Inquilab Logo Happiest Places to Work

جرمنی: دو تہائی سے زیادہ باشندوں کا خیال ہے کہ حکومت کے پاس ایران جنگ پر کوئی حکمتِ عملی نہیں: سروے

Updated: May 03, 2026, 4:06 PM IST | Berlin

۲۸ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد، جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے شروع میں اس کارروائی کی حمایت کی تھی۔ تاہم، حالیہ ہفتوں میں انہوں نے بارہا خاص طور پر امریکہ پر تنقید کی ہے اور امریکی انتظامیہ پر منصوبہ بندی کے فقدان کا الزام لگایا ہے۔

German Chancellor Friedrich Merz. Photo: X
جرمن چانسلر فریڈرک میرز۔ تصویر: ایکس

جرمن نیوز میگزین ’انٹرنیشنل پولیٹک‘ (Internationale Politik) کی جانب سے سنیچر کو شائع ہونے والے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک کے دو تہائی سے زیادہ باشندوں کا خیال ہے کہ ان کی حکومت کے پاس ایران جنگ پر کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں ہے۔ سروے میں شامل تقریباً ۶۸ فیصد افراد کا کہنا ہے کہ جرمن حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے کہ اسے ایران جنگ میں کیسا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ صرف ۲۸ فیصد افراد کا خیال ہے کہ حکومت اس معاملہ میں واضح حکمت عملی پر عمل کررہی ہے۔

پول کے مطابق، صرف شریکِ اقتدار جماعت ’کرسچین ڈیموکریٹک یونین / کرسچین سوشل یونین‘ (CDU/CSU) کے حامیوں میں ۵۴ فیصد کی معمولی اکثریت کا ماننا تھا کہ حکومت کے پاس اس حوالے سے واضح وژن موجود ہے کہ جرمنی، ایران جنگ میں کس پوزیشن پر کھڑا ہے۔ دوسری جانب، حکمران ’سوشل ڈیموکریٹک پارٹی‘ کے حامیوں کی اکثریت (۴۳ فیصد) اس سے مختلف رائے رکھتی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے حامیوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ، ایران جنگ کے دوران جرمنی سے تقریباً ۵؍ ہزار فوجی واپس بلائے گا

انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’آلٹرنیٹیو فار جرمنی‘ (AfD) کے ووٹروں میں ایسے لوگوں کا تناسب خاصا زیادہ (۸۶ فیصد) ہے جو حکومت کے کسی واضح راستے کی شناخت نہیں کرسکتے۔ مزید برآں، اپوزیشن ’لیفٹ پارٹی‘ کے ۷۸ فیصد حامی اور `گرین پارٹی` کے ۶۹ فیصد حامی بھی یہی نظریہ رکھتے ہیں۔

مشرقی جرمنی میں یہ تخمینہ مزید واضح نظر آتا ہے۔ مشرقی علاقوں میں صرف ۱۷ فیصد افراد محسوس کرتے ہیں کہ ملک کی وفاقی حکومت اس معاملے پر اپنے لائحہ عمل کے بارے میں واضح ہے، جبکہ ۸۲ فیصد اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھئے: جرمن انفلوئنسر ٹام کوپکے نے فضا میں روبلک کیوب حل کرکے عالمی ریکارڈ قائم کر دیا

عمر کے لحاظ سے نتائج پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات حیران کن ہے کہ خاص طور پر ۱۸ سے ۲۹ سال کی عمر کے ۷۶ فیصد نوجوانوں کا خیال ہے کہ ایران جنگ کے مسئلے پر وفاقی حکومت کے پاس کوئی واضح سمت نہیں ہے۔ اس عمر کے گروہ میں صرف ۲۰ فیصد لوگ اس سے مختلف سوچتے ہیں۔

واضح رہے کہ ۲۸ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد، جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے شروع میں اس کارروائی کی حمایت کی تھی۔ تاہم، حالیہ ہفتوں میں انہوں نے بارہا خاص طور پر امریکہ پر تنقید کی ہے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر منصوبہ بندی کے فقدان کا الزام لگایا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK