Updated: May 02, 2026, 5:05 PM IST
| New York
محمود خلیل کو غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ جنگی کارروائیوں کے خلاف کیمپس میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کی وجہ سے مارچ ۲۰۲۵ء کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ قانونی رہائش رکھنے اور کسی بھی جرم کے الزامات نہ ہونے کے باوجود، ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں ملک بدر کرنے کی کوشش کی تھی۔
محمود خلیل اور وکی پالاڈینو۔ تصویر: ایکس
امریکی تعلیمی اداروں میں فلسطین حامی تحریک کے نمایاں کارکن اور کولمبیا یونیورسٹی کے سابق طالب علم محمود خلیل نے بیان ہے کہ امریکی امیگریشن حراست سے رہائی کو مہینوں گزر جانے کے باوجود انہیں مسلسل دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خلیل نے نیویارک شہر کی ایک کونسل وومن کے متنازع تبصرے کا جواب دیتے ہوئے ان دھمکیوں کے بارے میں بتایا۔
اس سے پہلے نیویارک شہر کی کونسل ممبر وکی پالاڈینو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں تجویز دی تھی کہ خلیل کو ایک فوجی طیارے میں بٹھا کر ”شام کے اوپر پچھلے حصے سے دھکا دے کر باہر نکال دینا چاہئے۔“ خلیل نے ایکس پر پالاڈینو کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ”نیویارک سٹی کی ایک کونسل وومن عوامی طور پر مجھے قتل کرنے کے خواب دیکھ رہی ہے اور (اس کے باوجود) کسی نہ کسی طرح مجھے ہی خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔“
واضح رہے کہ محمود خلیل کو غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ جنگی کارروائیوں کے خلاف کیمپس میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کی وجہ سے مارچ ۲۰۲۵ء کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ شام میں پیدا ہونے والے فلسطینی نژاد محمود خلیل کولمبیا یونیورسٹی کے اسکول آف انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز میں زیرِ تعلیم تھے جب انہیں امریکی امیگریشن حکام نے گرفتار کر لیا تھا۔ قانونی رہائش رکھنے اور کسی بھی جرم کے الزامات نہ ہونے کے باوجود، ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں ملک بدر کرنے کی کوشش کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ۷۶ ویں فیفا کانگریس: فلسطینی فٹبال فیڈریشن کے صدر کا اسرائیلی ایف اے کے نائب صدر سے مصافحہ سے انکار
خلیل کی حراست نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی تھی۔ ان کی گرفتاری کے بعد، شہری حقوق کے علمبرداروں نے آزادیِ اظہار اور قانونی تقاضوں کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ جون ۲۰۲۵ء میں، ایک امریکی جج نے خلیل کی حراست کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ تاہم، ان کی امیگریشن کی حیثیت سے متعلق قانونی کارروائی اب بھی جاری ہے، کیونکہ حکام اس کیس کے مختلف پہلوؤں پر تاحال قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔