• Sat, 31 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مالیگاؤں: نیا بس اسٹینڈ کی بدنظمی سےمسافر ’بے بس

Updated: January 29, 2026, 11:03 PM IST | Malegaon

مہامنڈل کی بسوں کے آئے دن بند پڑنے اور ناسک ،پونے و خاندیش کے مصروف روٹس پر محدود سروسیز کے سبب مسافروں کو جن دقتوں کا سامنا کرنا پڑہا ہے اس کا آنکھوں دیکھا حال اورمسافروں کے تاثرات

Passengers can be seen waiting for buses at the new bus stand. (Photo: Inqilab)
نیا بس اسٹینڈ پربسوں کے انتظار میں کھڑے مسافردیکھے جاسکتے ہیں۔(تصویر:انقلاب)

 ان دنوں نیا بس اسٹینڈ بھی کھدا ہوا ہے۔ یہاں تعمیراتی کام جاری ہے۔ اسی باعث بس اسٹیشن کو شمالی حصے میں سمیٹ کر چلایا جارہا ہے۔ بھیڑ کے اوقات میں یہ تنگی مسافروں کو خوب تنگ کررہی ہے۔ ہر بس کی آمد اور رخصت پر ہٹو بچو کا ماحول ہوتا ہے۔ منگل کی صبح ۱۵:۸؍ بجے بھی  بس اڈہ مسافروں سے بھرا پڑا تھا۔ ان میں بڑی تعداد ’اَپ اینڈ ڈاؤن‘ کرنےوالوں کی تھی ۔ بیشتر ناسک اور ممبئی کے رخ کی بسوں کی راہ تک رہے تھے۔ ان میں کالج کے طلبہ بھی تھے اور ملازمت و روزگار کے مارے بھی۔ سرکاری دفاتر اور دواخانوں کو جانے والے بھی تھے اور اپنے عزیزوں سے ملاقات کیلئے جانے والے بھی۔ مسئلہ یہ تھا کہ مالیگاؤں بس ڈپو سے کوئی گاڑی نہیں لگائی جارہی تھی۔ جو بھی بس آرہی تھی وہ جلگاؤں، دھولیہ یا خاندیش کے کسی شہر سے آرہی تھی۔ اسلئے  ہر بس کو دیکھتے ہی مسافر اس کی طرف لپک رہے تھے۔ بس کے رکنے سے پہلے ہی دروازے کو گھیرلیا جارہا تھا۔ کچھ ہشیار مسافر اچک کر خالی نشستوں کو رومال یا بیگ رکھ کر ہتھیانے کی تگ و دو کررہے تھے۔ اترنے والے اتر نہیں پارہے تھے ،اور نہ ہی چڑھنے والے چڑھ پارہے تھے۔ 
کنٹرول روم سے کیا جواب ملا؟ 
  راقم نے کنٹرول روم جاکر اس صورتحال پر استفسار کیا۔ وہاں موجود خاتون اناؤنسر اور ایک اہلکار نے بتایا کہ ’’ ڈپو کی ۱۰؍ گاڑیاں صبح سے اب تک ناسک کو روانہ کی جاچکی ہیں ۔ اب ڈرائیور اور کنڈکٹر تو ہیں لیکن ڈپو میں کوئی بس نہیں۔ ‘‘ میں نے قریب کھڑے کالج طلبہ کے گروپ سے پوچھا کہ’’ آپ لوگ کب سے انتظار کررہے ہیں؟‘‘ ان میں سے ایک نے کہا’’ایک گھنٹے سے کھڑے ہیں، ڈپو کی ایک دوبس گئی ہوگی‘‘ میں نے نام پوچھا تو جواب ملا: ’’میں عبداللہ ساجد انور ہوں، چاندوڑ کے ایس ایم جے بی کالج سے بی ایچ ایم ایس کررہا ہوں۔‘‘ عبداللہ نے شاکی لہجے میں کہاکہ ’’ہم روز ہی پریشان رہتے ہیں، کوئی سنتا ہی نہیں ،مالیگاؤں ڈپو کی بسیں کم رہتی ہیں۔‘‘
ماہانہ پاس والوں کو دیگر ڈپو کی بسوں میں یہ کہا جاتا ہے....
 عبداللہ نے ایک مختلف مسئلے پر توجہ دلائی کہ’’  لانگ روٹ کی بسوں میں ہمیں کہاجاتا ہے کہ تمہارا منتھلی پاس مالیگاؤں کا ہے، اسی ڈپو کی بس میں سفر کیا کرو۔‘‘عبداللہ کےبغل میں کھڑے ا سکے ساتھی مومن راشد نے کہا’’ ہماری طرح تقریباً ۶۰-۷۰؍اسٹوڈنٹ ہیں، جو بسوں کی بدنظمی سے پریشان ہیں، ہم پہلے بھی آجائیں تو بس نہیں ملتی،اور مل جائے تو بیٹھنے کو جگہ نہیں ملتی۔‘‘  دریں اثناء راقم نے مالیگاؤں سینٹرل حلقے کے رکن اسمبلی مفتی اسماعیل قاسمی کا نمبر ملایا کہ انہیں مسافروں کی ان پریشانیوں اور بس اڈے کی بدنظمیوں  سے آگاہ کیا جاسکے، لیکن ادھر سے کال ریسیو نہیں کیا گیا۔
منگل کو علی الصباح ناسک جانے والی ۲؍بسیںبند پڑیں
  نور محمد برکاتی جو ناسک کے نیشنل سینئر کالج میں پروفیسر نے بتایا کہ منگل کو علی الصباح  نیا بس اسٹینڈ سے ناسک کی پہلی بس پکڑی، لیکن وہ موتی باغ ناکہ پہنچتے ہی بند پڑگئی  دوسری بس بھی شیواجی پتلے  کے پاس بے دم ہوگئی۔ کنڈکٹر نے تیسری بس بلوائی اور ہم ناسک ۳۰:۸؍ بجے پہنچے۔ پروفیسر برکاتی نے بسوں کی خرابی پر برہمی کا اظہار کیا۔ کہا کہ ’’مالیگاؤں ڈپو کی ناسک کیلئے دن کی پہلی بس کا وقت صبح  ۳۰:۵؍کا ہے، یہ۴-۲؍ منٹ کی تاخیر سے چھوٹ جائے تو پھر ہمیں پون گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ہم جیسے لوگ جنہیں روزانہ ناسک جانا ہوتا ہے انہیں ڈائریکٹ گاڑی نہ ملے تو دیگر گاڑیوں سے کافی وقت لگ جاتا ہے۔پھر یہ کہ دیگر ڈپو کی بسیں پہلے سے ہی بھری ہوئی آتی ہیں۔ مجبوراً کھڑے ہوکر جانا پڑتا ہے، ایسے میں بندہ کیا کام کے لائق رہ جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’ بس اڈے کی اس بدنظمی اور سروسیز کی کمی کے سبب طالبات بھی روزانہ ہی پریشان ہوتی ہیں۔ لڑکے تو کسی طرح دھکم پیل سے گزرکر سوار ہوجاتے ہیں لیکن بچیاں تو ایسا نہیں کرپاتی ہیں۔‘‘
بدھ کو بھی صبح کے اوقات میںبسوں کی کمی محسوس ہوئی
 پیپل گاؤں بسونت کے ضلع پریشد پرائمری اسکول کے  معلم ضیا حکیم نے کہاکہ’’ میں ۹؍ بجے کی بس پکڑتا ہوں، عموماً اس وقت تک تھوڑا رش کم ہوجاتا ہے لیکن اب بھیڑ رہنےلگی ہے۔ مجھے بھی بارہا اسٹینڈنگ جانا پڑتا ہے۔ منگل اور بدھ کو تو بسوں کی کمی سے مسافرزیادہ پریشان ہوئے ہیں۔‘‘ ضیا حکیم نے یہ بھی بتایا کہ’’ہمارے ایک رفیق شبیر (معلم) ، جسمانی طور پر معذور ہیں، بھیڑ کے سبب ان کیلئے بھی سفر دشوارکن ہوتا ہے۔ حالانکہ بس میں معذور شخص کیلئے سیٹ مختص ہوتی ہے لیکن اس ’آرکشت  سیٹ‘ پر براجمان مسافر نشست چھوڑتے نہیں ۔ عرفان ایوبی نےکہا کہ’’ روز کا یہی حال ہے، مجھے مہینے میں۲؍ سے۴؍ بار ناسک، ممبئی جانا ہوتا ہے ،اکثر اسٹینڈنگ ہی جانا پڑتا ہے۔‘‘ آصف جلیل نے بتایا کہ ’’اساتذہ، طلبہ اور ملازمت پیشہ حضرات اس کرب کو روزانہ جھیلتے ہیں۔چالیس گاؤں اور مالیگاؤں ڈپو کی حالت بسیں چلانے میں حد درجہ خراب ہوچکی ہے۔ ضرورت کے مطابق بسیں لگائی ہی نہیں جاتیں، نتیجتاً لانگ روٹ کی بسوں میں مسافر ٹھونسے جاتے ہیں ۔‘‘ بقول آصف ’’ مہا منڈل کی خستہ حال بسوں کو اوپری رنگ و روغن کرکےسڑکوں پر دوڑایا جا رہا ہے۔ اسی لئےبسوں کی خرابی معمول بنتی جارہی ہے۔ افسوس متعدد مکتوبات اور ڈپو مینیجر کو شکایات کے باوجود آج تک کوئی مؤثر حل نہیں نکلا۔‘‘

malegaon Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK