مختلف تنظیموں کے اشتراک سے آزاد میدان میں احتجاج کے دوران مظاہرین نے ’اسکول بچاؤ تعلیم بچاؤ، بی ایم سی اسکول بچاؤ ،طلبہ کا مستقبل سنواریئے‘کا نعرہ لگایا۔ ۱۲؍ مطالبات کئے۔
EPAPER
Updated: September 04, 2026, 11:39 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
مختلف تنظیموں کے اشتراک سے آزاد میدان میں احتجاج کے دوران مظاہرین نے ’اسکول بچاؤ تعلیم بچاؤ، بی ایم سی اسکول بچاؤ ،طلبہ کا مستقبل سنواریئے‘کا نعرہ لگایا۔ ۱۲؍ مطالبات کئے۔
اسکولوں کو بند کئے جانے کے خلاف جمعرات ۳؍ستمبرکو آاد میدان پر زبردست احتجاج کیا گیا ۔ دورانِ احتجاج ’اسکول بچاؤ تعلیم بچاؤ، بی ایم سی اسکول بچاؤاور طلبہ کا مستقبل سنواریئے ‘کا نعرہ بلند کیا گیا۔ یہ احتجاج ایس ایف آئی، ڈی وائی ایف آئی ، سیٹو ، اے ایس بی ایس اور اے آئی ڈی ڈبلیو اے تنظیموں کے اشتراک سے کیا گیا۔
’’اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے‘‘
سی پی آئی ایم ممبئی کےسیکریٹری شیلندر کامبلے نے کہاکہ ’’اسکولوں کو بند کیا جانا اور ان میں سہولتوں کا فقدان، گندگی ،پینے کے پانی کی قلت وغیرہ دراصل یہ بچوں کے تعلیم کے بنیادی حق سے کھلواڑ ہے۔ اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب نے ڈاکٹر منال رضوان کو امن مذاکرات کیلئے خصوصی ایلچی مقرر کیا
احتجاج کے دوران ۱۲؍اہم مطالبات
(۱) آرٹی ای کےضابطے پرسختی سے عمل کیا جائے (۲) سرکاری اسکول بند کرنے اور ضم کرنے پر فوراً روک لگائی جائے (۳) بند کئے گئے یا ضم کئے گئے اسکولوں کو دوبارہ شروع کرنے کےلئے خصوصی ایکشن پلان تیار کیا جائے (۴) ریاست بھر کے اسکولوں میںاساتذہ کی خالی اسامیاں پُر کی جائیں اور حسبِ ضرورت نئے اساتذہ کی بلاتاخیر تقرری کی جائے (۵)ہر ایک اسکول میں بنیادی سہولتوں کا آڈٹ کرایا جائے ۔ صاف صفائی ، پینے کا پانی ، بجلی ، حفاظتی چہار دیواری ، لیباریٹری ، لائبریری اور کھیل کود سے متعلق فنڈ جاری کیا جائے (۶) دیہی ، آدیواسی اور پہاڑی علاقوں میں اسکولوں کے قیام اور ان کی بہتری کے لئے خصوصی ایکشن پلان تیار کیا جائے (۷) طلبہ کے آنے جانے کے دوران حفاظت اور آمدورفت کا بہتر نظم کیا جائے (۸) تمام سرکاری اسکولوں میںتعلیم کےساتھ دیگر آسانیوں کے لئے تمام سہولتیں مہیا کرائی جائیں (۹) طالبات ،آدیواسی اورپسماندہ طبقات کے طلبہ کےلئے خصوصی سہولتیں مہیا کرائی جائیں (۱۰) سرکاری اسکولوں میں معیارِ تعلیم بلند کرنے کےلئے خصوصی مہم چلائی جائے (۱۱) سرکاری اسکولوں کی دیکھ بھال ، یومیہ اخراجات اور طلبہ کی سہولت کے لئے اضافی فنڈ دیا جائے (۱۲) تمام سرکاری اسکولوں میںہر ایک طالب علم کے لئے بغیربھیدبھاؤ کے معیاری تعلیم کو یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: بیت المقدس: اگست میں مسجد الاقصیٰ پر ۵۲۰۹؍ اسرائیلی آبادکاروں کے حملے
’’بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ نہیں ہونے دیں گے‘‘
ایس ایف آئی ممبئی کی صدر نتاشا دراڈے نے کہاکہ ’’۳۰؍سےزائد بی ایم سی کی اور کئی دیگر سرکاری اسکولوں کو بند کیا جاچکا ہے جبکہ کئی کو ضم کردیاگیا ہے۔یہ بچوں کے مستقبل سے کھلا کھلواڑ ہے۔ ہم سب نے یہ عہد کیا ہے کہ اس کے خلاف مسلسل صدائے احتجاج بلند کی جاتی رہے گی ۔‘‘ ایس ایف آئی کےدیگر عہدیداران آدرش اور پرتیک نے بھی اظہارخیال کیااوراس بات کااعادہ کیا کہ جب تک اسکولوں کی حالت درست نہیں کردی جاتی، طلبہ کو بہترتعلیمی نظام اوراچھے اسکول نہیں مل جاتے، ہم سب خاموش نہیںبیٹھیں گے۔‘‘
اسکولی تعلیم کےوزیرکی رہائش گاہ کے گھیراؤ کی تیاری
احتجاج کرنے والوں میںشامل ڈی وائی ایف آئی ممبئی کے صدر مہندراُگھاڑے نے کہاکہ’’ جمعرات کو احتجاج کے بعداسکولی تعلیم کے وزیر دادا بھسےسےملاقات کی کوشش کی گئی مگر کامیابی نہیں ملی ۔اس لئے اب احتجاج کے اگلے مرحلے میں ناسک میںان کی رہائش گاہ کا گھیراؤکیا جائیگا۔ ہم کسی صورت سرکاری اسکولوں کوبند نہیںہونے دیںگے۔‘‘