کمہارباڑہ سے تعلق رکھنے والے شیخ کلیم کی سیاسی سرپرستی نہال احمدمرحوم نے کی جبکہ عرفان علی کا سفر سابق میونسپل کونسلرر ضوان بھیّا کی سرپرستی میں شروع ہوا
EPAPER
Updated: January 20, 2026, 10:25 PM IST | Mukhtar Adeel | Malegaon
کمہارباڑہ سے تعلق رکھنے والے شیخ کلیم کی سیاسی سرپرستی نہال احمدمرحوم نے کی جبکہ عرفان علی کا سفر سابق میونسپل کونسلرر ضوان بھیّا کی سرپرستی میں شروع ہوا
شہری بلدیہ کے حالیہ انتخاب میں ۲؍ایسے امیدوار کامیاب ہوئے جن میں ایک ساتویں تو دوسرے نے پانچویں مرتبہ میونسپل ایوان میں پہنچنے کا شرف حاصل کیا ہے۔نومنتخب اراکین بلدیہ میں یہ سینئر کہلائیں گے۔عوامی سطح پرجاری گفتگو کا ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ ان کی کامیابی سیاسی جماعت، پرچم، نشان، قیادت کی محتاج نہیں بلکہ خود اُن کے ذریعے کئے جانے والے عوامی وفلاحی کام کاج ہیں جس کی بنیاد پر رائے دہندگان کثرت سے ووٹ دیتے ہیں۔
اول : شیخ کلیم شیخ دلاور
کمہارباڑہ سے تعلق رکھنے والے شیخ کلیم کی سیاسی سرپرستی نہال احمدمرحوم نے کی۔سماجی کام کرتے ہوئے شیخ کلیم ۱۹۹۱ء میں جنتادل سے میونسپل کونسلر بنے۔اس کے بعد ۱۹۹۴ء میں آزاد امیدوار کے طور پر جیتے۔۲۰۰۲ء میں کانگریس پارٹی نے کوآپشن کارپوریٹرنامزد کروایا۔۲۰۰۷ء میں جنتادل (ایس) میں شامل ہوکر الیکشن جیتے۔۲۰۱۲ء میں پھر آزادامیدوارکی حیثیت سے کامیابی پائی۔۲۰۱۷ء میں راشٹروادی کانگریس اور ۲۰۲۶ءکے حالیہ میونسپل الیکشن میں کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کی انتخابی نشانی پر فاتح قرار دیئے گئے۔شیخ کلیم دلاور نے بلدیہ میں رُکن اسٹینڈنگ کمیٹی،رکن اسکول بورڈ،ہاؤس لیڈراور اپوزیشن لیڈرکے طورپر کام کاج کاتجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مَیں نے ناگفتہ بہ حالات دیکھے ہیں۔عوام کا دُکھ اور درد سمجھتا ہوں۔عوام کی ضرورت کا احساس بھی ہوتا ہے۔اس لئے عوام کے درمیان خاص طور سے اپنے حلقے کے افراد کے بیچ میں رہ کر کام کرنا میرا مشغلہ ہے۔
دوم : عرفان علی عابد علی جاگیردار
ایم ایچ بی کالونی واطراف کی بستیوں پر مشتمل حلقے میں اپنا اثر ورسوخ رکھنے والے عرفان علی نے نمائندۂ انقلاب سے کہا کہ میرا سیاسی سفر سابق میونسپل کونسلر رضوان محمد رمضان عرف رضوان بھیّا کی سرپرستی میں شروع ہوا۔رضوان بھیّا میرے سیاسی استاد ہیں۔۱۹۹۴ء میں کانگریس سے الیکشن جیتا۔ ۲۰۰۱ ء کے الیکشن میں ناکامی ہوئی۔ ۲۰۰۲ء سے ۲۰۰۸ء تک مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن اسکول بورڈ میں نمائندگی ملی۔۲۰۰۷ء میں پھر کانگریس کے پنجہ نشان پر الیکشن جیت گیا۔ ۲۰۱۲ء اور ۲۰۱۸ء میں یہ سلسلہ کانگریس سے ہی برقرار رہا۔حالیہ الیکشن میں انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹر کی رکشہ نشانی پر کامیابی ملی ہے۔
واضح رہے کہ عرفان علی بحیثیت عوامی نمائندہ چھٹی مرتبہ میونسپل ایوان میں آئیں گے۔ اس سے قبل پانچ میعاد مکمل کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے وارڈ کے باشندوں کیلئے ہمہ وقت حاضر رہنا کامیابی کی کلید ہے۔