Inquilab Logo Happiest Places to Work

یو این ماہرین کا ایس آئی آر کےذریعے اقلیتوں کو بڑےپیمانے پر حقِ رائے دہی سے محروم کئے جانے کا انتباہ

Updated: July 09, 2026, 10:23 PM IST | New York

اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے ووٹر ڈیٹا میں ”بے ضابطگیوں“ کی نشان دہی کیلئے اے آئی پر مبنی نظام کے استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شفافیت کی کمی اور الگورتھم کے متعصب ہونے کا خطرہ حقیقی ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کر سکتا ہے اور جمہوری انصاف کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

Irene Khan, Nicolas Levrat, and Nazila Ghanea. Photo: X
نائلہ غنی، نکولس لیورات اور آئرین خان۔ تصویر: ایکس

اقوامِ متحدہ (یو این) کے تین خصوصی مبصرین (اسپیشل ریپورٹیرز) نے حکومتِ ہند کو خط لکھ کر قومی انتخابی کمیشن کی ’اسپیشل انٹینسو ریویژن‘ مہم پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ووٹر لسٹوں سے بڑے پیمانے پر ناموں کا حذف کیا جانا غیر متناسب طور پر مسلمانوں، بنگالیوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقۂ کار (اسپیشل پروسیجرز) کے تحت حکومتِ ہند کو بھیجے گئے اس خط پر یکم مئی ۲۰۲۶ء کی تاریخ درج ہے۔ اس مکتوب پر اقلیتی امور کے خصوصی مبصر نکولس لیورات، رائے اور اظہارِ رائے کی آزادی کی خصوصی مبصر آئرین خان، مذہب یا عقیدے کی آزادی کی خصوصی مبصر نائلہ غنی کے دستخط ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: قبول ِاسلام پر ریزرویشن سے محرومی کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن

ماہرین نے ایس آئی آر کے خلاف لگائے گئے ان الزامات کو نوٹ کیا کہ اب تک ۱۲ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں تقریباً ۵ کروڑ ۲۰ لاکھ ووٹروں کے نام، ووٹر لسٹوں سے نکالے جا چکے ہیں، جن میں صرف مغربی بنگال کے ۹۱ لاکھ نام شامل ہیں۔ کئی متاثرہ افراد نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس جائز شناختی دستاویزات موجود ہونے کے باوجود انہیں فہرست سے باہر کر دیا گیا۔ ریاست کے ایک انتخابی حلقے ’نندی گرام‘ میں مبینہ طور پر حذف کئے گئے ووٹرز میں ۹۵ فیصد مسلمان شامل تھے، جبکہ اس حلقے کے کل ووٹرز میں مسلمانوں کا تناسب محض ۲۵ فیصد کے قریب ہے۔ مغربی بنگال میں لگ بھگ ۲۷ لاکھ لوگوں کو ”منطقی تضادات“ کے وسیع زمرے کے تحت ووٹر لسٹ سے باہر کیا گیا۔ اس زمرے کے تحت، دستاویزات پر ناموں میں ہجے (اسپیلنگ) کی معمولی غلطیاں بھی شامل ہیں جنہیں ہندوستان میں عام انتظامی مسائل قرار دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ۸۶؍لاکھ طلبہ نے سرکاری اسکولوں کو خیر باد کہہ دیا! وزارت تعلیم کی رپورٹ

اقوامِ متحدہ کے مبصرین نے ووٹر ڈیٹا میں ”بے ضابطگیوں“ کی نشان دہی کیلئے مصنوعی ذہانت (اے آئی AI) پر مبنی نظام کے استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شفافیت کی کمی اور الگورتھم کے متعصب ہونے کا خطرہ حقیقی ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کر سکتا ہے اور جمہوری انصاف کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اس خط میں مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ سمیت اعلیٰ سرکاری حکام کے ذریعے دیئے جانے والے ان بیانات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جنہوں نے عوامی سطح پر ووٹروں کے نام خارج کرنے کو ”غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکینِ وطن“ کو نشانہ بنانے سے تعبیر کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق، اس بیانیے نے ہندوستانی مسلمان شہریوں اور غیر ملکی شہریوں کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ انتخابات کے تناظر میں ”ڈٹیکٹ، ڈیلیٹ اینڈ ڈیپورٹ“ (پتہ لگاؤ، حذف کرو اور ملک بدر کرو) کی پالیسی کے حوالوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ مبصرین نے خبردار کیا کہ ایسا بیانیہ، شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی کنونشن (ICCPR) کے آرٹیکل ۲۰(۲) کی خلاف ورزی کرسکتا ہے، جو قومی یا مذہبی منافرت کی وکالت پر پابندی لگاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کولکاتا ہائی کورٹ: ایس آئی آر ٹریبونل کو تمام عرضی نمٹانے کیلئے۲۱؍ سال درکار

سپریم کورٹ نے ۱۶ اپریل کو آرٹیکل ۱۴۲ کا استعمال کرتے ہوئے مغربی بنگال میں فہرست سے نکالے گئے ووٹرز کو ۲۳ اور ۲۹ اپریل کو دو مرحلوں میں ہونے والے ریاستی انتخابات سے قبل اپنا نام دوبارہ شامل کرانے کی اجازت دی تھی۔ تاہم، اس نظرِ ثانی کے نتیجے میں ۳۴ لاکھ سے زیادہ اپیلیں سامنے آئیں، جس نے انتہائی مختصر وقت میں ٹریبونلز پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے حکومت ہند پر جاری خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے عبوری اقدامات کرنے اور فہرست سے نکالے گئے افراد کے مذہب اور نسل پر مبنی تفصیلی ڈیٹا فراہم کرنے کیلئے زور دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK