Updated: June 22, 2026, 9:56 PM IST
| Tel Aviv/Washington
سروے میں شامل اسرائیلیوں سے جب جنگ کے نتائج کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کے جوابات واضح تھے۔ ۱ء۹۲ فیصد جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ ایران یہ جنگ ”جیت چکا ہے“، جبکہ ۹ء۸۲ فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ اس تنازع نے ”اسرائیل کی طویل مدتی سلامتی کو کمزور کر دیا ہے۔“
ٹرمپ اور نیتن یاہو۔ تصویر: ایکس
ایک حالیہ سروے میں شریک ہونے والے اسرائیلیوں کی اکثریت کا ماننا ہے کہ وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو ایران کے خلاف جنگ میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ذریعے ۲۸ فروری کو ایران کے خلاف شروع کی گئی اس جنگ کو ختم کرنے کیلئے بدھ کے دن تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک یادداشتِ مفاہمت پر دستخط کئے گئے۔
یروشلم میں واقع ہبریو یونیورسٹی Hebrew University کی جانب سے ۱۷ سے ۲۰ جون کے درمیان ۳۶۴۴ شرکاء کے درمیان کئے گئے اس سروے کے نتائج اسرائیلی روزنامے ’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ میں شائع ہوئے ہیں۔ سروے میں پتا چلا ہے کہ ۴ء۵۶ فیصد جواب دہندگان نے جنگ کے دوران نیتن یاہو کی کارکردگی کو ”ناکام“ یا ”ناقص“ قرار دیا۔ صرف ۵ء۲۶ فیصد اسرائیلیوں نے اسے مثبت کہا۔ تقریباً ۵ء۷۲ فیصد جواب دہندگان نیتن یاہو کے ان دعوؤں پر یقین نہیں کرتے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف ”نمایاں کامیابیاں حاصل کیں“ اور ایک ”وجودی خطرے“ کو ختم کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا اشارہ: غزہ وسیع تر علاقائی امن کوششوں کا حصہ بن سکتا ہے
جب سروے میں شامل اسرائیلیوں سے جنگ کے نتائج کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کے جوابات واضح تھے۔ ۱ء۹۲ فیصد جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ ایران یہ جنگ ”جیت چکا ہے“، جبکہ ۹ء۸۲ فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ اس تنازع نے ”اسرائیل کی طویل مدتی سلامتی کو کمزور کر دیا ہے۔“ ۸ء۸۷ فیصد کا ماننا ہے کہ اسرائیل یا تو اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا یا اس نے ان میں سے صرف چند ہی حاصل کر پایا۔
پسندیدہ وزیرِ اعظم کے طور پر نیتن یاہو کی حمایت مارچ میں ۵ء۴۰ فیصد تھی جو واضح کمی کے ساتھ جون میں صرف ۴ء۲۹ فیصد رہ گئی ہے۔ دوسری جانب، ۲ء۴۸ فیصد جواب دہندگان نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف بڑی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کی حمایت کی خواہ اس کے باعث ٹرمپ کے ساتھ تصادم کا خطرہ ہی کیوں نہ ہو، جبکہ ۹ء۲۰ فیصد نے ایسے اقدام کی مخالفت کی۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کی مغربی کنارے میں گھر گھر تلاشی ، متعدد فلسطینی گرفتار
۳۷ فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ معاہدے سے ایران کو زیادہ فائدہ پہنچا
سی بی ایس نیوز اور یو گوو (YouGov) کی جانب سے ۱۷ سے ۱۹ جون کے درمیان ۲۵۱۹ امریکی بالغوں کے درمیان کئے گئے ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ۳۷ فیصد جواب دہندگان کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا معاہدہ ”ایران کیلئے بہتر تھا۔“ اس کے مقابلے میں صرف ۲۲ فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ یہ ”امریکہ کیلئے بہتر تھا۔“ اگرچہ ۷۸ فیصد افراد نے تنازع کو ختم کرنے کی حمایت کی، لیکن صرف ۳۱ فیصد کا ماننا ہے کہ امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو مستقل طور پر روک دیا ہے، جبکہ ۶۹ فیصد نے اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ اسی طرح، ۶۹ فیصد نے کہا کہ یہ تنازع امریکہ کیلئے اس کی لاگت کے لحاظ سے فائدہ مند نہیں تھا۔ ۶۴ فیصد جواب دہندگان نے صورتحال سے نمٹنے کے ٹرمپ کے طریقے کو ناپسند کیا۔