کلکتہ ہائی کورٹ میں انتخابی تشدد کے معاملے کی سماعت جاری ، سابق وزیراعلیٰ نےٹی ایم سی کارکنوںپر حملے کے شواہد پیش کئے،تحفظ کا پُرزورمطالبہ۔
EPAPER
Updated: May 15, 2026, 9:54 AM IST | New Delhi
کلکتہ ہائی کورٹ میں انتخابی تشدد کے معاملے کی سماعت جاری ، سابق وزیراعلیٰ نےٹی ایم سی کارکنوںپر حملے کے شواہد پیش کئے،تحفظ کا پُرزورمطالبہ۔
مغربی بنگال میں انتخابات کے بعد تشدد کے معاملےکی کلکتہ ہائی کورٹ میں جمعرات کو سماعت ہوئی جس میںاپنی پارٹی ترنمول کانگریس کی پیروی کرنے کیلئے خودسابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی وکیل کا کوٹ پہن کر عدالت پہنچیں۔ اس دوران اس وقت افراتفری کے مناظر بھی سامنے آئے جب ممتا بنرجی کے عدالت کے احاطہ سے باہر نکلنے پر وکیلوںکے ایک گروپ نے’چور چور‘ کے نعرے لگائے۔ بہر حال اس احتجاج پرسابق وزیر اعلیٰ کا عدالت پہنچنا اور کیس کی خود پیروی کرنے کا معاملہ حاوی رہا ۔ انتخابات کے بعد ریاست کے مختلف حصوں میں ہونے والے تشدد اوربدامنی سے متعلق الزامات کے سلسلے میں ہائی کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) دائر کی گئی تھی۔ ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ اس معاملے میں دلائل دینے کے لیے جمعرات کی صبح عدالت پہنچیں۔
واضح رہےکہ سال رواںاوائل میں بھی ممتا بنرجی دلائل پیش کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں حاضر ہوئی تھیں۔ اس وقت وہ ریاست کی وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز تھیں۔ تاہم، اس موقع پر، وہ وکیل کے لباس میں نظر تھیں۔ بلکہ، انھوں نے عدالت میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے بارے میں ایک عام شہری کی حیثیت سے بحث کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کےتیسرے مرحلےکا اعلان کیا
تازہ معاملہ ٹی ایم سی کی جانب سے ایڈوکیٹ شرشنیا بندوپادھیائے کے ذریعہ دائر کردہ مفاد عامہ کی عرضی سے متعلق ہے جس میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد ترنمول کانگریس کے دفاتر پر حملوں اور اس کے کارکنوں کے خلاف تشدد کا الزام لگایا گیا ہے۔درخواست گزار کے مطابق، کئی ٹی ایم سی لیڈروں اور کارکنوں کوانتخابات کے بعد اپنے گھروں سے بھاگنے پر مجبور کیا گیا جب کہ ان میں سے بہت سے لوگوں پر ترنمول کانگریس کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے حملہ کیا گیا۔یہ عرضی کلکتہ ہائی کورٹ میں۱۲؍ مئی کو دائر کی گئی تھی۔ یہ معاملہ چیف جسٹس سوجوئے پال اور جسٹس پارتھا سارتھی سین پر مشتمل ڈویژن بنچ کے سامنے سماعت کیلئے پیش ہوا تھا۔
ممتا بنرجی نے کیا دلائل دئیے
ممتا بنرجی نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سوجے پال کی بنچ کے سامنے اپنے دلائل پیش کئے۔ انہوںنے کہا ’’میں نے ۱۹۸۵ء میں بار کونسل کے ممبر کے طور پر اپنا اندراج کرایا ہے۔ میں اپنے دلائل پیش کرنا چاہتی ہوں۔ درج فہرست ذات سے تعلق رکھنے والے خاندان حملوں کی زد میں ہیں۔ نوبیاہتا جوڑوں کے خاندانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا ہے۔ خاندان خواہ ہندو ہوں، مسلم ہوں، ایس سی، یا ایس ٹی-انہیں بے گھر کر دیا گیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر لوگوں پر حملے ہو رہے ہیں، معمولات زندگی مکمل طور پر درہم برہم ہو کر رہ گئے ہیں۔ پولنگ کے بعد تشدد میں اب تک ۱۰؍ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ میری اپنی رہائش گاہ کے تعلق سے بھی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ دیر شام تک، میرے گھر کے باہر ہنگامہ برپا رہتا ہے۔ ہر طرف سیکوریٹی کا فقدان ہے۔ گھروں اور دفاتر کو لوٹا جا رہا ہے۔ ہمارے پاس ان واقعات کی تصاویر موجود ہیں جو ثبوت ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ، یہ بلڈوزر اسٹیٹ نہیں ہے۔ یہ اعلیٰ ثقافت اور ورثے کی ریاست ہے ۔ براہ کرم ہماری حفاظت کریں۔‘‘ کلیان بنرجی نے بھی ممتا بنرجی اور چندریما بھٹاچاریہ کی جانب سے دلائل پیش کئے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اترپردیش کا قانون مہاراشٹر میں نہیں چلے گا‘‘
عدالت کے باہر کیا ہوا؟
ہائی کوٹ کے احاطے میں ہوئی افراتفری کے دوران ٹی ایم سی لیڈر و سابق وزیر چندریما بھٹاچاریہ ممتا بنرجی کے ساتھ تھیں۔ ٹی ایم سی لیڈر اور ایڈوکیٹ کلیان بنرجی عدالت میں ممتا بنرجی کے ساتھ تھے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے زیر اثر وکلاء نے سابق وزیر اعلیٰ کو گھیرنے کی کوشش کی اور پارٹی کی قانونی ٹیم کو انہیں بحفاظت باہر نکالنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انھوں نے کہا’’عدالت عوامی طور پر کسی کو چور یا ڈاکو قرار دینے کی جگہ نہیں ہے، ہم اپوزیشن پارٹی کے لیڈروں کے بارے میں بھی ایسی ہی باتیں کہہ سکتے ہیں، سابق وزیر اعلیٰ ایک درخواست پر دلائل دینے عدالت گئیں تھیں، اور ہمیں سماعت ختم ہونے کے بعد وہاں سے نکلتے وقت شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔کلیان بنرجی نے کہا ’’اگر ممتا بنرجی کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو سوچیں کہ ٹی ایم سی کے عام کارکنوں کے ساتھ کیا نہیںہوسکتا۔‘‘