اورنگ آباد میں متین پٹیل کا مکان منہدم کئے جانے پر سماجی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے اظہار ناراضگی ، اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیا گیا
EPAPER
Updated: May 15, 2026, 8:19 AM IST | Aurangabad
اورنگ آباد میں متین پٹیل کا مکان منہدم کئے جانے پر سماجی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے اظہار ناراضگی ، اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیا گیا
بدھ کے روز اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن نے مجلس اتحادالمسلمین کے کارپوریٹر متین پٹیل کا نرے گائوں میںواقع بنگلہ گرا دیا تھا جس پر سماجی اور سیاسی حلقوں میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ونچت بہوجن اگھاڑی کے ترجمان نے پہلے ہی بیان جاری کرکے اسے آئین کے خلاف کارروائی قرار دیا تھا۔ اب شیوسینا (ادھو) کے سینئر لیڈر امبا داس دانوے نے اسے اتر پردیش کا قانون قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ میں اس معاملے میں اسمبلی میں آواز اٹھائوں گا۔‘‘
امبا داس دانوے نے ایک میڈیا چینل سے بات کرتے ہوئے کہا ’’ متین پٹیل نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو اسے سزا ملنی چاہئے اس کی کوئی مخالفت نہیں کرے گا لیکن کسی کا گھر گرا دینا اس کے اہل خانہ کو ہراساں کرنا یہ پوری طرح سے غلط ہے۔ ‘‘ دانوے نے کہا ’’اگر متین پٹیل کا مکان غیر قانونی تھا تو اسے ضرور گرایا جانا چاہئے لیکن اس شہر میں ۷۰؍ فیصد تعمیرات غیر قانونی ہیں انہیں کیوں نہیں گرایا گیا؟ ممبئی جا کر دیکھئے وزیروں کے بنگلے تک غیر قانونی ہیں۔ اب اس کا آپ کیا کریں گے؟‘‘ انہوں نے کہا ’’ یہ ساری غیر قانونی کام میونسپل کارپوریشن کے آشیرواد ہی سے ہوتے ہیں۔ جب غیر قانونی تعمیرات ہو رہی تھیں تو کیا میونسپل کارپوریشن سو رہا تھا؟‘‘ ودھان پریشد کے اپوزیشن لیڈر رہ چکے امبا داس دانوے نے کہا ’’ اگر متین پٹیل نے کوئی جرم کیا ہے ، جبراً تبدیلی مذہب کروائی ہے یا کسی ملزم کو پناہ دی ہو تو قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے لیکن ان کا گھر گرانا یہ یوپی کا قانون ہے جو اب یہ لوگ مہاراشٹر میں بھی نافذ کر رہے ہیں۔‘‘ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا آپ ’’ اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے؟ ‘‘ امبا داس دانوے نے کہا ’’ میں مناسب اسٹیج پر یعنی اسمبلی میں آئندہ ہونے والے سیشن میں ضرور اس معاملے کو اٹھائوں گا۔ مہاراشٹر میں یوپی کا قانون نہیں چلے گا۔ میرے پاس سارے ثبوت ہے کہ اورنگ آباد میں کن کن بی جے پی لیڈروں کے غیر قانونی بنگلے ہیں میں وہ سب ایوان میں پیش کروں گا۔‘‘
سیکولر ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ( ایس ڈی پی آئی) نے بھی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ جاری کرکے اس انہدامی کارروائی کی مذمت کی ہے۔ پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر ملزم کو حق ہے کہ وہ آئین ہند کے مطابق عدالت میں اپنا دفاع کرے۔ یہی حق متین پٹیل کو بھی ہے لیکن یہ کیا کہ عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی متین پٹیل کو مجرم قرار دے کر ان کے مکان کو گرا دیا گیا؟ پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پوری طرح سے غیر آئینی اقدام ہے اور ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ اس کے خلاف آواز اٹھانی ضروری ہے۔
دلت پنتھر کے نوجوان لیڈر دیپک کیدار نے سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کرکے کہا ہے ’’ پونے میں ڈرگ مافیا کے خلاف اسی طرح کی کارروائی کیوں نہیں کی گئی جو نوجوانوں کی زندگی برباد کر رہے تھے؟ صرف متین پٹیل کا مکان کیوں گرایا گیا؟ صرف اس لئے کہ اس کا نام ’متین ‘ ہے؟ کیا اب قانونی کارروائی نام دیکھ کر کی جاتی ہے؟‘‘ انہوں نے اس کارروائی کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس کے خلاف احتجاج کریں۔ یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر متین پٹیل کےمکان کو منہدم کرنے کے عمل کی مذمت کی جا رہی ہے۔