• Wed, 09 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاراشٹر کی مسلم اکثریتی نشستوں میں ۳۰؍ فیصد ووٹروں کا نام آگے منتقل نہیں کیا گیا

Updated: September 09, 2026, 7:00 PM IST | Mumbai

مہاراشٹر کی مسلم اکثریتی نشستوں میں ۳۰؍ فیصد رائے دہندگان کا نام آگے منتقل نہیں کیا گیا، یہ بات مسودہ فہرستوں کے اعداد و شمار کے تجزیے سے سامنے آئی ہے، سب سے زیادہ شرح ممبئی اور ممبئی میٹروپولیٹن علاقے کے کئی گنجان آباد حلقوں میں درج کی گئی ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مہاراشٹر کے ۳۸؍ اسمبلی حلقوں میں، جہاں مسلم آبادی کل آبادی کا پانچواں حصہ (۲۰؍ فیصد) سے زیادہ ہے، وہاں تقریباً ۳۰؍ فیصد ووٹرز کو خصوصی شدید ترمیم (SIR) کے تحت تیار کردہ مسودہ انتخابی فہرستوں میں آگے منتقل نہیں کیا گیا ہے۔ یہ بات مسودہ فہرستوں کے اعداد و شمار کے تجزیے سے سامنے آئی ہے۔ان۳۸؍ حلقوں میں کل ووٹرز میں سے۳۷؍ لاکھ ۵۱؍ ہزار ووٹرز، یا۲۹؍ اعشاریہ۷۷؍ فیصد، کو ’’ناقابلِ جمع‘‘ (uncollectable) کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔ پورے مہاراشٹر میں یہ شرح ۲۱؍ اعشاریہ۱۴؍ فیصد ہے۔سب سے زیادہ شرحیں ممبئی اور ممبئی میٹروپولیٹن علاقے کے کئی گنجان آباد حلقوں میں درج کی گئی ہیں۔ بھیونڈی مشرقی میں۴۹؍ اعشاریہ۱۰؍ فیصد ووٹرز آگے منتقل نہیں کیے گئے، اس کے بعد بھیونڈی مغربی میں۴۴؍ اعشاریہ۷۲؍  فیصد، ممبرا-کلوہ میں۴۲؍ اعشاریہ۹۱؍ فیصد اور مانخورد شیواجی نگر میں۴۲؍اعشاریہ ۳۱؍ فیصد ہیں۔ممبئی میں، چاندیولی، جہاں مسلم آبادی۲۷؍اعشاریہ ۶؍ فیصد ہے، وہاں ناقابلِ جمع شرح۴۱؍اعشاریہ ۴۴؍ فیصد درج کی گئی۔ سائن-کولیواڑہ اور پونے چھاؤنی میں بھی شرحیں۴۰؍ فیصد سے زیادہدرج کی گئیں۔تاہم، یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی نہیں کرتے کہ آیا انفرادی مسلم ووٹرز کو خارج کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایم پی ایس سی میں بدعنوانی کیخلاف پونے کے بعداورنگ آبادمیں بھی زبردست احتجاج

واضح رہے کہ SIR کا ڈیٹا مذہب کے لحاظ سے درجہ بند نہیں ہے، اور یہ تجزیہ ان اسمبلی حلقوں پر مبنی ہے جن میں مسلم آبادی۲۰؍ فیصد سے زیادہ ہے۔اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ آگے منتقل نہ کیے گئے ووٹرز کا تناسب ضروری نہیں کہ حلقے میں مسلم آبادی کے حصہ کے ساتھ بڑھے۔مالیگاؤں سنٹرل، جس میں۳۸؍ حلقوں میں مسلم آبادی کا سب سے زیادہ حصہ۷۸؍ اعشاریہ ۴؍ فیصد ہے، نے ناقابلِ جمع شرح۲۳؍اعشاریہ ۴۶؍ فیصد ریکارڈ کی۔ اس کے مقابلے میں، مانخورد شیواجی نگر، جہاں مسلم آبادی۵۳؍ فیصد ہے، نے۴۲؍ اعشاریہ ۳۱؍ فیصد کی شرح درج کی۔ بھیونڈی مشرقی، جس میں مسلم آبادی کا حصہ۵۱؍ فیصد ہے، نے سب سے زیادہ شرح۴۹؍اعشاریہ ۱۰؍ فیصد درج کی۔
اس کے علاوہ کئی حلقوں میں نمایاں طور پر کم شرحیں درج کی گئیں۔ ملکاپور میں، جہاں مسلم آبادی۲۰؍ اعشاریہ ۴؍ فیصد ہے،۷؍ اعشاریہ۶۸؍ فیصد ووٹرز کو ناقابلِ جمع نشان زد کیا گیا۔ راویر میں شرح۹؍ اعشاریہ ۹۱؍ فیصد، لاتور شہر میں ۱۱؍اعشاریہ ۹۱؍ فیصد اور بالاپور میں۱۱؍ اعشاریہ۷۱؍ فیصد تھی۔ناقابلِ جمع نشان زد ووٹرز کا ایک اہم حصہ ’منتقل ہو چکے، ناقابلِ تلاش یا غیر حاضر ‘کے طور پر ریکارڈ کیا گیا۔ ان۳۸؍ حلقوں میں، مستقل منتقل ہونے والے ووٹرز کا حصہ ناقابلِ جمع ووٹرز کا ۴۲؍ اعشاریہ صفر۵؍ فیصد تھا، جبکہ ناقابلِ تلاش یا غیر حاضر کے طور پر نشان زد ووٹرز کا حصہ۳۵؍اعشاریہ ۵۹؍ فیصد تھا۔ مرحوم ووٹرز کا حصہ۱۲؍ اعشاریہ ۷۶؍ فیصد اور ڈپلیکیٹ رجسٹریشن کا حصہ۸؍ اعشاریہ ۳۳؍ فیصد تھا۔

یہ بھی پڑھئے: جرنگے کی حمایت میں ہنگولی میں سیاسی پروگراموں کا بائیکاٹ

بعد ازاں سماجی کارکن عرفان عقیل نے کہا،’’SIR مہم نے مسلم اکثریتی علاقوں میں لوگوں میں بیداری پیدا کی ہے۔ پچھلے چند مہینوں میں، کئی کمیونٹی گروپس اور مقامی تنظیموں نے لوگوں کو دستاویزات کی ضروریات کو سمجھنے اور اپنے ریکارڈز کو درست کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ،’’مسودہ فہرست مزید لوگوں کو اپنے ریکارڈز کو باقاعدہ بنانے کی ترغیب دے سکتی ہے۔ امید ہے کہ جن لوگوں کے نام آگے منتقل نہیں کیے گئے، وہ بھی دعوے کے مرحلے کے دوران اپنی دستاویزات کو ترتیب دینے کی ترغیب پائیں گے۔ کمیونٹی گروپس اس سمت میں کام کر رہے ہیں۔‘‘
۳۸؍ مسلم اکثریتی حلقوں کی مشترکہ اخراج کی شرح ۲۹؍ اعشاریہ ۷۷؍ فیصد کو معیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے، پوری ریاست کے۵۳؍ اسمبلی حلقوں نے اخراج کی شرحیں اس سطح پر یا اس سے زیادہ درج کیں۔ ان میں قلابہ (۴۶؍اعشاریہ ۹۲؍ فیصد)، کھڑک (۴۶؍ اعشاریہ ۵۳؍ فیصد)، نالاسوپارہ (۴۶؍ اعشاریہ۳۵؍ فیصد)، کوٹھرود (۴۶؍اعشاریہ  ۱۷؍  فیصد) اور کلیان دیہی (۴۶؍ اعشاریہ ۰۵؍ فیصد) شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: آکرتی چودھری سے متعلق کورٹ کے فیصلے پر اپوزیشن پارٹیوں نے گیانیش کمار کو بھی نشانہ بنایا

مزید برآں محفوظ نشستوں کے ساتھ موازنہ ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔۲۹؍ ایس سی (شیڈولڈ کاسٹ) کے لیے محفوظ نشستوں کی مشترکہ اخراج کی شرح۱۹؍ اعشاریہ ۶۱؍ فیصد تھی، جو مسلم اکثریتی نشستوں کی۲۹؍اعشاریہ ۷۷؍ فیصد اور ریاست بھر کی۲۱؍اعشاریہ ۱۴؍ فیصد دونوں سے کم ہے۔ صرف چھ ایس سی نشستوں نے ۲۹؍اعشاریہ ۷۷؍  فیصد کی حد کو عبور کیا، جن میں امبرناتھ (۴۴؍اعشاریہ ۱۷؍ فیصد) اور پمپری (۴۱؍ اعشاریہ۱۷؍فیصد) سرفہرست تھے، جبکہ باقی۲۳؍ نشستوں نے کم شرحیں درج کیں۔علاوہ ازیں۲۵؍ ایس ٹی (شیڈولڈ ٹرائب) کے لیے محفوظ نشستوں کی مشترکہ اخراج کی شرح اس سے بھی کم۱۳؍اعشاریہ۲۱؍ فیصد تھی، صرف بوئسر نے ۲۹؍اعشاریہ ۷۷؍ فیصد کی حد کو عبور کیا، جس کی شرح ۳۴؍ اعشاریہ ۳۵؍ فیصد تھی۔·

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK