Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ، ایران جنگ کے دوران جرمنی سے تقریباً ۵؍ ہزار فوجی واپس بلائے گا

Updated: May 02, 2026, 10:09 PM IST | Washington

امریکہ ایران جنگ کے دوران جرمنی سے تقریباً ۵؍ ہزار فوجی واپس بلائے گا، پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کا انخلا اگلے چھ سے بارہ ماہ کے دوران مکمل ہونے کی توقع ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

پینٹاگون نے بتایا کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے آئندہ سال کے اندر جرمنی سے تقریباً ۵؍ ہزار فوجی دستوں کو واپس بلانے کا حکم دے دیا ہے۔جمعہ کو یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ وہ نیٹو اتحادی جرمنی سے فوجیں ہٹائیں گے، کیونکہ جرمن چانسلر کے ساتھ امریکہ-اسرائیل کی ایران جنگ پر اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔دریں اثناء پینٹاگون کے ترجمان شان پارنل نے ایک بیان میں کہا، ’’ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ انخلا اگلے چھ سے بارہ ماہ کے دوران مکمل ہو جائے گا۔‘‘پارنل نے مزید کہا، ’’یہ فیصلہ یورپ میں محکمے کی فوجی پوزیشن کے مکمل جائزے او ر زمینی حالات کو تسلیم کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: اسرائیل، عرب امارات،کویت، قطر کو جدید ہتھیاروں کی فروخت کو منظوری

بعد ازاں ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ فریڈرک مرزیہ سمجھتا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہونا ٹھیک ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔‘‘بدھ کو ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن جرمنی میں امریکی فوجیوں کی ’’ممکنہ کمی کا مطالعہ اور جائزہ لے رہا ہے، اوربہت کم وقت میں فیصلہ کریں گے۔‘‘ مزید برآںجمعرات کو ٹرمپ نے کہا کہ وہ اٹلی اور اسپین سے بھی امریکی فوجیں واپس بلا سکتے ہیں کیونکہ جنگ کے دوران ان کی جانب سے عدم تعاون کیا گیا۔ انہوں نے اوول آفس میں صحافیوں کو بتایا،’’اٹلی نے ہماری کوئی مدد نہیں کی اور اسپین نے بہت برا سلوک کیا، انتہائی برا سلوک کیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکی امیگریشن حراست سے رہائی کو مہینوں گزر جانے کے باوجود مسلسل دھمکیوں کا سامنا: محمود خلیل

واضح رہے کہ ۳۱؍ دسمبر ۲۰۲۵ء تک، اٹلی میں۱۲۶۶۲؍ اور اسپین میں۳۸۱۴؍ فعال ڈیوٹی پر امریکی فوجی تھے۔ جرمنی میں ۳۶۴۳۶؍تھے۔مراکش کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ جوہان وادیفول نے جمعرات کو کہا کہ جرمنی امریکی فوجیوں میں کمی کے لیے تیار ہے اور تمام نیٹو اداروں میں اس پر اعتماد اور قریبی مشاورت سے بات چیت کر رہا ہے۔وادیفول نے مزید کہا کہ جرمنی میں بڑے امریکی اڈے بالکل قابلِ گفتگو نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ’’ مثال کے طور پر ریمسٹین ایئر بیس امریکہ اور ہمارے لیے یکساں طور پر ایک ناقابلِ تبدیل حیثیت رکھتا ہے۔‘‘ یورپی یونین نے جمعرات کو کہا کہ یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی واشنگٹن کے مفاد میں ہے ،  اور یہ کہ امریکہ یورپ کی سلامتی اور دفاع میں کردار ادا کرنے والا ایک اہم شراکت دار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK