• Wed, 07 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’مہایوتی کی اقتدار کی بھوک جمہوریت کو نگلنے کے قریب پہنچ گئی ہے‘‘

Updated: January 06, 2026, 11:46 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

میونسپل کارپوریشن الیکشن میں لالچ دے کر، ڈرادھمکاکرامیدواروں کےبلا مقابلہ انتخاب پر ہرش وردھن سپکال کا الزام۔ ان سیٹوں پر’نوٹا‘ کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔

Harsh Vardhan criticizing the Mahayoti at the press conference. Picture: Inquilab
پریس کانفرنس میں ہرش وردھن سپکال مہایوتی پرتنقید کرتے ہوئے۔ تصویر: انقلاب
ریاست میں ۲۹؍ میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کی کارروائیاں جاری ہیںاور ۱۵؍  جنوری کو ووٹنگ اور ۱۶؍ جنوری کو نتائج کا اعلان ہوگا لیکن اس سے قبل ہی مہایوتی میں شامل بی جے پی اور ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا  کے  امیدوار۶۸؍ سیٹوں پر  بلا مقابلہ منتخب قرار دیئے گئے ہیں۔ اس پر مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی مہایوتی کی اقتدار کی بھوک جمہوریت کو نگلنے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ میونسپل انتخابات میں ’باپ بڑا نہ بیٹا، سب سے بڑا روپیہ!‘کا تماشہ کھلے عام چلایا جا رہا ہے۔ امیدواروں کو روپیوں کا لالچ دے کر اور ڈرا دھمکا کر بلامقابلہ جیتنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بلا مقابلہ منتخب کر کے حکومت رائے دہندگان سے ان کے ووٹ کا حق چھین رہی ہے ۔ لہٰذا جن امیدوارو ںکو بلامقابلہ منتخب قراردیا گیا ہے، ان پولنگ بوتھوں میں ’نوٹا‘ سے الیکشن کروایاجائے۔
ہرش وردھن سپکال نے ۲؍پارٹیوں کے امیدواروں کو ڈرانے دھمکانے پر مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر ایڈوکیٹ راہل نارویکر کو عہدے سے برخاست کرنے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے پیر کو تلک بھون(پریل) میں پریس کانفرنس کا انعقاد کیا تھا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ’’ انتخابات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایک مضبوط جمہوریت میں اپوزیشن کو یکساں اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی کابینہ میں ۶؍غیر کانگریسی وزیر تھے۔ یہ ہماری ثقافت اور روایت رہی ہے لیکن اب بی جے پی اورمہا یوتی نے ’’کوئی اپوزیشن نہیں‘‘کی ذہنیت اپنا لی ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکمراں پارٹی بلا مقابلہ انتخابات کو یقینی بنانے کیلئےکسی بھی حد تک جا رہی ہے۔ مخالف امیدواروں کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے روکا جا رہا ہے، دھمکیاں دی جا رہی ہیں، دباؤ کی سیاست کی جا رہی ہے، پولیس اور انتظامیہ کی مدد سے بے شرمی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے جبکہ الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ کانگریس اس کی سخت مخالفت کرتی ہے۔ جمہوریت میں، ووٹ کے آئینی حق میں ’ نوٹا‘ کا آپشن شامل ہے۔ سپکال نے کہا کہ اس لئے جہاں متفقہ فیصلہ کیا جا رہا ہے، وہاں ووٹروں کو’نوٹا‘کا آپشن فراہم کیا جانا چاہئے۔
ریاستی کانگریس کے صدر نے کہا کہ’’ آئینی عہدے پر فائز شخص سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی بددیانتی سے بالاتر ہو کر برتاؤ کرے۔ لوک سبھا کے اسپیکر، راجیہ سبھا کے چیئرمین، گورنر، قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر اور قانون ساز کونسل کے چیئرمین، یہ سب آئینی عہدے ہیں اور ان کا احترام کیا جاتا ہے۔ تاہم مہاراشٹر اسمبلی کے اسپیکر ایڈوکیٹ راہل نارویکر نے اپنے عہدے کے وقار کو مجروح کیا ہے۔ اپنی پہلی میعاد کے دوران انہوں نے  ’اینٹی ڈیفیکشن لاء‘کو کمزور کر کے جمہوریت اور آئین کے سینے میں چھرا گھونپا جس کے انعام کے طو رپر انہیں دوسرے ٹرم میں دوبارہ اسپیکر کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ اب یہ ’شریف آدمی‘ بلدیاتی انتخابات میں اپنے رشتہ داروں کیلئے انتہائی نچلی سطح تک جا پہنچا ہے۔ اس نے اپوزیشن امیدواروں کو کاغذات نامزدگی داخل کرنے سے روکنے، دھمکیاں دینے اور اپنے عہدے کا غلط استعمال کرنے جیسے سنگین جرم کئے ہیں۔ ان کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔ ‘‘
  ہرش وردھن سپکال نے صدر جمہوریہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مداخلت کریں اور راہل نارویکر کو ان کے عہدے سے برخاست کریں  ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس پارٹی نے الیکشن کمیشن کو ایک خط بھیج کر اپوزیشن کو دھمکانے کے معاملے میں تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کیا تھا، لیکن کمیشن نے ثبوت مانگے۔ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب ہے، جن لوگوں کو روکا گیا اور ڈرایا گیا ،ان کی شکایات کی بنیاد پر کارروائی کی جائے۔ اب تحقیقاتی رپورٹ آگئی ہے لیکن یہ محض الفاظ کا کھیل ہے۔    کانگریس کے ریاستی صدر  کے بقول ’’تینوں حکمران جماعتیں متعدد جگہوں پر آمنے سامنے ہیں اور ایک دوسرے پر الزام ترشیاں کر رہی ہیں۔ یہ صورت حال ایسی ہے کہ ’میں مارنے کا ڈرامہ کروں گا، تم رونے کا ڈھونگ کرنا‘۔ مہایوتی کے اندر ’نورا کشتی‘ چل رہی ہے۔ اگر معاملہ اتنا ہی سنگین ہے تو اجیت پوار اور ایکناتھ شندے کو اقتدار سے دستبردار ہونا چاہئے یا بی جے پی کو ان دونوں کو باہر کا دروازہ دکھانا چاہئے۔‘‘  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK