• Tue, 01 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تیز طرار آئی اے ایس افسر دیویا متل نے محض ۱۳؍ سال میں استعفیٰ کیوں دیا؟

Updated: September 01, 2026, 4:08 PM IST | Inquilab News Network | Lucknow

استعفیٰ کی وجہ انہوں نے’ذاتی‘بتائی ہے لیکن سوشل میڈیا پر جوجذباتی پوسٹ کیا ہے، وہ کچھ اور کہانی سناتی ہے، چار سال قبل ان کے شوہر نے بھی سول سروسیز سے استعفیٰ دیا تھا۔

Divya Mittal. Picture: INN
دیویا متل۔ تصویر: آئی این این

اترپردیش کی تیز طرار آئی اے ایس افسر دیو یا متل کے استعفیٰ پر طرح طرح کی قیاس آرائیں جاری ہیں۔ لوگ سوال کررہے ہیں کہ انہوں نے استعفیٰ کیوں دیا؟ حالانکہ اس کی وجہ تو انہوں نے ’ذاتی‘ بتائی ہے لیکن لوگوں کو اس پریقین نہیں ہورہا ہے کہ جس خواب کی تعبیر کیلئے انہوں نے لندن کی بھاری بھرکم تنخواہوں والی ملازمت کو خیرباد کہا تھا، اب اسی تعبیر سے انہوں نے منہ موڑ لیا ہے۔ یہ اتنی آسانی سے تو نہیں ہوا ہوگا۔ استعفیٰ دینے کے بعد انہوں نے ایک جذباتی پوسٹ بھی لکھا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی دباؤ نے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا ہے۔  

یہ بھی پڑھئے: اے آئی کے استعمال میں جین زی سب سے آگے مگر مستقبل کے اثرات سے فکرمند بھی:رپورٹ

دیویا متل کا تعلق ریواڑی، ہریانہ سے ہے۔ ۲۰۱۲ء میں، انہوں نے یو پی ایس سی سول سروسز امتحان میں کامیابی حاصل کی، جو ملک کے سب سے مشکل اور باوقار امتحانات میں سے ایک ہے۔ اپنی دوسری کوشش میں، انہوں نے۶۸؍واں رینک حاصل کیا اور آئی اے ایس آفیسر بنیں۔ اس سے پہلے وہ یو پی ایس سی کریک کر کے آئی پی ایس آفیسر بنی تھیں۔ اس سے قبل دیویا متل نے انجینئرنگ میں کریئر بنانے کیلئے سب سے پہلے ’آئی آئی ٹی ۔جے ای ای ‘کریک کیا اور آئی آئی ٹی دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے مینجمنٹ کورس کرنے کیلئے ’آئی آئی ایم۔ سی اے ٹی‘ کا امتحان دیا اور کامیاب ہوکر آئی آئی ایم بنگلور سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔اس طرح بھاری بھرکم ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد، دیویا متل برطانیہ چلی گئیں اور لندن میں واقع دنیا کے موقر ادارے جے پی مورگن میں اعلیٰ تنخواہ والی نوکری حاصل کی۔

یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی کیخلاف ایف آئی آر پر کانگریس سخت برہم، ملک گیر مظاہرہ

اپنی پوسٹ میں اُن دنوں کو یاد کرتے ہوئے، دیویا متل نے کہا کہ آئی آئی ٹی دہلی اور آئی آئی ایم بنگلور میں پڑھنے کیلئے دن رات کام کرنے کے بعد، میں نے لندن میں نوکری حاصل کی، لیکن سب کچھ ہونے کے بعد بھی، کچھ ادھورا سا محسوس ہوا، میں نے خود کو ادھورا محسوس کیا، مجھے اپنے ہی ملک میں رہنے کی کمی محسوس ہوئی۔ میری تعلیم، میری خود اعتمادی، دنیا میں کہیں بھی سر بلند کر کے چلنے کی طاقت۔ میں نے اس قرض کو ادا کرنا چاہا۔ اینٹوں پر ہاتھ کے نشانات جو ہندوستان کی تعمیر کریں گے  اورجس کا میں نے خواب دیکھا تھا، چنانچہ میں ہندوستان واپس آگئی، اور یہ میری خوش بختی تھی کہ دوسری ہی کوشش میں آئی اے ایس افسر بن گئی۔اس کے بعد انہوں نے جو بات لکھی ہے،اسی سے ان کا کرب نمایاں ہوتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’میں نے اپنے خواب کی تعبیر تو حاصل کرلی لیکن میں ملک کے عام لوگوں کے خواب کی تعبیر نہیں بن پارہی تھی۔‘‘انہوں نے مزید لکھا کہ ’’میں بے وقوف تھی جو یہ سوچتی تھی کہ میں ملک اور سماج کو کچھ دوں گی لیکن یہاں تو صرف مجھے مل رہا تھا، میں کچھ دے نہیں رہی تھی۔‘‘

دیو یامتل نے فی الحال اپنی آگے کی منصوبہ بندی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا  لیکن ان کے تعلق سے طرح طرح کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ وہ سیاست کے میدان میں قدم آزمائیں گی توبعض کہتے ہیں کہ اپنے شوہر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کاروباری راستہ اختیار کریں گی۔ خیال رہے کہ ان کے شوہرگگن دیپ ڈھلون نے بھی چار سال قبل سول سروسیز کی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اب وہ پرائیویٹ سیکٹر میں بطور تاجر کام کررہے ہیں۔

دیویا متل کا سرسری تعارف
 آبائی وطن : ریواڑی، ہریانہ
ابتدائی تعلیم: آئی آئی ٹی دہلی اور آئی آئی ایم بنگلور
ابتدائی ملازمت:  جے پی مورگن، لندن
یوپی ایس سی: پہلی کوشش میں آئی پی ایس
یوپی ایس سی: دوسری کوشش میں آئی اے ایس، ۶۸؍واں رینک
شناخت: ان کی پہچان ایک تیز طرار افسر کی رہی ہیں۔ یہ اکثر سیاسی لیڈروں سے ٹکراتی رہی ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے استعفیٰ کو اسی پس منظر میں دیکھا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK