الٰہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار، وکیل اور دیگر الزام ثابت کرنے کیلئے ایک بھی دستاویز پیش نہیں کرسکے۔
EPAPER
Updated: September 04, 2026, 10:57 AM IST | Agency | New Delhi
الٰہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار، وکیل اور دیگر الزام ثابت کرنے کیلئے ایک بھی دستاویز پیش نہیں کرسکے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے وہ عرضی خارج کردی جس میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی پر دوہری شہریت رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ درخواست گزار، وکیل اشوک پانڈے اور دیگر اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ایک بھی دستاویز پیش کرنے میں ناکام رہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا کہ راہل گاندھی ہندوستانی شہری نہیں ہیں بلکہ ان کے پاس برطانوی شہریت ہے۔ جسٹس شیکھر بی صراف اور اودھیش کمار چودھری کی بنچ نے کہا کہ درخواست دہندہ کے ذریعہ صرف ایک دستاویز پر انحصار کیا گیا ہے جو کیمبرج یونیورسٹی کا خط تھا۔
یہ بھی پڑھئے: لوکل ٹرین ایک گھنٹہ کی تاخیر سے آنے پر امبیولی ریلوے اسٹیشن پر ہنگامہ
عدالت نے پہلے ہی اس کیس کی سماعت کے بارے میں شبہات کا اظہار کیا تھا کیونکہ راہل گاندھی کی شہریت سے متعلق ایک شکایت پہلے ہی مرکزی حکومت کے پاس زیر التوا تھی۔ تاہم، درخواست گزار کے اصرار پر الہ آباد ہائی کورٹ کی بنچ نے کیس کی سماعت کی اور اس کے ذریعہ جمع کرائے گئے دستاویزات کی جانچ کی۔ درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی نے ۲۰۰۳ء میں برطانیہ میں ’’بیک آپس لمیٹڈ‘‘ کے نام سے ایک کمپنی بنائی تھی جس میں انہوں نے خود کو برطانوی شہری قرار دیا تھا۔ تاہم، عدالت نے واضح کیا کہ درخواست گزار برطانیہ کے رجسٹرار آف کمپنیز یا کسی سرکاری ریکارڈ سے ایسی کوئی دستاویز پیش کرنے سے قاصر ہے۔عدالت کے سخت تبصروں کے بعد درخواست گزار نے درخواست واپس لینے کی اجازت مانگی جسے قبول کرتے ہوئے ہائی کورٹ نےعرضی خارج کردی۔