مذاکرات کے دوران جنگ کے خاتمے کے لئے کسی بڑے معاہدے پر پیش رفت نہیں ہوسکی۔
EPAPER
Updated: February 07, 2026, 10:29 AM IST | Abu Dhabi
مذاکرات کے دوران جنگ کے خاتمے کے لئے کسی بڑے معاہدے پر پیش رفت نہیں ہوسکی۔
روس اور یوکرین کے درمیان یو اے ای میں ہونے والے مذاکرات کے بعد دونوں ممالک نے۳۰۰؍ سے زائد قیدیوں کا تبادلہ کیا ہے لیکن ان مذاکرات کے دوران جنگ کے خاتمے کے لئے کسی بڑے معاہدے پر پیش رفت نہیں ہوسکی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ، روس اور یوکرین کے وفود کے درمیان ابوظہبی میں ہونے والے دو روزہ مذاکرات کے دوران قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا گیا تھا جسے امریکی ثالث نے پانچ ماہ بعد ہونے والا پہلا بڑا قیدی تبادلہ قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی نمائندے اسٹیو وِٹکوف کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مجموعی طور پر۳۱۴؍ قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا گیا۔ بعد ازاں روسی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ دونوں جانب سے۱۵۷-۱۵۷؍ قیدیوں کا تبادلہ کیا گیا ہے۔
امریکی نمائندے نے مذاکرات کو مفصل اور مثبت قرار دیا لیکن اُن کا کہنا تھا کہ جنگ کے مکمل خاتمے کے لئے ابھی اہم اور مشکل کام باقی ہے۔ روسی مذاکرات کار کریل دمتریف نے بھی گفتگو میں پیش رفت کا دعویٰ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: انتخابات سے قبل سرکاری ملازمین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں
دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے باوجود علاقائی تنازع پر کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی۔ نہ ہی روس کی جانب سے اپنے مطالبات میں نرمی کے آثار دکھائی دیئے۔
اسی دوران روس کی جانب سے یوکرین کے توانائی کے نظام پر حملے جاری رہے جس کے باعث شدید سردی میں کیف کے کئی علاقوں میں بجلی اور حرارت کی سپلائی معطل رہی۔
بدھ کو زیلنسکی نے اعتراف کیا کہ فروری ۲۰۲۲ء میں جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک کم از کم۵۵؍ ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ روس نے اپنے جانی نقصانات کے اعداد و شمار جاری نہیں کئے۔