Inquilab Logo Happiest Places to Work

ویکسین لگانے کے گھنٹے بھر بعد ڈھائی ماہ کی بچی فوت، پوسٹ مارٹم کیلئے اہل خانہ کو دھرنا دینا پڑا

Updated: May 15, 2026, 8:17 AM IST | Chalisgaon

جلگائوں ضلع کے چالیس گاؤں شہر سے قریب ٹکالی پراچا گاؤں ڈھائی ماہ کی ایک بچی کی ویکسین لگانے کے بعد موت واقع ہو گئی جس کے بعد علاقے میں سنسنی پھیل گئی

Had to stage a sit-in outside the hospital then the post-mortem was done
اسپتال کے باہر دھرنا دینا پڑا تب پوسٹ مارٹم ہوا

جلگائوں ضلع کے چالیس گاؤں شہر سے قریب ٹکالی پراچا گاؤں ڈھائی ماہ کی ایک بچی کی ویکسین لگانے کے بعد موت واقع ہو گئی جس کے بعد علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ نونہالوں کو مختلف بیماریوں سے بچانے کیلئے لگائی جانے والی ’ پینٹا ویلنٹ ویکسین‘ لگانے سے ہوئی بچی کی موت کے بعد کئی طرح کے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
  جلگائوں ضلع کے چالیس گاؤں تعلقے میں واقع  تکالی پراچا  میں رہنے والے دیپک بورسے کی ڈھائی ماہ کی بچی سچیتا کو اس کی ماں  ویکسین لگوانے کیلئے آنگن واڑی نمبر ایک میں لگے میڈیکل کیمپ لے گئی تھی ۔ میڈیکل کیمپ سے گھر واپس آنے کے بعد بچی کی طبیعت بگڑنے لگی تو گھر والے اسے فوری طور پر چالیس گاوں کے ایک پرائیویٹ اسپتال لے گئے۔  ڈاکٹروں نے معائنہ کیا اور اسے مردہ قرار دے دیا۔ اسکے بعد بچی کی لاش کو چالیس گاؤں کے دیہی اسپتال لے جایا گیا تاکہ اس کی موت کی صحیح وجہ معلوم کی جا سکے۔ تاہم  مقامی ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ موت کی صحیح وجہ معلوم کرنے کیلئے بچی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے جلگاؤں کے گورنمنٹ میڈیکل کالج لے جایا جائے۔ لہٰذا بچی کے نانا تلسی داس مراٹھے  رات تقریبا ۲؍ بجےاس کی لاش لے کر گورنمنٹ میڈیکل کالج پہنچے لیکن  وہاں کے ڈاکٹروں نے لاش کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ڈھائی ماہ کی معصوم بچی کی لاش کو گود میں لئے وہ رات بھر پوسٹ مارٹم روم کے گیٹ کے باہر بیٹھے رہے ۔صبح جب اس دل دہلا دینے والے منظر نے اسپتال میں آنے جانے والوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی تو ان کے دل بھر آئے۔ سوشل  میڈیا کے ذریعے یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس کے بعد اسپتال کا عملے کو ہوش آیا۔ انتظامیہ نے جلد بازی میں معاملے کی انکوائری شروع کردی۔ اطلاع کے مطابق بچی کو پینٹا ویلنٹ ویکسین صبح ساڑھے ۹؍ بجے کے قریب لگائی گئی تھی۔ یہ ویکسین وہاں ۴؍ بچوں  لگائی گئی تھی۔ ان میں سچیتا کا اچانک انتقال ہو گیا،جبکہ باقی تین بچے خیریت سے ہیں۔پینٹا ویلنٹ ویکسین ایک شاٹ ویکسین ہے جو پانچ بیماریوں سے بچانے کیلئے لگائی جاتی ہے۔یہ ویکسین لگانے کے بعد بچے کیلئے پیروں میں ہلکی سوجن اور ہلکا بخار ہونا عام بات ہے۔ تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس ویکسین سے کوئی منفی اثرات نہیں دیکھے گئے ۔اس سلسلے میں چالیس گاؤں تعلقہ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر پرشانت پاٹل نے بتایا ’’ویکسی نیشن مہم کے دوران چار بچوں کو پینٹا ویلنٹ ویکسین  لگائی گئی۔ تاہم ایک المناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک بچی سچیتا چل بسی۔ اس کی موت کی صحیح وجہ معلوم کرنے کیلئے، ہم نے اس کیس کو جلگاؤں کے گورنمنٹ میڈیکل کالج کے طبی ماہرین کے پاس بھیج دیا ہے۔‘‘واضح رہے کہ یہ پینٹا ویلنٹ ویکسی نیشن مہم پورے ضلع میں مستقل بنیادوں پر چلائی جاتی ہے۔ تعلقہ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر پرشانت پاٹل نے یہ بھی بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ صرف دو دن کے اندر متوقع ہے جس کے بعد بچی کی موت کی صحیح وجہ کا تعین کیا جا سکے گا۔یہ بھی یاد رہے کہ متوفی بچی کے والد دیپک بورسے فوجی جوان ہیں۔جو ان دنوں ایودھیا میں تعینات ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK