سماج وادی پارٹی کے نومنتخب کارپوریٹر مستقیم ڈگنٹی نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میںکہا کہ رائے دہندگان نے اقتدار کیلئے سیکولرفرنٹ کا انتخاب کیا ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین ’بلاشرط ‘ تائید و حمایت کرے ۔ اسدالدین اویسی کی پارٹی کے رُکن اسمبلی مفتی اسماعیل نے کہا کہ فرقہ پرستوں کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے فرنٹ سے آئی پیشکش پرغوروخوض کیا جارہا ہے۔
ایم آئی ایم کے رکن اسمبلی مفتی اسماعیل قاسمی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر : انقلاب
حالیہ میونسپل الیکشن میں ۴۰؍ سیٹوں پر کامیابی کے ساتھ میونسپل کارپوریشن میں اقتدارسازی کی مضبوط دعویدارسیکولرفرنٹ نے مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم ) سے کہا ہے کہ وہ بلاشرط اس کی حمایت کرے ۔اس کی جانب سے اس پیشکش کا ایم آئی ایم نے خیرمقدم کیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہےکہ فرنٹ میں شامل انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی مہاراشٹر،جس نے۳۵؍ سیٹیں جیتی ہیں،کی جانب سے اقتدار سازی میں مدد کی دعوت قابل قبول ہے۔اس پر افہام و تفہیم کے ذریعے آگے بڑھا جاسکتا ہے تاکہ میونسپل کارپوریشن پر فرقہ پرست پارٹیوں کو اقتدار یا اقتدار میں شراکت داری نہ ملے۔
نومنتخب رُکن بلدیہ اور سماج وادی لیڈر مستقیم ڈگنٹی نے سنیچر کی رات میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ شہری بلدیہ پر اقتدار کیلئے مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) ’بلا شرط ‘ تائید وحمایت کرے۔۴۰؍ سیٹوں پر فرنٹ کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔اقتدار کیلئے سیکولر فرنٹ کا انتخاب کیا۔ضابطے کے مطابق ۴۳؍اراکین بلدیہ کی استعداد پر میئرشپ طے ہوتی ہے۔رُکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل قاسمی کو رجحان سمجھتے ہوئے فرنٹ کا میئر بنانے کیلئے اقدامات کرنا چاہئے۔
رُکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل قاسمی (ایم آئی ایم ) نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ گزشتہ ۱۸؍ جنوری کی رات میں شہری بلدیہ انتخاب میں مجلس (ایم آئی ایم )سے منتخب اور شکست حاصل کئے افراد نیز مجلس کے ذمے داران کی مشاورتی نشست ہوئی ۔ میونسپل الیکشن کا رزلٹ آنے کے بعد سے اب تک سیکولر فرنٹ میں شامل سماج وادی پارٹی کی طرف سے مجلس کو اقتدار سازی میں شریک ہونے کی باتیں ذرائع ابلاغ میں آئیں۔ انہوں نےمزید کہا کہ فرنٹ میں دو سیاسی پارٹیاں ہیں۔اوّل: انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹر ،دوم : سماج وادی پارٹی۔اس میں انڈین سیکولر کو۳۵؍ اور سماج وادی کو صرف ۵؍سیٹیں مل سکی ہیں۔بات انڈین سیکولر کی جانب سے نہیں سماج وادی کی طرف سے مجلس کیلئے آرہی ہے۔مجلس کے ایم ایل اے اور ذمے داروں نے آئی ہوئی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے۔میونسپل کارپوریشن کو فرقہ پرستوں سے محفوظ رکھنے کیلئے مجلس اپنے سیاسی نظریہ اورمنشور پر کاربند رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن رزلٹ مینڈیٹ مجلس کے حق میں ہے۔ فرنٹ کو مجموعی ووٹ ایک لاکھ ۶؍ ہزار سے کچھ زائد اور نشستیں ۴۰؍ملی ہیں جبکہ مجلس کو مجموعی ووٹ ایک لاکھ ۱۷؍ ہزار سے کچھ زائد اور نشستیں ۲۱؍ملی ہیں۔ مینڈیٹ کے تناظر میں مجلس مالیگاؤں کے ووٹروں کی پہلی پسند اور سب سے بڑی سیاسی جماعت ثابت ہوئی ہے۔ اس لحاظ سے مجلس اپنا رُخ طے کرے گی۔اس پریس کانفرنس میں مجلس کے مقامی لیڈران عبدالمالک یونس عیسیٰ اور ڈاکٹر خالد پرویز شامل تھے۔
انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹر پارٹی کے قومی صدر نوید خطیب سے اس بارے میں استفسار کیلئے نمائندہ انقلاب نے فون پررابطہ کیا ۔ پہلی مرتبہ فون کٹ ہو گیا ۔ دوسری مرتبہ نوید خطیب نے کال ریسیو کرنے کے بعد کہا کہ کچھ ضروری کام سے مَیں سٹی پولیس اسٹیشن میں تھا ۔ تھوڑی دیر ہوئی وہاں سے آیا۔ آپ کو بیان دیتا ہوں۔ اتنی گفتگو ہونے کے ایک گھنٹے کے بعد نمائندے نے کال کیا لیکن انہوں نے فون ریسیو نہیں کیا۔