’سوشلسٹ‘ اور ’سیکولر‘ کا بھی ذکر نہیں، ایمرجنسی پر علاحدہ سے باب شامل کیا گیا، اندرا حکومت پر تنقید، الیکشن کمیشن کی تعریف کی گئی۔
EPAPER
Updated: June 27, 2026, 11:52 AM IST | New Delhi
’سوشلسٹ‘ اور ’سیکولر‘ کا بھی ذکر نہیں، ایمرجنسی پر علاحدہ سے باب شامل کیا گیا، اندرا حکومت پر تنقید، الیکشن کمیشن کی تعریف کی گئی۔
نیشنل کاؤنسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) نے نویں جماعت کے سماجی علوم(سوشل سائنس) کی نئی درسی کتاب سے آئین کی تمہید ہٹا دی ہے۔ جبکہ ایس آئی آر اور ایمرجنسی پر نیا باب شامل کر دیا ہے،اس درسی کتاب میں سوشلسٹ اور سیکولر الفاظ کا بھی ذکر نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک جانب این سی ای آر ٹی نے نویں جماعت کی سماجی علوم کی نئی کتاب میں اسپیشل اِنٹینسیو ریویژن(ایس آئی آر) اور ایمرجنسی کے موضوع پر ایک نیا باب شامل کیا ہے۔ جس میں ایس آئی آر کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔اس باب کے ذریعے طلبہ کو یہ بھی سمجھایا جائے گا کہ ووٹر لسٹ کا باقاعدہ جائزہ لینے سے انتخابی عمل مزید شفاف اور مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔دوسری جانب، نئی کتاب سے ہندوستانی آئین کی تمہید ہٹا دی ہے۔ اسکے علاوہ ’سوشلسٹ (سماج وادی)‘ اور ’سیکولر(مذہبی غیر جانب دار) جیسے الفاظ کا بھی ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کی جگہ ایک نیا الگ سیکشن شامل کیا گیا ہے۔ کتاب’انڈراسٹینڈنگ سوسائٹی: انڈیا اینڈ بیونڈ‘ کے ایک باب میں ایمرجنسی کو ہندوستانی جمہوریت کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جونپور: استاد حدیث مولانا سعادت علی قاسمی کا انتقال
جے پرکاش نارائن کی تحریک کا بھی ذکر
اگرچہ کتاب میں آئین کی تشکیل، جمہوری اداروں اور بنیادی حقوق کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن خودمختار (Sovereign)، سوشلسٹ، سیکولر، ڈیموکریٹک اورری پبلک جیسے آئینی الفاظ کی وضاحت شامل نہیں کی گئی۔ کتاب میں لوک نائک جے پرکاش نارائن کے کردار کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے طلبہ اور عام شہریوں کو منظم کیا، جس کے نتیجے میں بہار اور گجرات میں بڑی عوامی احتجاجی تحریکیں وجود میں آئیں۔ کتاب کے مطابق،۱۹۷۷ء میں ایمرجنسی ختم ہونے کے بعد عام انتخابات کرائے گئے، جن میں عوام نے ووٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کیا اور برسراقتدار حکومت کو شکست ہوئی۔کتاب اسے ہندوستانی جمہوریت کی مضبوطی کی ایک مثال قرار دیتی ہے۔
۴۲؍ویں آئینی ترمیم کا ذکر
سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے دورِ حکومت میں ایمرجنسی کے دوران۴۲؍ویں آئینی ترمیم(۱۹۷۶ء) کے ذریعے آئین کے دیباچے میں سیکولر، سوشلسٹ اورانٹیگریٹی(سالمیت)کے الفاظ شامل کیے گئے تھے۔ اس سے پہلے یہ الفاظ آئین کی تمہید کا حصہ نہیں تھے، تاہم یہ آج بھی ملکی آئین میں موجود ہیں۔کتاب میں کہا گیا ہے کہ۱۹۷۰ء کی دہائی کے آغاز میں اندرا گاندھی حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی بڑھ رہی تھی۔ بے روزگاری، مہنگائی اور بدانتظامی کے الزامات کی وجہ سے مختلف مقامات پر احتجاج ہوئے۔ بعد ازاں جون ۱۹۷۵ء میں اندرونی بدامنی کو بنیاد بنا کر ملک میں قومی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔کتاب کے مطابق، اس دوران:بیشتر بنیادی حقوق معطل کر دیے گئے۔ پریس پر سنسر شپ نافذ کر دی گئی۔ متعدد سیاسی لیڈران اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ کتاب میں کہا گیا ہے کہ اس دور میں جمہوری اداروں پر دباؤ بڑھ گیا اور شہری آزادی کو محدود کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: کیا وجے وڈیٹیوار بھی مہایوتی کے رابطے میں ہیں؟ اُودے سامنت کے بیان سے کھلبلی
جمہوریت کو درپیش دیگر چیلنجز
ایمرجنسی کے علاوہ کتاب میں جمہوریت کے سامنے موجود دیگر مسائل کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں شامل ہیں: فیک نیوز اور غلط معلومات، عوامی املاک کو نقصان پہنچانا، قوانین کی خلاف ورزی، غربت، علاقائیت، سماجی امتیاز، صنفی عدم مساوات۔ این سی ای آر ٹی نے پہلی مرتبہ’ڈیموکریسی اینڈ یُو‘کے عنوان سے ایک نیا سیکشن بھی شامل کیا ہے، جس کا مقصد طلبہ کو جمہوری عمل میں اپنی ذمہ داری اور کردار سے آگاہ کرنا ہے۔
اس کتاب میں الیکشن کمیشن کی بھی تعریف کی گئی ہے۔ کہا گیا کہ ملک میں انتخابات کرانا دنیا کے سب سے بڑے انتظامی کاموں میں شمار ہوتا ہے، لیکن اسکے باوجود الیکشن کمیشن آزاد اور منصفانہ انتخابات کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ کتاب میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کے دوران فیک نیوز، غلط معلومات کی تشہیر اور ووٹروں کو ڈرانا دھمکانا جیسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔ ان سے نمٹنے کیلئے الیکشن کمیشن عوامی نمائندگی قانون(آرپی اے)، ضابطۂ اخلاق، ای وی ایم ، وی وی پی اے ٹی اور ووٹر بیداری مہمات کا استعمال کرتا ہے۔ کتاب میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ صرف الیکشن کمیشن کی کوششیں کافی نہیں ہوتیں، بلکہ منصفانہ انتخابات کے لیے عوام کی بیداری اور فعال شرکت بھی ضروری ہے۔ شہری جتنے زیادہ باخبر اور ذمہ دار ہوں گے، جمہوریت اتنی ہی مضبوط ہوگی۔اس باب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں جمہوریت کا اہم حصہ ہیں۔ وہ عوام کے سامنے مختلف پالیسیاں اور منصوبے پیش کرتی ہیں تاکہ ووٹر اپنی پسند کا فیصلہ کر سکیں۔ طلبہ کو۱۹۷۷ء سے۲۰۲۴ء تک ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں کامیاب ہونے والے اتحادوں کا مطالعہ کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔