ایوان ِ بالا میں اپوزیشن لیڈر نے اپنی مکمل تقریر کو فوراً بحال کرنے کا مطالبہ، حکومت پر شدید تنقیدیں، نرملا سیتا رمن نے جواب دیا کہ یہ فیصلہ چیئر مین نے کیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 14, 2026, 10:56 AM IST | New Delhi
ایوان ِ بالا میں اپوزیشن لیڈر نے اپنی مکمل تقریر کو فوراً بحال کرنے کا مطالبہ، حکومت پر شدید تنقیدیں، نرملا سیتا رمن نے جواب دیا کہ یہ فیصلہ چیئر مین نے کیا ہے۔
راجیہ سبھا میں قا ئد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے ایوان بالا میں اپنی تقریر کے کچھ حصے سرکاری ریکارڈ سے حذف کئےجانے پر شدید ناراضی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے خطاب پر بحث کے دوران انہوں نے جو تقریر کی تھی، اس کا ایک بڑا حصہ راجیہ سبھا کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا ہے، حالانکہ انہوں نے تمام باتیں قواعد کے دائرے میں رہ کر کی تھیں۔ ملکارجن کھرگے نے ایوان میں اعتراض کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حذف شدہ حصوں کو دوبارہ ریکارڈ میں شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حذف کیے گئے اقتباسات میں زیادہ تر وہ نکات شامل تھے جن میں انہوں نے موجودہ حکومت کے دور میں پارلیمانی کام کاج کی صورتحال پر تبصرے کیے تھے اور چند پالیسیوں پر وزیر اعظم مودی پر تنقید کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: وندے ماترم کے تمام ۶؍ بند لازمی قرار دینے پر برہمی،مذہبی آزادی پر سوال
کانگریس صدر نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان پالیسیوں پر سوال اٹھائیں جنہیں وہ ملک اور عوام کے مفاد کے خلاف سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارلیمانی زندگی پچاس برس سے زائد ہے اور وہ ایوان کے ضوابط اور روایات سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کے مطابق ان کی تقریر میں کوئی بھی ایسا لفظ شامل نہیں تھا جو غیر پارلیمانی یا توہین آمیز قرار دیا جا سکے۔ انہوں نے ضابطہ ۲۶۱؍ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا استعمال صرف مخصوص حالات میں کیا جا سکتا ہے، جبکہ ان کی تقریر اس زمرے میں نہیں آتی۔ مزید برآں، آئین کے آرٹیکل ۱۰۵؍کے تحت اراکین کو ایوان کے اندر اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے۔ اس لیے تقریر کے بڑے حصے کو حذف کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ ملکارجن کھرگے نے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن سے گزارش کی کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں ایوان کے اندر انصاف نہ ملا تو وہ عوام کے سامنے اپنی مکمل تقریر پیش کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس پر چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ چیئر کو ہدایت دینا مناسب نہیں اور یہ جمہوری روایت کے خلاف ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بھی چیئر مین کی حمایت کی اور کہا کہ ضابطہ ۲۶۱؍ کا استعمال چیئر مین کا اختیار ہے، اس پر سوال نہیں اٹھائے جاسکتے۔