Inquilab Logo Happiest Places to Work

مانخورد :منڈالا میں ۳؍ منزلہ مکان منہدم ، ۶؍ افراد کی موت

Updated: July 07, 2026, 12:07 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

مکان گرنے کی علامتیں ظاہر ہونے سے مکینوں نے گھر خالی کردیا تھا جبکہ متاثرہ خاندان منتقل ہونے کیلئے مکان تلاش کررہا تھا ۔ چال مالک اور ٹھیکیدار گرفتار۔

Debris From A Collapsed House In Mandala. Photo: Syed Samir Abidi
منڈالا میں منہدم ہونے والے مکان کا ملبہ۔ تصویر:سیّد سمیرعابدی
مانخورد  کے علاقے منڈالا میں اتوار کی شب تقریباً ساڑھے  آٹھ بجے تین منزلہ مکان اچانک منہدم ہوگیا جس کی وجہ سے ۶؍ افراد کی موت ہوگئی۔  پیر کو اسپتال سے ہی اپنی بیوی اور چاروں بچوں کی لاشوں کے ساتھ معین احمد شاہ اپنے آبائی وطن روانہ ہوگئے۔ اس دوران پولیس نے اس چال کے مالک اور مکان تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار کو گرفتار کرلیا ہے۔حکومت نے اس حادثہ میں فوت ہونے والوں کے ورثہ کیلئے ۴؍ لاکھ روپے معاوضہ کا اعلان کیا ہے۔
اتوار کی شب منڈالا میں ہنومان مندر کے پیچھے جنتا نگر کی چال نمبر ۵؍ میں واقع  ۳؍ منزلہ مکان اچانک اپنے بازو  والے ۳؍ منزلہ مکانوں پر گر گیا۔ منہدم ہونے والے گھر کے بازو کے ۲؍ مکان خالی تھے اور تیسرے گھر میں معین شاہ اپنی بیوی اور چار بچوں کے ساتھ کرایے پر رہتے تھے۔ منہدم ہونے والے گھر کا اوپری حصہ ان کے مکان پر گر گیا جس کی وجہ سے اس میں موجود تمام افراد کی موت ہوگئی۔ معین حادثہ سے تقریباً ۱۰؍ منٹ قبل ہی کسی کام سے گھر سے باہر گئے تھے جس کی وجہ سے وہ بچ گئے۔ 
 
 
اس حادثہ میںمعین کی اہلیہ اختر جہاں (۳۲) اور  بچے مسکان (۱۴)، نہال الدین (۹)، مناف (۷) اور عنابیہ  (۳) کا انتقال ہوگیا۔ حاثہ کے وقت ان کے پڑوسن ۶؍ سالہ عالیہ علائوالدین شیخ کھیلنے کے لئے آئی ہوئی تھی اور گھر گرنے سے وہ بھی فوت ہوگئی۔ پیر کو عصر کی نماز کے بعد عالیہ کا جنازہ تدفین کیلئے رفیع نگر قبرستان لے جایا گیا  ۔ عالیہ کے والد علائو الدین گائوں میں رہتے ہیں لیکن بیٹی کے علاج کیلئے کچھ عرصہ سے مانخورد میں اپنی سسرال میں رہنے آئے تھے۔ اس حادثہ میں  مقامی نوجوان ریحان علی (۲۴) بھی  زخمی ہوگیا   جس کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔
معین شاہ ایک نجی کنٹریکٹر کے پاس سپروائزر کی حیثیت سے ملازمت کرتے تھے۔ 
  ایم آئی ایم کے کارپوریٹر ضمیر قریشی کے مطابق ان کے وارڈ میں چند روز قبل ہی ایک خالی مکان گر گیا تھا لیکن اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ تاہم اس حادثہ کی وجہ سے جو گھر خطرناک حالت میں ہیں ، انہیں خالی کرنے کا نوٹس دینا شروع کردیا گیا تھا اور جو مکان منہدم ہوگیا ہے،  اسے بھی نوٹس دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ منہدم ہونے والے مکان کے باہر کے حصہ میں لگے ٹائلس وغیرہ گرنے لگے تھے  اور بارش کا پانی بھی اندرونی حصہ میں آنے لگا تھا جس کی وجہ سے مکینوں نے یہ گھر خالی کردیا تھا۔ اس سے متصل مکان کی چھت بھی رس رہی تھی جس کی وجہ سے اس میں رہنے والےافراد پہلے ہی دیگر مقام پر منتقل ہوگئے تھے۔ اس کے بازو کی جگہ کو گودام کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور عام طور پر وہ خالی رہتا تھا۔ تیسرا مکان معین شاہ کا تھا اور اس گھر کے گرنے کے ڈر کے سبب وہ بھی دیگر جگہ منتقل ہونے کیلئے گھر تلاش کررہے تھے لیکن کوئی مناسب جگہ نہ ملنے کی وجہ سے وہ منتقل نہیں ہوسکے اور اس دوران یہ حادثہ پیش آگیا۔
  صدمہ سے نڈھال معین شاہ راجا واڑی اسپتال میں ایک جگہ خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے معین شاہ کیلئے ممبئی سے بستی (اتر پردیش ) میں تمام لاشیں ان کے آبائی وطن لے جانے کا انتظام کیا  ۔ ابو عاصم اعظمی نے انقلاب سے گفتگو کے دوران کہا کہ بی ایم سی افسران اور پولیس کی رشوت خوری سے ہی غیر قانونی تعمیرات ہوتی ہیں۔ شیو سینا نے ۱۹۹۵ء  میں  اعلان کیا تھا کہ قانونی قرار دیئے گئے جھوپڑوں کو ایس آر اے اسکیم کے تحت پکے مکان دیئے جائیں گے اور نئے جھوپڑے نہیں بننے دیئے جائیں گے لیکن آج تک سب کچھ ویسا ہی چل رہا ہے اور کسی افسر کے خلاف آج تک کارروائی نہیں ہوئی۔ 
 
 
مانخورد پولیس نے  غیرارادتاً قتل کا کیس درج کرکے   اس چال کے مالک اور  مکان کو تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار کو گرفتار کرلیا ہے جن کے نام عبدالواحد اور غلام رضا سید بتائے گئے ہیں جنہیں عدالت نے پولیس تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK