• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

نواب ملک نے نیا انجکشن لگوایا اسلئے رہائی ممکن ہوئی

Updated: August 13, 2023, 10:35 AM IST | Agency | Mumbai

این سی پی لیڈر کو ضمانت ملنے پر سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں ، شیوسینا اور کانگریس نے رہائی کے پیچھے’سمجھوتے‘ کا شبہ ظاہر کیا، این سی پی کے دونوں گروہوں نے الزم کو مسترد کیا

 Did CP`s joining hands with BJP work for Nawab Malik?. Photo :INN
کیا این سی پی کا بی جے پی سے ہاتھ ملانا نواب ملک کے کام آیا ؟۔ تصویر:آئی این این

این سی پی لیڈر نواب ملک کو تقریباً ۱۶؍ ماہ بعد سپریم کورٹ نے ضمانت دی ہے جلد ہی وہ جیل سے باہر آ جائیں گے۔ عجیب اتفاق یہ ہے این سی پی کے باغی گروہ نے بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملا کر حکومت میں شمولیت اختیار کی اور نواب ملک کو رہائی کا پروانہ ملا۔ اس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئی ہیں ۔ اپوزیشن پارٹیوں نےتو براہ راست الزام لگانا شروع کر دیا ہے کہ نواب ملک کو ایک سمجھوتے کے تحت ضمانت دی گئی ہے۔
  شیوسینا ( ادھو ) کے ترجمان سنجے رائوت کا کہ نواب ملک نے نیا انجکشن لیا ہے جسکی وجہ سے ان کی رہائی عمل میں آرہی ہے۔ رائوت کاکہنا تھا ’’نواب ملک ۱۶؍ ماہ کے بعد جیل سے چھوٹے ہیں ۔ لیکن جو لوگ جیل جانے والے تھے۔ جن پر اسی طرح کے الزام تھے۔ وہ آج حکومت میں شامل ہیں ۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ آپ دیکھ لیجئے کہ مہاراشٹر میں کیا چل رہا ہے۔‘‘ سنجے رائوت نے مرکزی حکومت کی جانب سے وطن سے غداری کے قانون کو واپس لئے جانے کو اس معاملے سے جوڑتے ہوئے کہا ’’ آپ نے وطن سے غداری کو ختم کر دیا ہے لیکن اس قانون کو پیچھے ڈالنے والا ایک نیا قانون لے آئے ہیں ۔ ویسے بھی آپ اپنے مخالفین کے خلاف جس طرح تفتیش ایجنسیوں کا استعمال کر رہے ہیں وہ برطانوی حکومت سے بھی زیادہ خطرناک رجحان ہے۔‘‘ 
  کانگریس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے نواب ملک کی ضمانت کو ریاست میں ایک نئے سیاسی کھیل سے تعبیر کیا ہے۔ پرتھوی راج چوہان نے کہا ’’ نواب ملک پر سیاسی دبائو ڈال کر اپنا موقف بدلنے کیلئے کہا گیا ہوگا۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ اس بار سی بی آئی نے ان کی ضمانت کی مخالفت نہیں کی؟‘‘ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ’’ اس میں کوئی سیاسی کھیل ہو سکتا ہے۔‘‘ یاد رہے کہ نواب ملک کی ضمانت کی خبر آتے ہی یہ باتیں ہونے لگیں کہ انہوں نے این سی پی کے اجیت پوار والے گروپ میں جانےپر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اسی کی بنا پر انہیں رہائی کا پروانہ دیا گیا ہے۔ ‘‘ کانگریس کی یشومتی ٹھاکر کا کہنا ہے کہ نواب ملک پہلے ہی ضمانت مل جانی چاہئے تھی۔ لیکن حکومت نے دبائو ڈالنے کیلئے انہیں جیل میں رکھا۔ یشومتی ٹھاکر کا کہنا تھا کہ ’’ دبائو کی سیاست، تفتیشی ایجنسیوں کا غلط استعمال، یہ ساری باتیں کار فرما ہیں جو کہ بالکل بھی درست نہیں ہیں ۔‘‘ 
  ادھر حکومت میں شامل این سی پی کے سینئر لیڈر چھگن بھجبل نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ نواب ملک کو دی گئی ضمانت میں کسی طر ح کا کوئی سیاسی کھیل شامل ہے۔ انہوں نے کہا ’’ نواب ملک کو طبی بنیاد پر ضمانت دی گئی ہے۔ یہ ضمانت ۲؍ ماہ کیلئے ہے تاکہ وہ اپنا علاج کرواسکیں ۔ ‘‘ بھجبل نے کہا ’’ اس میں کسی بھی طرح کا کوئی سیاسی کھیل نہیں ہے۔‘‘ این سی پی کے سینئر لیڈر ایکناتھ کھڑسے ( جو خود پہلے بی جے پی میں تھے) کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے پاس واشنگ مشین سے بھی بڑی کوئی مشین ہے جس میں کسی انسان کو ڈالا جائے تووہ صاف ستھرا ہو جاتا ہے۔پھر چاہے وہ انسان کتنا ہی گندا کیوں نہ ہو ، کتنا ہی بد عنوان کیوں نہ ہو۔‘‘ لیکن دوسری طر ف کھڑسے کا کہنا تھا’’ نواب ملک پر شرد پوار کے بہت سے احسان ہیں ۔ پوار نے ہی انہیں ترقی دی ہے۔ انہوں نے بھی بہت عمدہ کام کیا ہے ۔ اس لئے مجھے لگتا ہے کہ وہ شرد پوار کے گروپ ہی میں رہیں گے۔‘‘ 
 حالانکہ این سی پی کے شردپوار گروپ نے ان تمام خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے کہ نواب ملک اجیت پوار گروپ یا بی جے پی میں شامل ہوں گے۔پارٹی ترجمان مہیش تپاسے ان کی رہائی کی خبر آتے ہی کہا تھا کہ ’’ ہم ان کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ وہ پارٹی کی ایک مضبوط آواز رہے ہیں ۔ ہم ان کی واپسی کا بے چینی کے ساتھ انتظار کر رہے تھے۔‘‘ادھر این سی پی کے اجیت پوار گروہ کے ترجمان نریندر رانے کا کہنا ہے کہ’’ یہ بات بالکل غلط ہے کہ نواب ملک کو ضمانت اس لئے دی گئی ہے کہ این سی پی نے بی جے پی سے ہاتھ ملا لیا۔ انہیں عدالت نے ضمانت دی ہے۔ ہمیں پہلے سے یقین تھا کہ نواب بھائی کبھی غلط کام نہیں کر سکتے۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ بہت جلد بے گناہ ثابت ہوں گے۔‘‘ این سی پی کی کارگزار صدر سپریہ سلے نے بھی نواب ملک کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے اور انہیں بے گناہ قرار دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK