دشمنی ختم کرکے گفتگو دوبارہ شروع کرنے اورتعلقات کی بحالی کیلئے اقدامات کا مطالبہ۔
EPAPER
Updated: July 02, 2026, 9:51 AM IST | New Delhi
دشمنی ختم کرکے گفتگو دوبارہ شروع کرنے اورتعلقات کی بحالی کیلئے اقدامات کا مطالبہ۔
ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدگی کا شکار ہیں۔ ایسے ماحول میں دونوں ممالک کے۱۱۷؍ سابق سفارتکاروں، ماہرینِ تعلیم، سماجی کارکنوں اورممتاز شہریوں نے ایک نئی پہل کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو ایک کھلا خط لکھا ہے۔ اس خط میں دونوں لیڈروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ٹکرائو کی سیاست چھوڑ کر آگے بڑھیں اور بات چیت، تعاون اور معمول کے تعلقات کی بحالی کی سمت میں ٹھوس اقدامات کریں۔ اپیل کرنے والوں میں منی شنکر ایّر،فاروق عبداللہ ، شاہ محمود قصوری اور دیگر کے نام شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کے کروڑوں لوگوں کا مستقبل امن، ترقی اور باہمی تعاون سے وابستہ ہے، اس لئے مذاکرات کا راستہ دوبارہ کھولا جانا چا ہئے۔
واضح رہے کہ یہ کھلا خط سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ اس میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے، نئی دہلی اور اسلام آباد میں دوبارہ ہائی کمشنر تعینات کرنے اور معمول کی ویزا خدمات بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ مسلسل جاری دشمنی دونوں ممالک کے نوجوانوں سے مواقع، خوشحالی اور محفوظ مستقبل چھین رہی ہے۔ خط پر دستخط کرنے والوں نے دونوں وزرائے اعظم سے درخواست کی کہ وہ عام لوگوں کی امنگوں کو سمجھیں اور علاحدگی کے بجائے بات چیت، ٹکرائو کے بجائے تعاون اور بداعتمادی کے بجائے اعتماد کا راستہ اختیار کریں۔ کھلے خط میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان مل کر دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی آبادی کا گھر ہیں۔ ہماری آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ دونوں ممالک کے لوگ ایسے مستقبل کے حقدار ہیں جو امن، ترقی، روابط اور تعاون پر مبنی ہو، نہ کہ مسلسل بداعتمادی اور ٹکراؤ پر۔‘‘ خط میں دونوں ممالک کے درمیان تمام زیر التوا مسائل پر جامع دوطرفہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس میں جموں کشمیر کا بھی ذکر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مہوا موئترا پر حملہ، پتھر اور انڈے پھینکے گئے
خط میں کشمیر کے تعلق سے کہا گیا ہے کہ ۲۰۰۴ء سے ۲۰۰۷ءکے درمیان تیار کئے گئے مذاکراتی ڈھانچے پر دوبارہ غور کیا جانا چاہئے ۔خط میں یہ بھی کہا گیا کہ خطے میں پائیدار امن قائم کرنے کے لئے فوجی کشیدگی کم کرنے اور مرحلہ وار تناؤ میں کمی کی سمت میں کوششیں کی جانی چاہئیں۔ اس کے ساتھ دونوں ممالک کے جائز سیکوریٹی خدشات کا بھی احترام کیا جانا چاہیے۔ خط پر دستخط کرنے والوں کا ماننا ہے کہ اگر سیاسی عزم کے ساتھ مذاکرات شروع کیے جائیں تو کئی پرانے تنازعات کا حل نکالا جا سکتا ہے۔خط میں صرف سیاسی مذاکرات کی بات نہیں کی گئی بلکہ عوامی روابط بڑھانے کے لیے بھی کئی عملی تجاویز بھی دی گئی ہیں۔ اس میں اٹاری۔واگھا سرحد کو تجارت اور عام لوگوں کی آمد و رفت کے لیے دوبارہ مکمل طور پر کھولنے، سری نگر۔مظفرآباد بس سروس بحال کرنے اور دیگر رابطہ منصوبے شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود دوبارہ کھولنے کی بھی تجویز دی گئی ہے تاکہ سفر کا وقت اور خرچ کم ہو سکے۔مذہبی اور ثقافتی روابط بڑھانے پر بھی خاص زور دیا گیا ہے۔ خط میں کرتارپور صاحب راہداری کو دوبارہ مکمل طور پر فعال کرنے اور پاکستان کی نیلم ویلی میں واقع شاردہ پیٹھ تک کشمیری پنڈتوں کی آسان رسائی یقینی بنانے کی اپیل کی گئی ہے۔ دستخط کنندگان کا ماننا ہے کہ ایسے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔خط کے آخر میں دونوں وزرائے اعظم سے جذباتی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’ہم آپ سے مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ عام لوگوں کی امنگوں کو سنیں اور علیحدگی کے بجائے بات چیت، دشمنی کے بجائے تعاون اور ٹکرائو کے بجائے شراکت داری کا راستہ اختیار کریں۔ جنوبی ایشیا کا مستقبل تقسیم اور تنازع سے نہیں بلکہ امن، خوشحالی اور مشترکہ ترقی سے طے ہونا چاہیے۔‘‘اس خط پر دستخط کرنے والوں میںہندوستان کی جانب سے ۶۱؍ شخصیات شامل ہیں جن میں فاروق عبداللہ ،محبوبہ مفتی ، میر واعظ عمر فاروق، منوج جھا، اے ایس دولت ،منی شنکر ایّر، ریٹا منچندا اور دیگر شامل ہیں۔ پاکستان کی جانب سے۵۶؍ اہم شخصیات نے دستخط کئے ہیں جن میںپاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، اشرف جہانگیر قاضی،پرویز ہود بھائی ،بینا سرور اور شمشیر احمد خان کے نام شامل ہیں۔