ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین اور ایران-خلیجی خطے میں جاری جنگی تنازعات کے باعث دنیا کو آنے والے مہینوں میں ایک بڑے غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: September 30, 2026, 5:07 PM IST | New Delhi
ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین اور ایران-خلیجی خطے میں جاری جنگی تنازعات کے باعث دنیا کو آنے والے مہینوں میں ایک بڑے غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین اور ایران-خلیجی خطے میں جاری جنگی تنازعات کے باعث دنیا کو آنے والے مہینوں میں ایک بڑے غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ان تنازعات نے نہ صرف توانائی کی عالمی فراہمی بلکہ اناج کی ترسیل اور کھاد کی پیداوار کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں خاص طور پر ترقی پذیر ممالک اور عالمی جنوب کی معیشتوں پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔
نیویارک میں ایشیا سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک گفتگو کے دوران ایس جے شنکر نے کہا کہ یوکرین اور ایران-خلیجی تنازعات نے گلوبل ساؤتھ کی معیشتوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ انہوں نے توانائی کی صورتحال کو بھی خاص طور پر تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی تیل بازار پہلے ہی بہت دباؤ میں ہے اور تیل کی فراہمی کے حوالے سے سیاسی فیصلے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا اس وقت ایسی صورتحال سے گزر رہی ہے جہاں بعض بڑے اناج برآمد کرنے والے ممالک اپنی فصلوں کی کھیپ عالمی منڈی تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرسکتے ہیں، خاص طور پر بحیرۂ اسود کے راستے اناج کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر بڑی مقدار میں اناج کی عالمی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو اس سے خوراک کی دستیابی، قیمتوں اور درآمد پر انحصار کرنے والے ممالک پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مراکشی گلوکار سعد لمجرد کو عصمت دری کے مقدمے میں ۱۰ ؍ سال قید
ایس جے شنکر نے عالمی سطح پر کھاد کی شدید قلت** کی جانب بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق کھاد کے اہم پیداوار مراکز روس اور مغربی ایشیا میں موجود ہیں اور وہاں جاری تنازعات نے پیداوار اور سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ کھاد کی دستیابی میں کمی یا اس کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست زرعی پیداوار پر اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ کسانوں کے لیے بروقت اور مناسب مقدار میں کھاد کا استعمال فصل کی پیداوار برقرار رکھنے کے لیے اہم ہوتا ہے۔
جے شنکر نے کہا کہ موجودہ صورتحال صرف خوراک یا توانائی تک محدود نہیں ہے۔ جنگی تنازعات کے نتیجے میں توانائی، خوراک، کھاد اور مالیاتی شعبے بیک وقت دباؤ میں آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی بحرانوں کے دوران سرمایہ اکثر محفوظ سمجھے جانے والے بازاروں کا رخ کرتا ہے، جس سے عالمی جنوب کے ممالک میں مالی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو عالمی جنوب کی معیشتوں کے لیے ’’بہت، بہت دباؤ والی‘‘ صورتحال قرار دیا اور کہا کہ توانائی کی قلت، خوراک اور کھاد کی مشکلات کے ساتھ مالی دباؤ مل کر بحران کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔وزیر خارجہ نے موسمی حالات کو بھی غذائی بحران کے ممکنہ عوامل میں شامل کیا۔ انہوں نے سپر ایل نینو جیسے موسمی رجحانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنگوں سے متاثرہ رسد کے ساتھ موسم کا شدید منفی اثر بھی شامل ہوجائے تو آنے والے مہینوں میں غذائی بحران کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایل نینو عالمی بارشوں کے نظام کو متاثر کرسکتا ہے، جس کے اثرات مختلف خطوں میں زرعی پیداوار پر پڑ سکتے ہیں۔ تاہم ’’سپر ایل نینو‘‘ کوئی باقاعدہ سائنسی درجہ بندی نہیں بلکہ انتہائی طاقتور ایل نینو کے لیے استعمال ہونے والی غیر رسمی اصطلاح ہے۔
یہ بھی پڑھئے:غزہ: اسرائیل کے ذریعے جنگ بندی کی ۵۱۰۰؍ خلاف ورزیاں، ۱۴۲۱؍ ہلاکتیں
جے شنکر نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی بحرانوں کا اثر جنگ زدہ علاقوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی معیشت کے دوسرے حصوں، خصوصاً ترقی پذیر ممالک تک بھی پہنچتا ہے۔ توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، کھاد کی قلت، رسد میں رکاوٹ اور سرمایہ کے بہاؤ میں تبدیلی ایسے ممالک کے لیے اضافی معاشی مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ انہوں نے عالمی ممالک سے اپیل کی کہ وہ صرف اپنے مفادات تک محدود نہ رہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کی بنیادی ضروریات کو بھی مدنظر رکھیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں عالمی سطح پر باہمی تعاون اور ’’عام فہم‘‘ پر مبنی فیصلوں کی ضرورت ہے تاکہ بنیادی غذائی ضروریات کو نظرانداز کیے جانے کے نتیجے میں مزید ممالک شدید مشکلات سے دوچار نہ ہوں۔
جے شنکر کی یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین اور ایران-خلیجی خطے کے تنازعات نے عالمی توانائی، زرعی اجناس، کھاد اور تجارتی راستوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اناج اور کھاد کی سپلائی میں رکاوٹیں برقرار رہیں اور موسمی خطرات بھی شدت اختیار کریں تو آنے والے مہینوں میں عالمی غذائی تحفظ ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔