مالی اور برکینہ فاسو نے ٹرمپ کےسفری پابندی کے جواب میں امریکی شہریوں پر پابندی عائد کردی، ان افریقی ممالک کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں ان پابندیوں کےمساوی ہیں جوامریکہ نے ان کے شہریوں پر عائد کی ہیں۔
EPAPER
Updated: January 01, 2026, 10:02 PM IST | Baku
مالی اور برکینہ فاسو نے ٹرمپ کےسفری پابندی کے جواب میں امریکی شہریوں پر پابندی عائد کردی، ان افریقی ممالک کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں ان پابندیوں کےمساوی ہیں جوامریکہ نے ان کے شہریوں پر عائد کی ہیں۔
امریکی صدر کے ذریعے مالی اور برکینہ فاسو کے شہریوںکو امریکی سفری پابندی کی فہرست میں شامل کرنے کے ہفتوں بعد ان ممالک نے امریکی شہریوں پر باہمی ویزا پابندیاں عائد کرنے کے اپنے منصوبے کا اعلان کیا ۔منگل کی دیر شام شیئر کیے گئے بیانئے میں، دونوں ممالک نے زور دیا کہ نئے اقدامات کا مقصد انہی قواعد کا اطلاق امریکیوں پر کرنا ہے جو ان کے ممالک کا سفر کررہے ہیں جیسے ان کے شہریوں کو امریکہ کا سفر کرتے وقت درپیش ہوتے ہیں۔مالی کے وزارت خارجہ اور بین الاقوامی تعاون نے کہا کہ’’ان کے ملک کا سفر کرنے والے امریکی شہریوں کو وہی حالات اور تقاضوں کا سامنا ہوگا جو امریکی حکام نے مالی کے شہریوں پر امریکہ داخل ہونے پر عائد کیے ہیں۔‘‘
بیان میں مزید کہا کہ’’ یہ تبدیلیاں باہمی تکرار کے معاملے کے طور پر اور فوری اثر کے ساتھ نافذ کی جارہی ہیں۔‘‘ برکینہ فاسو نے کہا کہ ’’وہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے شہریوں پر مساوی ویزا اقدامات نافذ کررہا ہے، ‘‘ اور زور دیا کہ وہ باہمی احترام، ریاستوں کی خود مختار مساوات، اور اپنے بین الاقوامی تعلقات میں باہمی تکرار کے اصول پر پابند ہے۔ واضح رہے کہ یہ اعلانات اس کے بعد آئے جب ٹرمپ نے۱۶؍ دسمبر کو کہا کہ وہ سات مزید ممالک کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی کے دستاویزات کے حاملین کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کررہے ہیں جن کے شہریوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے مکمل طور پر محدود اور پابند کیا گیا ہے۔برکینہ فاسو اور مالی اس فہرست میں شامل کیے گئے ممالک میں شامل تھے، جن میں سے تمام یا تو عرب یا افریقی ممالک تھے۔تاہم ٹرمپ نے اس وقت کہا کہ یہ تبدیلیاں امریکہ کی خارجہ پالیسی، قومی سلامتی، اور دہشت گردی کے خلاف اہداف کو پورا کرنے کے لیے نافذ کی جارہی ہیں۔
دریں اثناء برکینہ فاسو کے شہریوں پر پابندی کی وجوہات بتانے والے ایک حصے میں کہا گیا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے پایا کہ ’’دہشت گرد تنظیمیں پورے برکینہ فاسو میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘اس نے ویزا اوورسٹے اور امریکہ سے جلا وطن کیے گئے شہریوں کو واپس لینے سے انکار کا تاریخی حوالہ بھی دیا۔بعد ازاں مالی کے حوالے سے، ٹرمپ کے اعلان میں کہا گیا کہ محکمہ خارجہ نے پایا کہ ’’مالی کی حکومت اور مسلح گروپوں کے درمیان مسلح تصادم پورے ملک میں عام ہے اور یہ کہ دہشت گرد تنظیمیں مالی کے کچھ علاقوں میں آزادانہ طور پر کام کرتی ہیں۔‘‘
کل ملا کر، نئے اضافےشدہ ممالک کے بعد ان کی کل تعداد ۱۹؍ہو گئی ہے، اس کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کے اہلکار وں پر بھی یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارت کے دوران بھی اسی طرحکی سفری پابندی نافذ کی تھی۔تاہم اس فہرست میں نیا نام نائجرکا ہےجو دسمبر کے وسط میں امریکہ کی جانب سے پابند عائد کردہ نئے ممالک کی فہرست میں بھی شامل تھا۔ جبکہ مالی اور برکینا فاسو نے حال ہی میں مغربی ممالک سے خود کو دور کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ ساحل ریاستوں کے اتحاد (ای ای ایس) کے نام سے ایک نئے گروپ میں مل کر کام کررہے ہیں۔یہ تینوں ممالک فوجی لیڈروں کی زیر قیادت ہیں جنہوں نے حالیہ برسوں میں روس کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے ہیں، جبکہ پہلےسے وہاں تعینات فرانسیسی اور امریکی فوجیوں کو باہر نکال دیا ہے۔مالی نے روسی فوجوں کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں ویگ نر میرینری گروپ کے تقریباً۱۵۰۰؍ اہلکار اور کریملن کے زیر کنٹرول پیرا ملٹری گروپ افریقہ کور کے تقریباً۱۰۰۰؍ جنگجو شامل ہیں۔
مالی کے باماکو میں حال ہی میں ہونے والے ساحل اجلاس میں، تینوں ممالک نے خطے بھر میں مسلح گروپوں سے لڑنے کے لیے مشترکہ فوجی بٹالین کے آغاز کا اعلان کیا۔تاہم، علیحدگی پسند گروپوں کے ساتھ القاعدہ اور آئی ایس آئی ایل (آئی ایس آئی ایس) سے منسلک مسلح گروپوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے درمیان انہیں داخلی سلامتی کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے جدوجہد کرنا پڑی ہے۔