وزیر داخلہ گووند داس کونتھوجم نے اسمبلی میں بتایا کہ۳؍ مئی ۲۰۲۳ء کو شروع ہونے والے تشدد میں ۳۰۶؍افراد کی موت ہوئی جبکہ ۴۹؍لاپتہ ہیں۔
EPAPER
Updated: September 04, 2026, 11:01 AM IST | Agency | Imphal
وزیر داخلہ گووند داس کونتھوجم نے اسمبلی میں بتایا کہ۳؍ مئی ۲۰۲۳ء کو شروع ہونے والے تشدد میں ۳۰۶؍افراد کی موت ہوئی جبکہ ۴۹؍لاپتہ ہیں۔
منی پور میںکوکی اور میتی برادریوںکے درمیان۳؍ سال سے جاری نسلی تصادم اور تشدد نے اب تک سیکڑوں جانیں لے لی ہیں اور کئی افراد لاپتہ ہیں۔ اس سلسلے میں جمعرات کو منی پور کے وزیر داخلہ گووند داس کونتھوجم نے اسمبلی میں کچھ اہم معلومات فراہم کیں۔ انہوںنے بتایا کہ۲۰۲۳ء میں برپا ہوئے نسلی تشدد میں کم از کم۳۰۶؍افراد مارے گئے ہیں اور۴۹؍ افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔قابل ذکر ہے کہ میتی اور کوکی طبقات کے درمیان تشدد کا آغاز۳؍مئی ۲۰۲۳ء کو ہوا تھا۔ یہ تشدد پہاڑی ضلعوں میں ’قبائلی یکجہتی مارچ‘ منعقد ہونے کے بعد شروع ہوا جو میتی طبقہ کے ’درج فہرست قبائل‘ کے درجے کے مطالبہ کی مخالفت میں نکالا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:ایف ڈی اے کا نیا فرمان، باورچیوں کیلئے رجسٹریشن لازمی
۳؍ستمبر کو منی پور اسمبلی اجلاس کے دوسرے دن بی جے پی رکن اسمبلی سپم رنجن سنگھ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کونتھوجم نے کہا’’۳؍ مئی۲۰۲۳ء کو تشدد شروع ہونے کے بعد سے۳۰۶؍افراد لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور۳۱؍اگست ۲۰۲۶ء تک۴۹؍افراد لاپتہ ہیں۔ ‘‘ تشدد کو دیکھتے ہوئے ریاست میں گزشتہ سال۱۳؍ فروری کو صدر راج نافذ کیا گیا تھا۔ اس سے قبل مہینوں جاری والے نسلی تشدد کے بعد۹؍فروری کو بیرین سنگھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے استعفیٰ دیا تھا۔ رواں سال صدر راج ہٹا لیا گیا اور اس کے کچھ گھنٹوں بعد بی جے پی لیڈر وائی کھیم چند سنگھ کی وزیر اعلیٰ کے طور پر تقرری ہوئی اور نئی حکومت تشکیل دی گئی۔قابل ذکر ہے کہ منی پور کی آبادی میں میتی کی شراکت داری تقریباً۵۳؍ فیصد ہےجن کی اکثریت امپھال وادی میں رہتی ہےجبکہ قبائلی (جن میں ناگا اور کوکی شامل ہیں)۴۰؍ فیصد ہیں، زیادہ تر پہاڑی اضلاع میں رہتے ہیں۔