نائب میئر شانِ ہند کےدفتر میں ٹیپو کی تصویرپرشیوسینا اور بی جےپی کا اعتراض، اس دوران شہر میں ٹیپو ٹاورکی خستہ حالی بھی موضوع بحث۔
EPAPER
Updated: February 15, 2026, 10:29 AM IST | Mukhtar Adeel | Malegaon
نائب میئر شانِ ہند کےدفتر میں ٹیپو کی تصویرپرشیوسینا اور بی جےپی کا اعتراض، اس دوران شہر میں ٹیپو ٹاورکی خستہ حالی بھی موضوع بحث۔
مالیگاؤں میں سنیچر کو جہاں نائب میئرکےدفتر میں ٹیپو سلطان شہید کی تصویر نئے تنازع کا سبب بنی وہیں شہر میں ٹیپو کی یاد میں تعمیرکئے گئےٹاورکی خستہ حالی کا بھی معاملہ سامنے آیا ہے۔ نائب میئر شان ہندنے اپنے دفتر میں ٹیپو کی تصویرکی مخالفت کرنے والوں پر تنقید کی ہے اور مہاراشٹر حکومت کے گزٹ کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ اس میں ان کی جینتی منانے کا ذکر بھی ہے۔ حضرت سلطان ابو الفتح فتح علی ابن حیدر علی عرف ٹیپو شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے مالیگاؤں کے مشاورت چوک پر ٹیپو سلطان ٹاور شہری بلدیہ نے تعمیر کیا تھا۔ اس کی تزئین و تجدید کاری کا کام کئی برسوں سے بند پڑا ہوا ہے۔ یہ یادگار سرکاری قطعہ اراضی پر سرکاری خرچ سے بنائی گئی ہے۔ اس کے نام پر میونسپل کارپوریشن اور مہاراشٹر گورنمنٹ سے کتنی مرتبہ اخراجات مع سُود نکالے گئے؟اس سوال کا ہنوز جواب نہیں مل سکا ہے۔
ٹیپوکی فوٹوفریم نائب میئرکے دفتر میں
گزشتہ ۱۳؍جنوری جمعہ کی سہ پہرایک نیا سیاسی تنازع اُس وقت کھڑا ہوا جب شہری بلدیہ کی نائب میئر شانِ ہند کے دفتر میں سلطان ٹیپو شہید کی تصویر آویزاں ہوئی۔ شان نے میڈیا کو بتایا کہ اُن کے دفتر کیلئے ٹیپو کی تصویر والی فریم چند کارپوریٹروں نے بطورِ تحفہ پیش کی ہے۔ اس بات کے ساتھ انہوں نے تاریخی حوالوں سے ٹیپو کی خدمات بیان کی۔ یہ بھی کہا کہ بامبے ہائی کورٹ میں مہاراشٹر حکومت نے ٹیپو جینتی کی مناسبت سے دائر کردہ افیڈیویٹ میں یہ تسلیم کیا ہےکہ ٹیپو نے تحریک آزادی میں اپنی جان قربان کی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر مخالفت کرنے والے کس بنیاد پر مخالفت کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بسواشرما کیخلاف پٹیشن پرکل سپریم کورٹ میں شنوائی
فوٹولگنے کے بعد سینا اور بی جے پی کا رد عمل
نائب میئر کے دفتر میں ٹیپو کی تصویرلگے تھوڑی ہی دیر ہوئی کہ اس کی خبر سن کر شیو سینا (شندے) کے اراکین بلدیہ نلیش آہیر (سابق ڈپٹی میئرونومنتخب کارپوریٹر)کی قیادت میں میونسپل کمشنر رویندر جادھو کے آفس پہنچ گئے اورٹیپو کی تصویر لگانے پر اعتراض درج کروایا۔ اگلے روز۱۴؍فروری سنیچر کی صبح بی جے پی نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ کے اجازت نامے کے مطابق ۲۶؍ شخصیات (قائدین و مجاہدین آزادی، قومی لیڈران وغیرہ) ایسی ہیں جن کی فوٹوفریم سرکاری دفاتر میں لگائی جاسکتی ہے۔ اس میں ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام(سابق صدر جمہوریہ ہند) بھی ہیں۔ اُن کی فوٹو فریم لگائیں ہم کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ٹیپو کی فوٹو لگاکر سیاست کی جارہی ہے جو اچھی بات نہیں۔ ایک طریقے سے دو فرقوں کے درمیان نفرت بھی پیدا ہورہی ہے۔ واضح رہے کہ بی جے پی لیڈران نے ہاتھوں میں ایک فریم لیا تھا جس میں یہ منظر تھا شیواجی مہاراج مغل سردار افضل خاں کے بطن کو چاک کرنے کیلئے حملہ کررہے ہیں۔
بلندوبالا ٹیپوٹاورخستہ حال
ٹیپو کی تصویر لگانے اور اس پر جاری اعترا ضات کے درمیان نمائندہ انقلاب نے مشاورت چوک کے ٹیپو ٹاور کا جائزہ لیا۔ مقامی افراد سے معلوم ہوا کہ کئی سال پہلے اس کی تجدید و تزئین کاری کا کام شروع ہوا پھر اچانک بند پڑ گیا۔ تب سے بند ہی ہے۔ جس وقت کام کا آغاز ہوا اُس وقت کئی سیاسی لیڈران کریڈٹ کے حصول کیلئے ٹاور کے گرد منڈلاتے رہتے تھے۔ یہاں پرگورنمنٹ لسٹیڈ کنٹریکٹرس بھی کرسیوں پر کچھ اس انداز سے بیٹھتے گویا سرکاری خزانے سے نہیں اُن کی ذاتی آمدنی سے ٹاوردرستی کا کام چل رہا ہے۔ کام بند ہونے کے بعد منڈلانے والے لیڈران اور ٹھیکیدار بھی غائب ہوگئے۔ مزید تفصیلات جاننے کیلئے نمائندہ انقلاب نے کوشش کی۔ سنیچر کی تعطیل کے سبب سرکاری دفاتر اور سیاسی لیڈروں کے موبائل فون بھی بند رہے۔