Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیوٹن کو سائنسداں کی جگہ’ پائلٹ‘ بتایا گیا

Updated: June 19, 2026, 12:07 PM IST | Agency | Bhubaneshwar

وزیر اعلیٰ موہن چرن مانجھی نےمعاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کیلئے کمیٹی تشکیل دی،’غلطیوں کا پلندہ‘ کہی جانے والی یہ کتابیں جب اسکول پہنچیں تو انہیں پڑھانے والے اساتذہ کے بھی ہوش اُڑ گئے۔

Odisha Chief Minister Mohan Charan Manjhi.Photo;INN
ادیشہ کے وزیر اعلیٰ موہن چرن مانجھی-تصویر:آئی این این

ادیشہ کے محکمہ اسکول اور ماس ایجوکیشن کو اس وقت زبردست عوامی ناراضگی اور تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ معاملہ بے حد سنگین اور حیران کرنے والا ہے ۔ تعلیمی سیشن ۲۷-۲۰۲۶ء کیلئے کلاس اول سے ہشتم( ایک سے۸) تک کیلئے جو نئی کتابیں چھپ کر آئی ہیں، ان میں ایک دو نہیں بلکہ حقائق ، چھپائی اور نظریاتی  اعتبار سے ۱۶۷۸؍غلطیاں پائی گئی ہیں۔سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کتابوں کو قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی۲۰۲۰ء) اور ادیشہ نصابی فریم ورک۲۰۲۵ءکے تحت ’ڈائریکٹوریٹ آف ٹیچر ایجوکیشن‘ اور ایس سی ای آر ٹی جیسے بڑے اداروں کی نگرانی میں تیار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اشیش ودیارتھی نے ۱۱؍زبانوں کی فلموں میں کام کیا ہے

 

اس بڑی لاپروائی پر سخت رُخ اختیار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ موہن چرن مانجھی نے ایک اعلیٰ سطحی جانچ کے احکامات دے دیئے ہیں تاکہ اس کوالٹی کنٹرول کی ناکامی کے ذمہ دار افسران اور اداروں پر سخت کارروائی کی جا سکے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ’غلطیوں کا پلندہ‘ کہی جانے والی یہ کتابیں جب اسکول پہنچیں تو انہیں پڑھانے والے اساتذہ کے  بھی ہوش اُڑ گئے۔ کتابوں میں اتنی غیر ذمہ دارانہ غلطیاں ہیں جو بچوں کی پوری بنیاد کو ہی برباد کر سکتی ہیں۔ ان میں دنیا کے سب سے عظیم سائنسداں سر آئزک نیوٹن کو سائنسداں کی بجائے ’عظیم پائلٹ‘ لکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کرناٹک اسمبلی کی تصویر کو ’ادیشہ اسمبلی‘ بتا کر چھاپ دیا گیا ہے۔ وہیں کرناٹک کے مشہور پمپی مندر احاطے کی تصویر کو ’کونارک سوریہ مندر‘ بتا دیا گیا ہے۔ادیشہ کی مشہور نیامگیری پہاڑیوں کو جغرافیہ کی نصابی کتاب میں غلط طریقے سے جھارکھنڈ میں دکھا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ برہم پور جو گنجم ضلع کا ایک اہم شہر ہے، اسے براہ راست ایک نیا ’ضلع‘ اعلان کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ٹیلی گرام پر پابندی کے خلاف عرضی پردہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

 

مجموعی طورپر ۱۶۷۸؍ غلطیوں میں سے ۷۰۵؍ غلطیاں صرف۸؍ ویں کتابوں میں ملی ہیں۔ یہاں گندم کو دھان، سیسے کے گلاس کو کپ، درجہ حرارت کو دباؤ اور فوڈ ویب (خوراک جال) کو فوڈ سائیکل (خوراک چکر) لکھا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں ’اکویناکس‘ کو ’اکویٹر‘ یعنی خط استوا بتا دیا گیا ہے۔ان رپورٹوں کے سامنے آتے ہی وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی نے بدھ کے روز لوک سیوا بھون میں ایک جائزہ میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں اسکول اور عوامی تعلیم کے وزیر نتیانند گوڑ، چیف سیکریٹری انو گرگ اور دیگر سینئر افسران موجود رہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس پورے معاملے کی جانچ کے لیے ڈیولپمنٹ کمشنر کی صدارت میں۳؍رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ مانجھی نے افسران کو صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ اس سنگین لاپروائی کے لیے جو بھی شخص یا ایجنسی ذمہ دار ہے، اس کی شناخت کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے۔اس معاملے میں تنازع بڑھتا دیکھ کر محکمہ اسکول اور عوامی تعلیم نے سرکاری طور پر ان غلطیوں کو تسلیم کر لیا ہے۔ اب مشکل یہ ہے کہ بچوں کی پڑھائی درمیان میں نہ رکے، اس لیے محکمہ نے سبھی اسکولوں کو ایک تصحیح نامہ جاری کیا ہے۔ اساتذہ کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ بچوں کو پڑھاتے وقت کتابوں کی غلطیوں کو اس تصحیح نامہ سے اصلاح کر کے پڑھائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK