• Wed, 04 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

میں مسلم معاشرے کے ساتھ ہمیشہ کھڑا ہوں، یہ ملک کا اٹوٹ حصہ ہے: منی شنکر ایئر

Updated: February 03, 2026, 10:04 PM IST | New Delhi

کامریڈ منی شنکر ایئر نے ملت ٹائمز کانکلیو۲۰۲۶ء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں مسلم معاشرے کے ساتھ ہمیشہ کھڑا ہوں، یہ ملک کا اٹوٹ حصہ ہیں، یہ تقریب انڈیا اسلامی کلچرل سینٹر میں منعقد ہوئی۔

Comrade Mani Shankar Aiyar. Photo: INN
کامریڈ منی شنکر ایئر۔ تصویر: آئی این این

کامریڈ منی شنکر ایئر نے ملت ٹائمز کانکلیو۲۰۲۶ء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں مسلم معاشرے کے ساتھ ہمیشہ کھڑا ہوں، یہ ملک کا اٹوٹ حصہ ہیں، یہ تقریب انڈیا اسلامی کلچرل سینٹر میں منعقد ہوئی۔اس موقع پر ملت ٹائمز کی سالگرہ منائی گئی، جو صحافت اور عوامی مفادات کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنے والے پلیٹ فارم کے طور پر جانا جاتا ہے، جس میں منی شنکر کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو اور سوال و جواب کا سیشن شامل تھا۔ سامعین سے خطاب کرتے ہوئے، منی شنکرنے ملت ٹائمز کی دعوت پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔انہوں نے آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دعوت کی خاص اہمیت ہے کیونکہ اس نے انہیں براہ راست مسلم کمیونٹی کے ارکان سے بات کرنے اور ان سے جڑنے کا موقع دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ووٹروں کا نام حذف کرنےکیلئے زعفرانی ٹولہ سرگرم‘‘

بعد ازاں انہوں نے یہ موقع فراہم کرنے کے لیے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور کہا، ’’میں عہد کرتا ہوں کہ میں ان کا ساتھ دوں گا۔ میں ہمیشہ ہمارے مسلمانوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں، کیونکہ جیسا میں نے کہا مسلمان اس ملک کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ ‘‘دریں اثناء انہوں نے ہندستان کے قومی تانےبانے میں مسلمانوں کے گہرے اثرات پر زور دیا۔ انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کے مشہور استعارے سے متاثر ہو کر مسلمانوں کو ملک کا اٹوٹ اور ناگزیر حصہ قرار دیا۔جیسا کہ آزاد نے کہا تھا کہ،’’ مسلمان قومی ڈھانچے کا ایک اہم ستون ہیں، اور اس ستون کو ہٹانے سے پورا ڈھانچہ چھت سے نیچے گر جائے گا۔‘‘ 
واضح رہے کہ اس سے قبل، آئی اےاین ایس کے ساتھ ایک انٹرویو میں، منی شنکرنے سوال اٹھایا کہ ’’ہندستان پاکستان کے ساتھ دشمنی کیوں برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہیں، حالانکہ حالیہ کشیدگی کے دوران چین فوجی طور پر پاکستان کے قریب ہے۔‘‘یاد رہے کہ جب ہندستان اور پاکستان ’آپریشن سیندور‘ کے دوران فوجی تصادم میں مصروف تھے، چینی فوج پاکستانی فضائیہ کی پشت پناہی کر رہی تھی۔ اگر بیجنگ کے ساتھ بات چیت ممکن ہے، تو اسلام آباد کے ساتھ کیوں نہیں؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: چینی دراندازی پر راہل گاندھی کو بولنے نہیں دیاگیا

وزیر اعظم نریندر مودی کے روس دورے کے دوران دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے، جہاں انہوں نے کہا تھا کہ ’’یہ جنگ کا دور نہیں ہے‘‘ اور یہ کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی واحد حل ہیں، منی شنکر نے پوچھا کہ یہ اصول ہندستان کے پاکستان سے معاملات میں کیوں نہیںاپنایاجاتا۔ انہوں نے پوچھا’’تنازع کے دوران چینی فوج پاکستانی فضائیہ کے ساتھ موجود تھی۔ آپ (حکومت) چین سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں، تو پاکستان سے بات کیوں نہیں کرتے؟ وزیر اعظم مودی کہتے ہیں کہ یہ جنگ کا دور نہیں ہے، تو ہم پاکستان سے لڑ کیوں رہے ہیں؟مودی نے روس سے کہا کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے، لیکن ہم پاکستان کے ساتھ بات چیت یا سفارت کاری کیوں نہیں کررہے ہیں۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK