Inquilab Logo Happiest Places to Work

دھرمیندر پردھان کےاستعفیٰ سےممبئی کے طلبہ مطمئن

Updated: July 26, 2026, 2:07 PM IST | INN | Mumbai

طلبہ نے مرکزی وزیر تعلیم کے استعفیٰ کوجواب دہی کیلئے ضروری قرار دیا، ہزاروں طلبہ کے سڑک پر احتجاج کیلئے اُترنے پر مجبور ہونے کو افسوسناک بتایا۔

Students Celebrating In Bandra After Dharmendra Pradhan`s Resignation. Photo: Atul Kamble
دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعدباندرہ میںطلبہ جشن مناتےہوئے۔ تصویر:اتل کامبلے
نیٹ پیپر لیک معاملہ میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا گزشتہ ۳۷؍ دنوں سے دہلی کے جنتر منتر پر جاری احتجاج بالآخر سنیچر کو مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے ساتھ ختم ہوا۔ حکومت نے سی جے پی کے اہم مطالبات تسلیم کر لئے ہیں جس سے طلبہ مطمئن ہیں لیکن ان کا ماننا ہے کہ پیپر لیک ہونے سے ان کا جو نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی نہیں ہوسکتی۔ اس کےباوجود وزیر تعلیم کا استعفیٰ اس لئے اہم ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی غلطی دوبارہ سرزد نہ ہو۔ منگلی کندوری کی انشا عرفات حسین کےبقول ’’وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اس عہدے پر تھے جو پیپر لیک کیلئے جوابدہ تھے لیکن اپنی ذمہ داری کو قبول نہیں کررہے تھے جس کی وجہ سے اتنا بڑا آندولن ہوا۔ اگر نوجوان یہ تاریخی احتجاج نہیں کرتے تو کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ وزراء یہی سمجھ رہے تھے کہ دوبارہ امتحان کروادینے سے مسئلہ حل ہوگیا لیکن جن طلبہ نے خودکشی کرلی ان کا کیا، اور ہم جیسے کئی طلبہ کا پہلا امتحان زیادہ اچھا گیا تھا اور دوبارہ امتحان کی وجہ سے ہم نے میڈیکل کی تعلیم حاصل نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا، ہمارا کیا؟‘‘
 
 
ان کاکہناتھاکہ’’ اتنے کم وقفہ میں دوبارہ امتحان کی تیاری کرنا بہت زیادہ ذہنی اور نفسانی دبائو کا ذریعہ بنا جس سے دوسرا امتحان خراب رہا۔ دوسرےامتحان کے چکر میں خود مجھے میڈیکل کی پڑھائی کا فیصلہ ترک کرکے انجینئرنگ منتخب کرنا پڑا۔‘‘
طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج اور دھرمیندر پردھان کے استعفے کے تعلق سے نیٹ کا امتحان دینے والے مالونی کے طالب علم محمدنفیس وسیم خان نے کہا کہ ’’انہوں نے اس سے قبل امتحان دیا تھا اور اتنا اچھا مارکس تھا کہ اگر ایم بی بی ایس میں نہیں تو کم ازکم بی یوایم ایس میں بآسانی داخلہ مل جاتا مگر پیپرلیک ہونے کی وجہ سے سب گڑبڑ ہوگئی۔ اس طرح ان کی پڑھائی کا نقصان تو ہوا ہی والدین کی گاڑھی کمائی بھی ضائع ہوگئی ۔ ‘‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’مرکزی وزیرتعلیم کا استعفیٰ اچھی بات ہے کہ اس سے جواب دہی طے ہوگی مگر اس کے لئے بھی ہزاروں طلبہ اور نوجوانوں کو جنتر منتر اور ملک بھر میں سڑکوں پر آنا پڑا پھر یہ ممکن ہوا۔ جبکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ جو قصور وار تھے اور جنہوں نےطلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا تھا ان کو سخت سے سخت سزا دی جاتی اور طلبہ کو یقین دلایا جاتا کہ اب پیپر لیک کرنے کی کوئی جرأت نہیں کرسکے گا مگر ایساکچھ نہیں ہوا۔ ۲۰۲۳ء سے اب تک مجھے یاد ہےکہ محض نیٹ نہیں شاید ہی کوئی ایسا امتحان رہا ہو جس کا پیپر لیک نہ ہوا ہو، یہ ایجوکیشن سسٹم پربہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔‘‘ 
کمپیوٹر انجینئرنگ کرنے والے مالونی کے معید احمد خان نے کہا کہ ’’وزیر تعلیم کا استعفیٰ کافی جدوجہد کےبعد ہوا ہے۔ یہ اچھی پہل ہے مگر سوال یہ ہے کہ خود حکومت نے اس کا نوٹس کیوں نہیںلیا؟ کیا اپنی آنکھوں میں ڈاکٹر بننے کا خواب سجائے مجبوراً موت کو گلے لگالینے والے طلبہ کی قیمتی جان کا کوئی بدل ہوسکتا ہے؟ اس لئے یہ ضروری ہے کہ ایجوکیشن سسٹم کو سدھارا جائے اور جو بھی اس کے لئے ذمہ دار ہے اس کے خلاف سخت ایکشن لیاجائے تاکہ پھر کسی طالب علم کی قیمتی جان نہ جائے، انہیں سڑکوں پر نہ اترنا پڑے اور وہ ذہنی انتشار اورمستقبل کی فکر میں خود کشی کرنے پرمجبور نہ ہو۔‘‘
 
 
اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کی اسٹوڈنٹس ونگ کے ۳۳؍ سالہ صدر عزیز الرحمٰن کے مطابق ’’قومی سطح پر نیٹ اور مہاراشٹر میں ٹی ای ٹی کا پیپر لیک ہو جانا معمولی بات نہیں تھی۔ دونوں جگہ بی جے پی کی حکومت تھی ایسے میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ ضروری تھا تاکہ مستقبل میں ایسی غلطی دوبارہ نہ ہو۔ ان کا استعفیٰ تعلیم اور طلبہ کی فتح ہے۔‘‘؎انہوں نے مزیدکہاکہ’’ تعلیم کے معاملے میں بدعنوانی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ تعلیم سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل اور کریئر وابستہ ہوتا ہے۔ چنانچہ مرکزی اور ریاستی وزیر تعلیم کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ مستقبل میں اس طرح کا واقعہ نہ ہو۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK