Inquilab Logo Happiest Places to Work

شیوپال یادو نے سماجوادی میں پھوٹ سے متعلق دعوؤں کو خارج کیا

Updated: June 19, 2026, 11:08 AM IST | Agency | Lucknow

پارٹی کے سینئر لیڈر نے کہا کہ بی جے پی کو جھوٹ بولنے کی عادت ہوگئی ہے اوروہ سازشیں بھی کرتی رہتی ہے۔

Senior Samajwadi Party Leader Shivpal Yadav.Photo:INN
سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر شیوپال یادو۔ تصویر:آئی این این
سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر شیوپال یادو نے پارٹی میں پھوٹ سے متعلق اوم پرکاش راج بھر کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ شیوپال یادو نے کہا کہ بی جے پی کے لوگوں کو جھوٹ بولنے کی عادت ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ سازش بھی کرتے رہتے ہیں۔ نہ تو سماجوادی پارٹی ٹوٹ رہی ہے اور نہ ہی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ میں کوئی انتشار ہے۔نیوز ایجنسی ’اے این آئی‘ سے بات کرتے ہوئے شیوپال یادو نے اوم پرکاش راج بھر کے بیان کو سرے سے خارج کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’سماجوادی پارٹی کا کوئی بھی رکن پارلیمنٹ ٹوٹنے والا نہیں ہے۔ یہ لوگ جان بوجھ کر اپنی ٹی آر پی بڑھانے کیلئے اور انتخاب کے دوران سیٹوں کی تعداد بڑھانے کیلئے اس طرح کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔‘‘شیوپال یادو نے کہا کہ مجھے تو لگتا ہے کہ وہ لوگ اس طرح کا ’ٹویٹ‘ جان بوجھ کر کرتے ہیں لیکن اس کے لیے انہیں پیسہ بھی ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوم پرکاش راج بھر کو پوری ریاست میں کوئی بھی سنجیدگی سے نہیں لیتا ۔شیوپال یاد کے علاوہ سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سناتن پانڈے نے بھی اوم پرکاش راج بھر کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ’آئی اے این ایس‘ سےگفتگو میں کہا کہ ’’سب سے پہلے تفصیلی معلومات دینے کیلئے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں صاف طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ میں پارٹی نہیں چھوڑوں گا۔ یہ ایک سیدھا جواب ہے۔ زندگی بھر، خواہ میں سیاست میں رہوں یا نہ رہوں، خواہ میں رکن پارلیمنٹ رہوں یا نہ رہوں، میرا پورا وجود سماج وادی میں بسا ہوا ہے۔ 
 
 
منگلور میں آلودہ پانی پینے سے ۱۰۰؍ سے زائد بیمار
کرناٹک کے منگلور شہر میں آلودہ پانی پینے سے۱۰۰؍ سے زائد لوگ بیمار پڑ گئے۔ لوگوں کا الزام ہے کہ افسران کی لاپروائی کی وجہ سے لوگوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے۔ منگلورو کے بیجائی نیو روڈ اور بٹا گڈ ڈے علاقہ میں گزشتہ تین چارہفتے سے گھروں میں آنے والے پانی میں نالوں کی گندگی آ رہی ہے۔ اس پانی کا استعمال کرنے والے معمر افراد اور بچوں میں الٹیاں، اسہال، پیٹ درد اور دیگر انفیکشن کےمسائل تیزی سے بڑھے ہیں۔ شروعات میں لوگوں نے اسے عام موسمی انفیکشن سمجھا لیکن جب پورے علاقے میں ایک جیسی شکایات سامنے آنے لگیں تو حالات کی سنگینی کا پتہ چلا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی خاندانوں کے لوگ لگاتار بیمار پڑ رہے ہیں۔ منگلور سٹی (ساؤتھ) کے رکن اسمبلی ڈی ویداویاس کامتھ نےمنگلور سٹی کارپوریشن (ایم سی سی) پر اس حوالے سے شدیدتنقید کی ہے۔ویداویاس کامتھ نے بتایا کہ کئی لوگوں نے پانی میں نیلے پن اورانتہائی خراب بو کی شکایت کی ہے۔ متاثرین میں سے کئی لوگوں نے اینٹی بایوٹک دوائیوں کا استعمال بھی کیا لیکن صحت میں کوئی خاص بہتری نہیں ہوئی۔ اس سے علاقے میں تشویش اور خوف ہراس کا ماحول ہے۔ بیماری کےمعاملات میں مسلسل اضافہ ہونے پر مقامی شہریوں نے محکمہ صحت کی مدد سے پانی کے نمونوں کی جانچ کروائی۔ جانچ رپورٹ میں سامنے آیا کہ مہانگر پالیکا کے ذریعہ سپلائی کیا جا رہا پانی پینے لائق نہیں ہے۔ لیب رپورٹ میں صاف طور سے کہا گیا ہے کہ یہ پانی کسی بھی حالت میں انسانی استعمال کیلئے محفوظ نہیں مانا جا سکتا ۔رپورٹ سامنے آنے کے بعد علاقے کے لوگ اب مجبوری میں مہنگی قیمتوں پر پیکیجڈ ڈرنکنگ واٹر اور پانی کے کین خرید کر استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے لوگوں پر اضافی مالی بوجھ بھی بڑھ رہا ہے۔ تاثرین کا الزام ہے کہ اتنی سنگین صورتحال کے باوجود محکمہ صحت کے ملازمین کے علاوہ بلدیہ کے کسی اعلیٰ افسر نے علاقے کا دورہ نہیں کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK