شند ے کی شرکت

Maha Vikas Aghadi protest, Rohit Pawar can be seen in the middle (PTI)
مہا وکاس اگھاڑی کا احتجاج، درمیان میں روہت پوار دیکھے جا سکتے ہیں( پی ٹی آئی )

پیاز کے کسانوں کی حمایت میں منگل کے روز مہا وکاس اگھاڑی کی جانب سے ناسک ضلع چاندوڑ تعلقے میں ’کسان کرانتی مہا مورچہ ‘ نکالا گیا جس میں کانگریس اور این سی پی (شرد) کے  کئی اہم لیڈران نے شرکت کی۔ اس احتجاج کی قیادت ایک طرح کانگریس کے ہرش وردھن سپکال اور این سی پی (شرد) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے کی۔ ان لیڈران کا مطالبہ تھا کہ پیاز کے کسانوں کو ان کے فصلوںکے دام ۳؍ ہزار روپے فی کوئنٹل دلایا جائے  جو کہ اس وقت فی کوئنٹل ۲۰۰؍ تا ۳۰۰؍ روپے تک گر چکے ہیں۔ اس کی وجہ سے کسان بے حد پریشان ہیں
  اس ،،موقع پرمہاراشٹرکانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ کسانوں کی اس خستہ حالی کیلئے مرکز کی مودی حکومت اور ریاست کی دیویندر فرنویس حکومت براہ راست ذمہ دار ہے۔ انہوں نے حکومت کو انتباہ دیا کہ جب تک پیاز کی معقول امدادی قیمت نہیں ملے گی، کانگریس اور مہا وکاس اگھاڑی خاموش نہیں بیٹھے گی۔ ہم  حکومت کو ناکوں چنے چبوا دیں گے۔ اس کرانتی مورچہ میں کانگریس کے ریاستی صدر کے علاوہ این سی پی (شرد) کے ریاستی صدرششی کانت شندے، شیو سینا ( ادھو ) کے امباداس دانوے، رکن اسمبلی روہت پوار، کانگریس  رکن پارلیما ن شوبھا تائی بچھاو، رکن پارلیمان بھگرے گروجی سمیت ناسک ضلع اور شہر کے عہدیداران اور بڑی تعداد میں کسان موجود تھے۔ 
  اس دوران مظاہرین نے چاندوڑ ناکہ پر راستہ روکو آندولن بھی کیا۔احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے طاقت کا استعمال کیا گیا اور لیڈروں کو حراست میں لے لیا گیا، مگر مظاہرین نعرے لگاتے رہے۔ سارا علاقہ ’سرکار ہم سے ڈرتی ہے، پولیس کو آگے کرتی ہے‘ کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔
  اس دوران روہت پوار نےپیاز کی خریداری کے نظام پر سوال اٹھایا ۔ انہوں نے کہا نافیڈ جیسے ادارے کسانوں کےبجائے کمپنیوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی فصل نافیڈ کو فروخت کرنے کے بجائے بازار سمیتیوں میں لے جا کر نیلام کریں۔ وہاں مقابلہ آرائی کے سبب پیاز کی فصل کو عمدہ دام ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت  ۱۲؍ سو ۳۵؍ روپے فی کوئنٹل کے دام دے رہی ہے لیکن خریداری کیلئے اس قدر شرائط ہیں کہ کسانوں کے راحت کے بجائے مشقت محسوس ہو رہی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ کسانوں سے ۱۰؍ میٹرک ٹن پیاز خریدے اور انہیں ۳؍ ہزار روپے فی کوئنٹل کے دام ادا کرے۔ روہت پوار کے علاوہ امباداس دانوے اور ششی کانت شندے نے بھی  اس مورچے سے خطاب کیا۔ 
 اس مورچے میں جمع بھیڑ کو دیکھ کر حکومت کے کان کھڑے ہو گئے ہیں۔ منگل کی شام نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے جلد ہی پیاز کے بحران کو دور کرنے کیلئے ایک اجلاس بلایا ہے  اور وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس اس اجلاس میں شرکت کیلئے دہلی جانے والے ہیں۔ حکومت جلد ہی کسانوں کے حق میں کوئی راستہ تلاش کر لے گی۔  انہوں نے کہاکہ فی الحال حکومت کسانوں سے ۱۵۸۰؍ روپے فی کوئنٹل کے دام سے پیاز خرید رہی ہے۔ حکومت کسانوں کے مسائل سے واقف ہے اور جلد ان مسائل کو حل کرنے کیلئے اقدامات کرے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK