Inquilab Logo Happiest Places to Work

مالیگاؤں بم دھماکہ: چاروں بھگوا ملزمین بھی کیس سے ڈسچارج!

Updated: April 23, 2026, 12:10 AM IST | Mumbai

بامبے ہائیکورٹ کے فیصلے سے متاثرین کو مایوسی، بڑا قبرستان میں ہونیوالے بم دھماکوں کے کیس میں پہلے ۹؍مسلم نوجوانوں کوگرفتار کیا گیا تھا جنہیں، بھگوا ملزمین کے ملوث ہونے اور جھوٹے الزامات میں پھنسانے کا حوالہ دیکر کیس سے ڈسچارج کیا گیا تھا، مذکورہ دھماکوں کو آخر کس نے انجام دیا یہ بتانے میں تفتیشی ایجنسیاں بری طرح ناکام

On September 8, 2006, an explosion also occurred at this entrance to the large cemetery, file photo.
۸؍ستمبر کو ۲۰۰۶ءبڑا قبرستان کے اس داخلی راستے پر بھی دھماکہ ہواتھا، فائل فوٹو

ستمبر ۲۰۰۶ءمیں مالیگاؤں کی حمیدیہ مسجد اور بڑا قبرستان میں ہونے والے بم دھماکوں کے الزام سے ۹؍ مسلم نوجوان کو ڈسچارج کئے جانے کے بعد بدھ کو۴؍ بھگوان ملزمین کو بھی ہائی کورٹ نے نہ صرف کیس سے ڈسچارج کر دیا ہے بلکہ ان پر عائد کردہ الزامات کو بھی خارج کر دیا ہے ۔
 بامبے ہائیکورٹ  کے اس فیصلہ سے ایک بار پھر دھماکہ کے ۲۰؍ سال بعد یہ سوال ہنوز قائم ہے کہ آخر دھماکہ کس نے کیا ؟  عدالت کے اس فیصلہ سے جہاں بھگوا ملزمین کو راحت ملی ہے۔ وہیں  دھماکو ں میں فوت ہونیوالے ۳۱؍ متاثرین کے اہل خانہ اور ۳۰۰؍ سے زائد زخمی انصاف سے محروم اورہائی کورٹ کے فیصلہ سے مایوس ہوئے ہیں ۔
  ۲۰؍ سال قبل مالیگاؤں کی حمدیہ مسجد اور بڑا قبرستان میں ہونے والے دھماکوں میں ۹؍ مسلم ملزمین کو عدالت سے کلین چٹ ملنے کے بعد گرفتار کئے گئے ۴؍ بھگوا ملزمین راجندر چودھری ، منوہر رام سنگھ نرواریا ، دھان سنگھ اور لوکیش شرما نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے بامبے ہائیکورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی ۔ انہوں نے نہ صرف کیس سے ڈسچارج کرنے بلکہ خصوصی عدالت کے ذریعہ فرد جرم عائد کرنے کے فیصلہ کو خارج کرنے کی اپیل کی تھی ۔ وہیں بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شری چندر شیکھر اور جسٹس شیام چانڈک نے تفتیشی ایجنسی این آئی اے کے ذریعہ ملزمین کے خلاف ٹھوس ثبوت اورعینی گواہ پیش نہ کئے جانے پر نہ صرف انہیںکیس سے ڈسچارج کر دیا بلکہ ان پر قتل ، مجرمانہ سازش اور مجرمانہ سرگرمیو ںکے تحت عائد کردہ تمام الزامات کوبھی خارج کر دیا ہے ۔
  قابل ذکر اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ۲۰؍ سال قبل ہونے والے اس دھماکوں میں  ۳۱؍ افراد کی ہلاکت اور ۳۱۲؍ شہریوں کے زخمی ہونے کے بعد مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ ( اے ٹی ایس ) نے تفتیش کرتے ہوئے ۹؍ مسلم نوجوانوں کو ملزم بنایا تھا ۔ تاہم پانچ سال تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے نوجوانوں کے بے گناہ ہونے اورقانونی پیروی کرتے ہوئے جمعیۃ علما مہاراشٹر نے نہ صرف انہیں کیس سے بری کرانے میں کامیابی حاصل کی تھی بلکہ مداخلت کار کی حیثیت سے بھگوا ملزمین کے مذکوردہ دھماکو ںمیں ملوث ہونے کا دعویٰ کیا تھا ۔ افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ مذکورہ دھماکوں کی جانچ نہ صرف اے ٹی ایس ، سی بی آئی اور این آئی اے کی بلکہ مختلف ایجنسیوں کے ذریعہ کی جانے والی تفتیش کے بعدبھگوا ملزمین راجندر چودھری ، منوہر رام سنگھ نرواریا ، دھان سنگھ اور لوکیش شرماکو گرفتار تو کیا گیا لیکن ان کے خلاف ۲۰؍ سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود نہ تو ٹھوس ثبوت پیش کرسکی اور نہ عینی گواہ ۔ یہی وجہ ہے کہ ہائی کورٹ نے ناکافی ثبوتوں کی بناء پر انہیں کیس سے ڈسچارج کر دیا ہے ۔
 یہ بھی واضح رہے کہ بھگوا ملزمین پر این آئی اے کی خصوصی عدالت میں نہ صرف فرد جرم عائد کر دیا گیا تھا بلکہ گواہوں کے بیانات کا سلسلہ بھی جاری تھا ۔ اسی درمیان بھگوا ملزمین نےبامبے ہائی کورٹ میں کیس سے ڈسچار ج کرنے اور عائد کردہ الزامات کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرکے کیس سے ڈسچارج ہونے میں کامیابی حاصل کی۔ایک طرف بم دھماکہ جیسے حساس کیس میں مختلف ایجنسیوں کی تفتیش پر ہی ایک بار پھرسوال اٹھ کھڑا ہوا ہے ۔ وہیں سوال بھی برقرار ہے کہ مسلم نوجوانوں یا بھگوا ملزمین نے اگر بم دھماکہ نہیں کیا تو اسے کس نے انجام دیا ہے ؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK