مہایوتی حکومت کی حصولیابیوں کا ذکر کیا اور ۳۰؍ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور دیگر اہداف کے ذریعہ ’ترقی یافتہ مہاراشٹر‘ کے عزم کا اعادہ کیا
EPAPER
Updated: February 23, 2026, 11:05 PM IST | Iqbal Ansari | Vidhan Bhavan
مہایوتی حکومت کی حصولیابیوں کا ذکر کیا اور ۳۰؍ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور دیگر اہداف کے ذریعہ ’ترقی یافتہ مہاراشٹر‘ کے عزم کا اعادہ کیا
ممبئی کے ودھان بھون میں مہاراشٹر حکومت کا بجٹ اسمبلی اجلاس کی کارروائی پیر کو گورنر آچاریہ دیوورت کی تقریر سے شروع ہوا۔ گورنر نے دونوں ایوانوں کے اراکین سے مشترکہ طور پر افتتاحی خطاب کیا اور مہایوتی حکومت ، جسے انہوںنے اپنی تقریر میں ’ میری سرکار‘کہہ کر مخاطب کیا، کے کام اور ویژن کی تعریف کی۔ اپنی تقریر کے ابتدائی حصے میں انہوںنے کہاکہ ’’ میری سرکار مہاراشٹر۔کرناٹک سرحد پر جاری تنازع کو سلجھانے کی پابند ہے۔‘‘ گورنر آچاریہ دیوورت کے اپنی تقریر کی شروعات میں مراٹھی میں کچھ سطریں پڑھی اس کے بعد ہندی میں اسے جاری رکھا۔ انہوں نے بی جے پی کی قیادت والی مہایوتی حکومت کی کامیابیوں۱ء۶۴؍ لاکھ کروڑ روپے کی غیر ملکی سرمایہ کاری اور وکست مہاراشٹر۲۰۴۷ءکے روڈ میپ کے تحت منصوبوں پر روشنی ڈالی اور یقین دلایاکہ ۲۰۴۷ء تک مہاراشٹر ۵؍ ٹریلین اکنامی بن جائےگا۔
مہاراشٹر کی اقتصادی کارکردگی کو اجاگر کرتے ہوئے، گورنر نے کہا کہ ریاست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک ترجیحی مقام بنی گئی ہے اور فی الحال ملک کی جی ڈی پی میں تقریباً۱۳ء۵؍فیصد کا حصہ ڈالتی ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ مہاراشٹر نے ۲۵۔۲۰۲۴ء میںایک لاکھ ۶۴؍ ہزار کروڑ روپے کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی، جو کہ ملک کی کل ایف ڈی آئی آمد کا۳۹؍ فیصد ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جنوری۲۰۲۶ء میں ڈاؤس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم کے نتیجے میں تقریباً۳۰؍ لاکھ کروڑ روپے کی مفاہمت کی یادداشت ہوئی، جس سے ریاست میں۴۰؍ہزار سے زیادہ ملازمتیں پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔
وِکست مہاراشٹر۲۰۴۷ء(ترقی یافتہ مہاراشٹر)کے روڈ میپ کا حوالہ دیتے ہوئے گورنرآچاریہ دیوورت نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد ریاست کی معیشت کو۲۰۴۷ء تک۵؍ ٹریلین امریکی ڈالر تک پھیلانا ہے۔ اس ویژن کے ایک حصے کے طور پر، حکومت۲۰۳۰ءتک ۱۷؍لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور تقریباً۵۰؍ لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے ہندوہردیہ سمراٹ بالاصاحب ٹھاکرے سمرُدھی مہامارگ کو ودھون تک توسیع کرنے کا اعلان کیا جس سے رابطہ نظام کو مزید مضبوطی ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی نکسل متاثرہ ضلع گڈچرولی کو ’اسٹیل ہب‘ میں تبدیل کرنے اور ودربھ میں اسٹیل کوریڈور قائم کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔ دیہی علاقوں میں رابطہ بڑھانے کیلئے’ مکھیہ منتری بلی راجا فارم روڈس‘ اسکیم پر مؤثر عمل درآمد جاری ہے جبکہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کیلئے جدید ٹکنالوجی کے استعمال اور زرعی پیداوار کی منصوبہ بندی میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس پالیسی نافذ کرنے کی بات کہی گئی۔ مہاراشٹر-کرناٹک سرحدی تنازعہ پر گورنر نے کہا کہ حکومت سرحدی علاقوں کے مراٹھی بولنے والے شہریوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور اس مسئلہ کو قانونی طریقہ سے حل کیا جائے گا۔ سرحدی علاقوں کے عوام کیلئے مختلف فلاحی اسکیمیں نافذ کی جا رہی ہیں جبکہ پولیس اہلکاروں کیلئے خصوصی رہائشی اسکیم بھی شروع کی گئی ہے۔ گورنر نے ۲۶۔۲۰۳۰ء کیلئے نئی صنعتی و خدماتی پالیسی کا اعلان بھی کیا۔